شاعری

نگہ شوق سے حسن گل و گلزار تو دیکھ

نگہ شوق سے حسن گل و گلزار تو دیکھ آنکھیں کھل جائیں گی یہ منظر دلدار تو دیکھ پیکر شاہد ہستی میں ہے اک آنچ نئی لذت دید اٹھا شعلۂ رخسار تو دیکھ شوخئ نقش کوئی حادثۂ وقت نہیں معجزہ کاریٔ خون دل فن کار تو دیکھ ہر دکاں اپنی جگہ حیرت نظارہ ہے فکر انساں کے سجائے ہوئے بازار تو دیکھ بن ...

مزید پڑھیے

دہکتے کچھ خیال ہیں عجیب عجیب سے

دہکتے کچھ خیال ہیں عجیب عجیب سے کہ ذہن میں سوال ہیں عجیب عجیب سے تھا آفتاب صبح کچھ تو شام کو کچھ اور عروج اور زوال ہیں عجیب عجیب سے ہر ایک شاہراہ پر دکانوں میں سجے طرح طرح کے مال ہیں عجیب عجیب سے وہ پاس ہو کے دور ہے تو دور ہو کے پاس فراق اور وصال ہیں عجیب عجیب سے نکلنا ان سے بچ ...

مزید پڑھیے

کہکشاں کے تناظر میں ہم کیا ہمارا ستارہ ہے کیا

کہکشاں کے تناظر میں ہم کیا ہمارا ستارہ ہے کیا ان گنت آفتابوں کی اقلیم میں اک شرارہ ہے کیا کون سمجھے زباں برگ و اشجار کی دشت و کہسار کی کون جانے کہ اس بے کراں خامشی میں اشارہ ہے کیا ہم محبت کو اک منصب عاشقانہ سمجھتے رہے یہ نہ سوچا محبت کی سوداگری میں خسارہ ہے کیا یہ طلسم تماشا ...

مزید پڑھیے

جب صبح کی دہلیز پہ بازار لگے گا

جب صبح کی دہلیز پہ بازار لگے گا ہر منظر شب خواب کی دیوار لگے گا پل بھر میں بکھر جائیں گے یادوں کے ذخیرے جب ذہن پہ اک سنگ گراں بار لگے گا گوندھے ہیں نئی شب نے ستاروں کے نئے ہار کب گھر مرا آئینۂ انوار لگے گا گر سیل خرافات میں بہہ جائیں یہ آنکھیں ہر حرف یقیں کلمۂ انکار لگے ...

مزید پڑھیے

ستم زدہ کئی بشر قدم قدم پہ تھے

ستم زدہ کئی بشر قدم قدم پہ تھے شکستہ دل شکستہ گھر قدم قدم پہ تھے ملے ہیں رہزنوں کی صف میں وہ بھی آخرش شریک رہ جو راہ بر قدم قدم پہ تھے ہوا گزر ہمارا کیسے شہر علم میں کہ نکتہ داں و دیدہ ور قدم قدم پہ تھے ہے کیا عجب کہ خواب تھا وہ منظر حسیں ہزاروں لوگ خوش نظر قدم قدم پہ تھے تھے جوق ...

مزید پڑھیے

بس اک تسلسل تکرار قرب و دوری تھا

بس اک تسلسل تکرار قرب و دوری تھا وصال و ہجر کا ہر مرحلہ عبوری تھا مری شکست بھی تھی میری ذات سے منسوب کہ میری فکر کا ہر فیصلہ شعوری تھا تھی جیتی جاگتی دنیا مری محبت کی نہ خواب کا سا وہ عالم کہ لا شعوری تھا تعلقات میں ایسا بھی ایک موڑ آیا کہ قربتوں پہ بھی دل کو گمان دوری ...

مزید پڑھیے

دور تک بس اک دھندلکا گرد تنہائی کا تھا

دور تک بس اک دھندلکا گرد تنہائی کا تھا راستوں کو رنج میری آبلہ پائی کا تھا فصل گل رخصت ہوئی تو وحشتیں بھی مٹ گئیں ہٹ گیا سایہ جو اک آسیب صحرائی کا تھا توڑ ہی ڈالا سمندر نے طلسم خود سری زعم کیا کیا ساحلوں کو اپنی پہنائی کا تھا اور مبہم ہو گیا پیہم ملاقاتوں کے ساتھ وہ جو اک موہوم ...

مزید پڑھیے

سایوں سے بھی ڈر جاتے ہیں کیسے کیسے لوگ

سایوں سے بھی ڈر جاتے ہیں کیسے کیسے لوگ جیتے جی ہی مر جاتے ہیں کیسے کیسے لوگ چھوڑ کے مال و دولت ساری دنیا میں اپنی خالی ہاتھ گزر جاتے ہیں کیسے کیسے لوگ بجھے دلوں کو روشن کرنے سچ کو زندہ رکھنے جان سے اپنی گزر جاتے ہیں کیسے کیسے لوگ عقل و خرد کے بل بوتے پر سب کو حیراں کر کے کام ...

مزید پڑھیے

جن کے نصیب میں آب و دانہ کم کم ہوتا ہے

جن کے نصیب میں آب و دانہ کم کم ہوتا ہے مائل ان کی سمت زمانہ کم کم ہوتا ہے رستے ہی میں ہو جاتی ہیں باتیں بس دو چار اب تو ان کے گھر بھی جانا کم کم ہوتا ہے مشکل ہی سے کر لیتی ہے دنیا اسے قبول ایسی حقیقت جس میں فسانہ کم کم ہوتا ہے کبھی جو باتیں عشق کے سال و سن کا حاصل تھیں اب ان باتوں ...

مزید پڑھیے

عطا ہوئی کسے سند نظر نظر کی بات ہے

عطا ہوئی کسے سند نظر نظر کی بات ہے ہوا ہے کون نامزد نظر نظر کی بات ہے گل و ستارہ و قمر سبھی حسین ہیں مگر ہے کون ان میں مستند نظر نظر کی بات ہے اضافی اعتبار ہے تعین مقام بھی ہے پست بھی بلند قد نظر نظر کی بات ہے برے بھلے میں فرق ہے یہ جانتے ہیں سب مگر ہے کون نیک کون بد نظر نظر کی بات ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4332 سے 4657