شاعری

اک بار اپنا ظرف نظر دیکھ لیجئے

اک بار اپنا ظرف نظر دیکھ لیجئے پھر چاہے جس کے عیب و ہنر دیکھ لیجئے کیا جانے کس مقام پہ کس شے کی ہو طلب چلنے سے پہلے زاد سفر دیکھ لیجئے ہو جائے گا خود آپ کو احساس بے رخی گر آپ میرا زخم جگر دیکھ لیجئے سب کی طرف ہے آپ کی چشم نوازشات کاش ایک بار آپ ادھر دیکھ لیجئے تارے میں توڑ لاؤں ...

مزید پڑھیے

ہر قدم مرحلۂ صبر و رضا ہو جیسے

ہر قدم مرحلۂ صبر و رضا ہو جیسے زندگی معرکۂ کرب و بلا ہو جیسے یوں گزر جاتے ہیں دنیا سے عدم کے راہی رہ میں نقش قدم راہنما ہو جیسے چپ ہوئے جاتے ہیں یوں دیکھ کے صورت میری حال میرا مرے چہرے پہ لکھا ہو جیسے اس طرح کاٹ رہا ہوں میں شب و روز حیات ہر نفس اپنے لئے ایک سزا ہو جیسے دشت میں ...

مزید پڑھیے

یوں تجھ سے دور دور رہوں یہ سزا نہ دے

یوں تجھ سے دور دور رہوں یہ سزا نہ دے اب اور زندہ رہنے کی مجھ کو دعا نہ دے اب احتیاط شدت گریہ نہ پوچھئے ڈرتا ہوں میں وہ سن کے کہیں مسکرا نہ دے لو میں نے دل کی اس سے لگائی تو ہے مگر ڈر ہے یہ شمع غم کہیں دامن جلا نہ دے کہنا تو ہے مجھے بھی حدیث غم حیات لب کھولنے کی کاش اجازت زمانہ ...

مزید پڑھیے

ہنگامہ کیوں بپا ہے ذرا بام پر سے دیکھ

ہنگامہ کیوں بپا ہے ذرا بام پر سے دیکھ شعلے بلند ہوتے ہیں یہ کس کے گھر سے دیکھ بکھریں نہ یہ زمیں پہ کہیں چشم تر سے دیکھ پلکوں تک آ گئے ہیں جو چل کر جگر سے دیکھ اے دوست پیرویٔ کلیمانہ ہے عبث جلووں کو اس کے تو نگہۂ معتبر سے دیکھ یوں سر اٹھا کے دیکھ نہ تو جانب فلک یہ تاج تمکنت نہ گرے ...

مزید پڑھیے

سانس لینا بھی بار ہوتا ہے

سانس لینا بھی بار ہوتا ہے جب ترا انتظار ہوتا ہے آتا ہے جب بہار کا موسم جب جنوں استوار ہوتا ہے ذکر کیا دامن و گریباں کا پیرہن تار تار ہوتا ہے آپ رونے سے منع کرتے ہیں رونے پر اختیار ہوتا ہے ہے حقیقت یہی کہ ہر چہرہ دل کا آئینہ دار ہوتا ہے اے مرے دل سکوں سکوں ہے مگر انتشار انتشار ...

مزید پڑھیے

میں اضطراب میں ہوں شام سے سحر کے لئے

میں اضطراب میں ہوں شام سے سحر کے لئے کوئی چراغ عطا کر دے رات بھر کے لئے خدا بچائے تمہیں ایسی ویسی نظروں سے گلے میں ڈال لو تعویذ تم نظر کے لئے قفس نصیب ہیں نا آشنائے آزادی یہ قید ایک چنوتی ہے بال و پر کے لئے نگاہ برق میں وہ خار سے کھٹکنے لگے جو تنکے جمع کئے ہم نے اپنے گھر کے ...

مزید پڑھیے

کبھی اہل محبت یوں نہ خوف جسم و جاں کرتے

کبھی اہل محبت یوں نہ خوف جسم و جاں کرتے اگر شیخ و برہمن جشن ناقوس و اذاں کرتے نوازش کاش مجھ پر اتنی میرے مہرباں کرتے کبھی دل کی تسلی کے لئے بھولے سے ہاں کرتے ہمارے جذبۂ تعمیر سے ہوتے اگر واقف تو صدیوں برق کے شعلے طواف آشیاں کرتے فسردہ یوں نہ ہوتے غنچہ و گل موسم گل میں اگر دل سے ...

مزید پڑھیے

قلم ہو جائے سر پروا نہ کرنا

قلم ہو جائے سر پروا نہ کرنا امیر شہر کو سجدہ نہ کرنا کیا ترک تعلق تم نے بہتر مگر اس کا کہیں چرچا نہ کرنا مجھے تربت میں از حد عافیت ہے مسیحا اب مجھے زندہ نہ کرنا بڑھاتا ہے کسل دورئ منزل خیال وسعت صحرا نہ کرنا کٹھن ہو جائے گی منزل شناسی کبھی مسخ ان کا نقش پا نہ کرنا محبت میں یہ ...

مزید پڑھیے

ہوں تم کو مبارک لعل و گہر ہم لے کے یہ دولت کیا کرتے

ہوں تم کو مبارک لعل و گہر ہم لے کے یہ دولت کیا کرتے ہر شے کو فنا ہونا ہے اگر تو دھن سے محبت کیا کرتے صد شکر وہ تھے مائل بہ کرم مرعوب تھے رعب حسن سے ہم ان سے احوال دل پر غم کہنے کی جسارت کیا کرتے ہم سہتے رہے ظلم اور جفا یہ سوچ کے منہ سے کچھ نہ کہا ٹلتا ہے کہیں قسمت کا لکھا پھر ان سے ...

مزید پڑھیے

ہر سو جہاں میں شام و سحر ڈھونڈتے ہیں ہم

ہر سو جہاں میں شام و سحر ڈھونڈتے ہیں ہم جو دل میں گھر کرے وہ نظر ڈھونڈتے ہیں ہم ان بستیوں کو پھونک کے خود اپنے ہاتھ سے اپنے نگر میں اپنا وہی گھر ڈھونڈتے ہیں ہم جز ریگ زار کچھ بھی نہیں تا حد نگاہ صحرا میں سایہ دار شجر ڈھونڈتے ہیں ہم تسلیم ہے کہ جڑتا نہیں ہے شکستہ دل پھر بھی دکان ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4346 سے 4657