شاعری

یہ سارے پھول یہ پتھر اسی سے ملتے ہیں

یہ سارے پھول یہ پتھر اسی سے ملتے ہیں تو اے عزیز ہم اکثر اسی سے ملتے ہیں خدا گواہ کہ ان میں وہی ہلاکت ہے یہ تیغ و تیر یہ خنجر اسی سے ملتے ہیں وہ ایک بار نہیں ہے ہزار بار ہے وہ سو ہم اسی سے بچھڑ کر اسی سے ملتے ہیں بچھا ہوا ہے وہ گویا بساط کی صورت یہ سب سفید و سیہ گھر اسی سے ملتے ...

مزید پڑھیے

میں زیر سایہ کہیں محو خواب تھا بھی نہیں

میں زیر سایہ کہیں محو خواب تھا بھی نہیں کہ آ کے دھوپ جگاتی میں جاگتا بھی نہیں حریم ناز مری دسترس سے دور تو ہے مرے جہان تخیل سے ماورا بھی نہیں یہی ہے عدل تو ایسے نظام عدل پہ خاک ہے فرد جرم بھی عائد مری خطا بھی نہیں ہم اپنی جان کے دشمن کو اپنا دوست کہیں ہمارے پاس کوئی اور راستہ ...

مزید پڑھیے

رو رو کے بیاں کرتے پھرو رنج و الم خوب

رو رو کے بیاں کرتے پھرو رنج و الم خوب حاصل نہیں کچھ بھی جو نہ ہو رنگ قلم خوب بازار میں اک چیز نہیں کام کی میرے یہ شہر مری جیب کا رکھتا ہے بھرم خوب منزل تو کسی خاص کو ہی ملتی ہے، ورنہ دیکھے تو سبھی نے ہیں مرے نقش قدم خوب یہ ٹھیک ہے رشتے میں بندھا رہتا ہے اب دل اس کعبے میں ہوتا تھا ...

مزید پڑھیے

الگ الگ تاثیریں ان کی، اشکوں کے جو دھارے ہیں

الگ الگ تاثیریں ان کی، اشکوں کے جو دھارے ہیں عشق میں ٹپکیں تو ہیں موتی، نفرت میں انگارے ہیں تم سے مل کر کھل اٹھتا تھا، تم سے چھوٹ کے پھیکا ہوں اے رنگریز مرے چہرے کے سارے رنگ تمہارے ہیں گرمی کی لو میں تپنے کے بعد ہی پانی کا ہے مزہ تجھ کو جیتنا آساں تھا، ہم جان کے تجھ کو ہارے ...

مزید پڑھیے

دکھے دلوں پہ جو پڑ جائے وہ طبیب نظر

دکھے دلوں پہ جو پڑ جائے وہ طبیب نظر تو باغ دل میں بھی آ جائیں عندلیب نظر ہر ایک صبح وضو کرتی ہیں مری آنکھیں کہ شاید آج تو آ جائے وہ حبیب نظر اسی طرح سے رہ یار کو تکے جانا حد نظر کو گرا دے گی عن قریب نظر تو انتظار سے چھٹ کر ہے خوش مگر مجھ کو گھڑی جدائی کی آنے لگی قریب نظر بجھا دو ...

مزید پڑھیے

اتنا کرم اتنی عطا پھر ہو نہ ہو

اتنا کرم اتنی عطا پھر ہو نہ ہو تم سے صنم وعدہ وفا پھر ہو نہ ہو یہ ہی ہیں دن، باغی اگر بننا ہے بن تجھ پر ستم کس کو پتا پھر ہو نہ ہو شاید یہ منظر اس کے آنے تک ہی ہو آنکھوں میں دم اٹکا ہوا پھر ہو نہ ہو منزل تک اپنا ساتھ ہے، گاتے چلیں تو ہم قدم تو ہم نوا پھر ہو نہ ہو آگے تھکن کر دے نہ کم ...

مزید پڑھیے

گل تھا بلبل تھی گلستاں میں مگر تو ہی نہ تھا

گل تھا بلبل تھی گلستاں میں مگر تو ہی نہ تھا کیا گلستاں وہ گلستاں تھا اگر تو ہی نہ تھا شور و ہنگامہ تو عاشق کو نہیں دیتا ہے زیب سب ہی زخمی تھے وہاں زیر و زبر تو ہی نہ تھا رنگ کتنے تھے مگر تجھ کو نہ تھا شوق حیات ہم سفر کتنے تھے مشتاق سفر تو ہی نہ تھا چاہ شہرت کہ نہ کر پر تو یوں رسوا ...

مزید پڑھیے

زندگی روز بناتی ہے بہانے کیا کیا

زندگی روز بناتی ہے بہانے کیا کیا جانے رہتے ہیں ابھی کھیل دکھانے کیا کیا صرف آنکھوں کی نمی ہی تو نہیں مظہر غم کچھ تبسم بھی جتا دیتے ہیں جانے کیا کیا کھٹکیں اس آنکھ میں تو دھڑکیں کبھی اس دل میں در بدر ہو کے بھی اپنے ہیں ٹھکانے کیا کیا بول پڑتا تو مری بات مری ہی رہتی خامشی نے ہیں ...

مزید پڑھیے

اتراتا گریباں پر تھا بہت، رہ عشق میں کب کا چاک ہوا

اتراتا گریباں پر تھا بہت، رہ عشق میں کب کا چاک ہوا وہ قصۂ آزادانہ روی، اس زلف کے ہاتھوں پاک ہوا کیا کیا نہ پڑھا اس مکتب میں، کتنے ہی ہنر سیکھے ہیں یہاں اظہار کبھی آنکھوں سے کیا کبھی حد سے سوا بے باک ہوا جس دن سے گیا وہ جان غزل ہر مصرعے کی صورت بگڑی ہر لفظ پریشاں دکھتا ہے، اس ...

مزید پڑھیے

خط جو تیرے نام لکھا، تکیے کے نیچے رکھتا ہوں

خط جو تیرے نام لکھا، تکیے کے نیچے رکھتا ہوں جانے کس امید پہ یہ تعویذ دبا کے رکھتا ہوں تاکہ اک اک لفظ مرے لہجے میں تجھ سے بات کرے خط کے ہر ہر لفظ کو خط پر خوب پڑھا کے رکھتا ہوں آس پہ تیری بکھرا دیتا ہوں کمرے کی سب چیزیں آس بکھرنے پر سب چیزیں خود ہی اٹھا کے رکھتا ہوں ایک ذرا سا درد ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4322 سے 4657