شاعری

کھل کے برسنا اور برس کر پھر کھل جانا دیکھا ہے

کھل کے برسنا اور برس کر پھر کھل جانا دیکھا ہے ہم سے پوچھو!! ان آنکھوں کا ایک زمانہ دیکھا ہے تم نے کیسے مان لیا وہ تھک کر بیٹھ گیا ہوگا تم نے تو خود اپنی آنکھوں سے وہ دیوانا دیکھا ہے منزل تک پہنچیں کہ نہ پہنچیں راہ مگر اپنی ہوگی تو رہنے دے واعظ تیرا راہ بتانا دیکھا ہے دھول کا اک ...

مزید پڑھیے

عرض کچھ کرنا تھا فرصت ہو اگر

عرض کچھ کرنا تھا فرصت ہو اگر بول دوں تم سے محبت ہو اگر قدموں پر تیرے دوبارہ ہوں فدا جسم میں تھوڑی بھی حرکت ہو اگر وصل‌ و فرقت کی حدوں سے تو نکل بس محبت ہو محبت ہو اگر کچھ نہ ہو دل میں نہ یادیں ہوں نہ آس ایسے رخصت ہو تو رخصت ہو اگر یاد آتا بھی نہیں اب میں تمہیں یاد آ جاؤں اجازت ہو ...

مزید پڑھیے

نہ نظر سے کوئی گزر سکا نہ ہی دل سے ملبہ ہٹا سکا

نہ نظر سے کوئی گزر سکا نہ ہی دل سے ملبہ ہٹا سکا نہ وہ در بچا نہ وہ گھر بچا تیرے بعد کوئی نہ آ سکا نہ وہ حس کسی میں نہ تاب ہے مرا غم تو خیر اٹھائے کون وہ جو مصرعہ غم کا تھا ترجماں کوئی اس کو بھی نہ اٹھا سکا کبھی خوف تھا ترے ہجر کا کبھی آرزو کے زوال کا رہا ہجر و وصل کے درمیاں تجھے کھو ...

مزید پڑھیے

نہ دل کی بے بسی دیکھی نہ آنکھوں کی زباں سمجھے

نہ دل کی بے بسی دیکھی نہ آنکھوں کی زباں سمجھے مرے شکوے کو تم بھی صرف انداز بیاں سمجھے محبت اور کوئی بات سننے ہی نہیں دیتی کسی کی گفتگو نکلی ہم ان کی داستاں سمجھے ہمارے دل سے اٹھتا ہے دھواں بجلی کہیں ٹوٹے چمن کے گوشے گوشے کو ہم اپنا آشیاں سمجھے محبت میں نہ دامن کا بھروسہ ہے نہ ...

مزید پڑھیے

ہمارے خواب تنہا ہیں ہمارے غم اکیلے ہیں

ہمارے خواب تنہا ہیں ہمارے غم اکیلے ہیں گھرے ہیں کتنے ہنگاموں میں پھر بھی ہم اکیلے ہیں تمہارے پاس بھی سوکھے ہوئے کچھ پھول ہیں تنہا ہمارے ساتھ بھی کھوئے ہوئے موسم اکیلے ہیں چلے آؤ کہ دل کی دھڑکنوں میں نغمگی بھر دیں تمہارا ساز تنہا ہے مرے سرگم اکیلے ہیں بھری محفل میں یہ احساس ...

مزید پڑھیے

ہماری پیاس افسانہ بنی ہے

ہماری پیاس افسانہ بنی ہے یہی موضوع مے خانہ بنی ہے ہمارے دل کی حالت کون جانے ہماری وضع شاہانہ بنی ہے محبت نے بھرے دل میں وہ شعلے ذرا سی خاک پروانہ بنی ہے لٹا دی جس پہ دنیا وہ نظر بھی ہمارے غم سے بیگانہ بنی ہے اسی دنیا کے اک گوشے میں یا رب مری دنیا جداگانہ بنی ہے کھنکتی گونجتی ...

مزید پڑھیے

دور دور منزل کا کچھ پتا نہیں ملتا

دور دور منزل کا کچھ پتا نہیں ملتا رات کے مسافر کو راستہ نہیں ملتا وہ ترا ستم جس پر دل کو پیار آتا ہے یہ مری وفا جس کا کچھ صلہ نہیں ملتا درد کے سمندر میں دل کی ناؤ ڈوبی تھی تم کہاں تھے ایسے میں کچھ پتہ نہیں ملتا سب غم محبت کا جبر سہہ نہیں سکتے سب کو زہر پینے کا حوصلہ نہیں ...

مزید پڑھیے

اکیلے اکیلے ہی پا لی رہائی

اکیلے اکیلے ہی پا لی رہائی مجھے مارے جاتی ہے تیری جدائی یہ آہنگ نغمہ یہ رنگ تغزل ہر اک چیز تیری ہی خاطر رچائی مری جاں یہ کیسا ستم وقت کا ہے ہے میری ہی قسمت میں نوحہ سرائی ستاروں کی گردش دلوں کا بچھڑنا یہ کیسے خدا کی ہے کیسی خدائی نہ پوچھو ابھی حال آہنؔ کا یارو کبھی جاں بہ لب ہے ...

مزید پڑھیے

جلا کے دل کو رکھا صبح و شام روز و شب (ردیف .. ن)

جلا کے دل کو رکھا صبح و شام روز و شب مرا کمال کمال چراغ ہے کہ نہیں رہا ہے مشت تراب ازل مرا منبع مری یہ خاک کمال ایاغ ہے کہ نہیں مجھے بنایا سراپا سوال اب تو بتا مری تلاش کمال سراغ ہے کہ نہیں غم وجود کا ماتم کروں تو کیسے جیوں مگر خدا ترے دامن پہ داغ ہے کہ نہیں جو کھو گیا ترا آہنؔ ...

مزید پڑھیے

میں محفل حیات میں حیران سا رہا

میں محفل حیات میں حیران سا رہا ہر ایک کی نگاہ میں انجان سا رہا کچھ کر سکا نہ شام تلک راہ شوق میں ہر پل ہر ایک گام پہ بے جان سا رہا پلکیں اٹھا کے دیکھ سکا میں نہ ایک بار میرا خرد جنوں کا نگہبان سا رہا راہ حیات میں نہ ملی ایک پل خوشی غم کا یہ بوجھ دوش پہ سامان سا رہا بوے گل و سمن کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4323 سے 4657