شاعری

یہ کون میری تشنگی بڑھا بڑھا کے چل دیا

یہ کون میری تشنگی بڑھا بڑھا کے چل دیا کہ لو چراغ درد کی بڑھا بڑھا کے چل دیا یہ میرا دل ہی جانتا ہے کتنا سنگ دل ہے وہ کہ مجھ سے اپنی دوستی بڑھا بڑھا کے چل دیا بچھڑ کے اس سے زندگی وبال جان ہو گئی وہ دل میں شوق خودکشی بڑھا بڑھا کے چل دیا کروں تو اب میں کس سے اپنی وسعت نظر کی بات وہ ...

مزید پڑھیے

ہیں سو طرح کے رنگ ہر اک نقش پا میں دیکھ

ہیں سو طرح کے رنگ ہر اک نقش پا میں دیکھ انساں کا حسن آئنۂ ارتقا میں دیکھ یوں ہی نہیں یہ برتریٔ نسل آدمی گزرے ہیں کیسے حادثے سعئ بقا میں دیکھ صرف نظر ہیں وقت کی پنہائیاں تمام دنیائے نارسا مری فکر رسا میں دیکھ یہ روشنی تو لو ہے اسی اک چراغ کی تزئین دہر ذہن کی نشو و نما میں ...

مزید پڑھیے

دن میں چراغ شام جلایا تھا ان دنوں

دن میں چراغ شام جلایا تھا ان دنوں اک شخص میرے شہر میں آیا تھا ان دنوں میرا بھی حال ان دنوں کچھ تھا عجیب سا اس کا بھی دل کسی نے دکھایا تھا ان دنوں سکے کسی کی یاد کے آنچل میں بھر لئے چھن چھن انہیں بھی خوب ہلایا تھا ان دنوں کب تک رہے گی بے بسی ارباب-اختیار ہم نے بھی یہ سوال اٹھایا ...

مزید پڑھیے

میں ہنس رہا تھا گرچہ مرے دل میں درد تھا

میں ہنس رہا تھا گرچہ مرے دل میں درد تھا یہ راز کھل گیا تو مرا چہرہ زرد تھا اچھا ہوا کہ آپ نے دامن جھٹک دیا میرا وجود آپ کے دامن پہ گرد تھا خود اپنی ذات کے نہ کسی کام آ سکے وہ لوگ جن کے دل میں زمانے کا درد تھا کتنے عروج پر تھی مری شدت طلب تم مل گئے تو شوق کا ہر جذبہ سرد ...

مزید پڑھیے

ظلمتوں میں گو ٹھہرنے کو ٹھہر جاتے ہیں لوگ

ظلمتوں میں گو ٹھہرنے کو ٹھہر جاتے ہیں لوگ اہل‌‌ منزل کی نگاہوں سے اتر جاتے ہیں لوگ کل تلک تو حسن کی معصومیت مشکوک تھی اب خلوص عشق پر بھی چوٹ کر جاتے ہیں لوگ راہ میں اب وہ در جاناں ہو یا دیر و حرم سر اٹھائے بے نیازانہ گزر جاتے ہیں لوگ زندگی کی بے ثباتی کا کوئی رونا نہیں ہائے وہ ...

مزید پڑھیے

ہر اک شے پر بہار زندگی محسوس کرتا ہوں

ہر اک شے پر بہار زندگی محسوس کرتا ہوں مگر با‌ ایں ہمہ تیری کمی محسوس کرتا ہوں بھٹک کر بھی کبھی منزل سے بیگانہ نہیں ہوتا کسی کی غائبانہ رہبری محسوس کرتا ہوں میں اپنے دل پہ رکھ لیتا ہوں تہمت بد گمانی کی اگر تیری طرف سے بے رخی محسوس کرتا ہوں یہ دنیا اجنبی پہلے بھی تھی اور اب بھی ...

مزید پڑھیے

شاعرو حد قدامت سے نکل کر دیکھو

شاعرو حد قدامت سے نکل کر دیکھو داستانوں کے اب عنوان بدل کر دیکھو کیوں ہو تقلید کلیم آج بھی اے دیدہ ورو دیدنی ہو کوئی جلوہ تو سنبھل کر دیکھو شمع و پروانہ کا انداز نیا ہے کہ نہیں ذکر تھا جس کا اب اس بزم میں چل کر دیکھو اور بھی رخ نظر آئیں گے تجلی کے ابھی رخ نگاہوں کے ذرا اور بدل کر ...

مزید پڑھیے

نظر سے صفحۂ عالم پہ خونیں داستاں لکھیے

نظر سے صفحۂ عالم پہ خونیں داستاں لکھیے قلم سے کیا حکایات زمین و آسماں لکھیے مٹا دے جو فضا کی تیرگی ماحول کی پستی کوئی ایسا بھی شعر اے شاعران خوش بیاں لکھیے بپا ہیں ہر جہت میں آتش و آہن کے ہنگامے کہاں اس دور میں جور و جفائے مہوشاں لکھیے خطر ہائے رہ مجنوں کا قصہ کیوں بیاں ...

مزید پڑھیے

فسردہ ہو کے میخانے سے نکلے

فسردہ ہو کے میخانے سے نکلے یہاں بھی اپنے بیگانے سے نکلے شفق کا رنگ گہرا کر گئے اور جو شعلے میرے کاشانے سے نکلے ذرا اے گردش دوراں ٹھہرنا وہ نکلے رند میخانے سے نکلے غم دل کا اثر ہر بزم میں ہے سب افسانے اس افسانے سے نکلے کیا آباد ویرانے کو ہم نے ہمیں آباد ویرانے سے نکلے جو پہنچے ...

مزید پڑھیے

کیفیت کیا تھی یہاں عالم غم سے پہلے

کیفیت کیا تھی یہاں عالم غم سے پہلے کون آیا تھا تری بزم میں ہم سے پہلے سب کرم ہے ترے انداز ستم سے اے دوست ذوق غم دل کو نہ تھا تیرے ستم سے پہلے بندگی تیری خدائی سے بہت ہے آگے نقش سجدہ ہے ترے نقش قدم سے پہلے قلب انساں کو ہے اب پھر اسی عالم کی تلاش تیری محفل تھی جہاں دیر و حرم سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4336 سے 4657