یہ سارے پھول یہ پتھر اسی سے ملتے ہیں
یہ سارے پھول یہ پتھر اسی سے ملتے ہیں تو اے عزیز ہم اکثر اسی سے ملتے ہیں خدا گواہ کہ ان میں وہی ہلاکت ہے یہ تیغ و تیر یہ خنجر اسی سے ملتے ہیں وہ ایک بار نہیں ہے ہزار بار ہے وہ سو ہم اسی سے بچھڑ کر اسی سے ملتے ہیں بچھا ہوا ہے وہ گویا بساط کی صورت یہ سب سفید و سیہ گھر اسی سے ملتے ...