شاعری

تری آشنائی سے تیری رضا تک

تری آشنائی سے تیری رضا تک مری بات پہنچی ہے اب انتہا تک وہ پہلی نظر جس سے گھائل ہوا تھا وہ پہلی خطا تھی جو پہنچی خطا تک تری شوخیوں نے بھی جرأت بڑھا دی یوں ہی ہاتھ میرے نہ پہنچے ردا تک کہاں تک تعاقب میں پھرتا رہا میں نشاں تک زباں تک ادا تک لقا تک وہ جادو ادائیں اداؤں میں جادو یہ ...

مزید پڑھیے

یہ غازہ ہے کاجل ہے ابٹن ہے کیا ہے

یہ غازہ ہے کاجل ہے ابٹن ہے کیا ہے یہ رنگ حنا داغ دامن ہے کیا ہے لٹک ہے مٹک ہے جھٹک ہے ادا ہے کھٹک ہے دھڑک ہے کہ دھڑکن ہے کیا ہے حیا کی بہاریں ہیں رعنائیوں پر یہ جلوہ ہے مستی ہے جوبن ہے کیا ہے یہ پھیلی ہوئی خوشبوؤں کی گھٹائیں یہ گیسو ہے کاکل ہے الجھن ہے کیا ہے تبسم کی بجلی قیامت ...

مزید پڑھیے

لگا کے آگ بجھانے کی بات کرتے ہو

لگا کے آگ بجھانے کی بات کرتے ہو پھپھولے دل میں سجانے کی بات کرتے ہو نہیں سمجھتے مری حالت دروں کو تم فقط جو کرتے بہانے کی بات کرتے ہو سناؤں میں جو کبھی حال اپنی الفت کا ثبوت مجھ سے دکھانے کی بات کرتے ہو گزار کر میں یہاں آیا ہوں شب ظلمت کرم نہ کر کے جلانے کی بات کرتے ہو جو پوچھتا ...

مزید پڑھیے

ہم آج بزم رقیباں سے سرخ رو آئے

ہم آج بزم رقیباں سے سرخ رو آئے یہ ہے عجیب کہ اب وہ بھی ہو بہ ہو آئے ہے کون یاں جو نہیں جام و مے کا شیدائی یہ کب ہو آپ ہی چل کر کہیں سبو آئے سبھی نے جان دی تیری گلی میں اے ہمدم کسے مجال کہ اب تیرے رو بہ رو آئے ترے فراق میں ہم نے بہائے اشک جگر یہ سب نے چاہا مگر آئے تو لہو آئے ہے اب ...

مزید پڑھیے

یہ ترے لمس کا احساس جواں تر ہو جائے

یہ ترے لمس کا احساس جواں تر ہو جائے یہ ترے قرب میں ہر سانس جواں تر ہو جائے چاہ اک دیر سے اک راہ تکا کرتی ہے آؤ پہلے کہ وہاں گھاس جواں تر ہو جائے ہیں کئی چہرے گزرتے ہوئے راہ دل سے دیکھیے کون سا الماس جواں تر ہو جائے رسم دنیا کے سلاسل میں گرفتاری ہے مت ٹھہرنا کہ کہیں پھانس جواں تر ...

مزید پڑھیے

رستے کا انتخاب ضروری سا ہو گیا

رستے کا انتخاب ضروری سا ہو گیا اب اختتام باب ضروری سا ہو گیا ہم چپ رہے تو اور بھی الزام آئے گا اب کچھ نہ کچھ جواب ضروری سا ہو گیا ہم ٹالتے رہے کہ یہ نوبت نہ آنے پائے پھر ہجر کا عذاب ضروری سا ہو گیا ہر شام جلد سونے کی عادت ہی پڑ گئی ہر رات ایک خواب ضروری سا ہو گیا آہوں سے ٹوٹتا ...

مزید پڑھیے

مرا ہے کون دشمن میری چاہت کون رکھتا ہے

مرا ہے کون دشمن میری چاہت کون رکھتا ہے اسی پر سوچتے رہنے کی فرصت کون رکھتا ہے مکینوں کے تعلق ہی سے یاد آتی ہے ہر بستی وگرنہ صرف بام و در سے الفت کون رکھتا ہے نہیں ہے نرخ کوئی میرے ان اشعار تازہ کا یہ میرے خواب ہیں خوابوں کی قیمت کون رکھتا ہے در خیمہ کھلا رکھا ہے گل کر کے دیا ہم ...

مزید پڑھیے

ترک تعلق کر تو چکے ہیں اک امکان ابھی باقی ہے

ترک تعلق کر تو چکے ہیں اک امکان ابھی باقی ہے ایک محاذ سے لوٹ آئے ہیں اک میدان ابھی باقی ہے شاید اس نے ہنسی ہنسی میں ترک وفا کا ذکر کیا ہو یونہی سی اک خوش فہمی ہے اطمینان ابھی باقی ہے راتیں اس کے ہجر میں اب بھی نزع کے عالم میں کٹتی ہیں دل میں ویسی ہی وحشت ہے تن میں جان ابھی باقی ...

مزید پڑھیے

زخموں کا دوشالہ پہنا دھوپ کو سر پر تان لیا

زخموں کا دوشالہ پہنا دھوپ کو سر پر تان لیا کیا کیا ہم نے کشٹ کمائے کہاں کہاں نروان لیا نقش دیے تری آشاؤں کو عکس دیے ترے سپنوں کو لیکن دیکھ ہماری حالت وقت نے کیا تاوان لیا اشکوں میں ہم گوندھ چکے تھے اس کے لمس کی خوشبو کو موم کے پھول بنانے بیٹھے لیکن دھوپ نے آن لیا برسوں بعد ہمیں ...

مزید پڑھیے

کیسے کہیں کہ جان سے پیارا نہیں رہا

کیسے کہیں کہ جان سے پیارا نہیں رہا یہ اور بات اب وہ ہمارا نہیں رہا آنسو ترے بھی خشک ہوئے اور میرے بھی نم اب کسی ندی کا کنارا نہیں رہا کچھ دن تمہارے لوٹ کے آنے کی آس تھی اب اس امید کا بھی سہارا نہیں رہا رستے مہہ‌ و نجوم کے تبدیل ہو گئے ان کھڑکیوں میں ایک بھی تارا نہیں رہا سمجھے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4324 سے 4657