شاعری

پیش جو آیا سر ساحل شب بتلایا

پیش جو آیا سر ساحل شب بتلایا موج غم کو بھی مگر موج طرب بتلایا ہے بتانے کی کوئی چیز بھلا نام و نسب ہم نے پوچھا نہ کبھی نام و نسب بتلایا رنگ محفل کا عجب ہو گیا جس دم اس نے خامشی کو بھی مری حسن طلب بتلایا دل کو دنیا سے سروکار کبھی تھا ہی نہیں آنکھ نے بھی مگر اس رخ کو عجب بتلایا یہ ...

مزید پڑھیے

وہی بیباکیٔ عشاق ہے درکار اب بھی

وہی بیباکیٔ عشاق ہے درکار اب بھی ہے وہی سلسلۂ آتش و گلزار اب بھی اب بھی موجود ہے وہ بیعت فاسق کا سوال اور مطلوب ہے وہ جرأت انکار اب بھی ہیں کہاں عشق میں گھر بار لٹانے والے خوئے ایثار سے مغلوب ہیں انصار اب بھی کوئی یوسف تو زمانہ کرے پیدا اجملؔ نظر آ سکتی ہے وہ گرمئ بازار اب بھی

مزید پڑھیے

تیرے سوا کسی کی تمنا کروں گا میں

تیرے سوا کسی کی تمنا کروں گا میں ایسا کبھی ہوا ہے جو ایسا کروں گا میں گو غم عزیز ہے مجھے تیرے فراق کا پھر بھی اس امتحان کا شکوہ کروں گا میں آنکھوں کو اشک و خوں بھی فراہم کروں گا میں دل کے لیے بھی درد مہیا کروں گا میں راحت بھی رنج، رنج بھی راحت ہو جب تو پھر کیا اعتبار خواہش دنیا ...

مزید پڑھیے

نظر آ رہے ہیں جو تنہا سے ہم

نظر آ رہے ہیں جو تنہا سے ہم سو یوں ہے کہ بھر پائے دنیا سے ہم نہ پروا ہمیں حال بے حال کی نہ شرمندہ عمر گزشتہ سے ہم بھلا کوئی کرتا ہے مردوں سے بات کہیں کیا دل بے تمنا سے ہم نظر میں ہے جب سے سراپا ترا جبھی سے ہیں کچھ بے سر و پا سے ہم کوئی جل پری کیا پری بھی نہ آئی مگر خوش ہوئے رات ...

مزید پڑھیے

کسی کے ہجر میں جینا محال ہو گیا ہے

کسی کے ہجر میں جینا محال ہو گیا ہے کسے بتائیں ہمارا جو حال ہو گیا ہے کہیں گرا ہے نہ روندا گیا ہے دل پھر بھی شکستہ ہو گیا ہے پائمال ہو گیا ہے سحر جو آئی ہے شب کے تمام ہونے پر تو اس میں کون سا ایسا کمال ہو گیا ہے کوئی بھی چیز سلامت نہیں مگر یہ دل شکستگی میں جو اپنی مثال ہو گیا ...

مزید پڑھیے

میں نے اے دل تجھے سینے سے لگایا ہوا ہے

میں نے اے دل تجھے سینے سے لگایا ہوا ہے اور تو ہے کہ مری جان کو آیا ہوا ہے بس اسی بوجھ سے دوہری ہوئی جاتی ہے کمر زندگی کا جو یہ احسان اٹھایا ہوا ہے کیا ہوا گر نہیں بادل یہ برسنے والا یہ بھی کچھ کم تو نہیں ہے جو یہ آیا ہوا ہے راہ چلتی ہوئی اس راہ گزر پر اجملؔ ہم سمجھتے ہیں قدم ہم نے ...

مزید پڑھیے

جو کل حیران تھے ان کو پریشاں کر کے چھوڑوں گا

جو کل حیران تھے ان کو پریشاں کر کے چھوڑوں گا میں اب آئینۂ ہستی کو حیراں کر کے چھوڑوں گا دکھا دوں گا تماشا دی اگر فرصت زمانے نے تماشائے فراواں کو فراواں کر کے چھوڑوں گا کیا تھا عشق نے تاراج جس صحن گلستاں کو میں اب اس پر محبت کو نگہباں کر کے چھوڑوں گا عیاں ہے جو ہر اک ذرے میں ہر ...

مزید پڑھیے

جو اشک برسا رہے ہیں صاحب

جو اشک برسا رہے ہیں صاحب یہ رائیگاں جا رہے ہیں صاحب یہی تغیر تو زندگی ہے عبث گھلے جا رہے ہیں صاحب جو ہو گیا ہے سو ہو گیا ہے فضول پچھتا رہے ہیں صاحب یہ صرف گنتی کے چار دن ہیں بڑے مزے آ رہے ہیں صاحب ابھی تو یہ خاک ہو رہے گا جو جسم چمکا رہے ہیں صاحب کوئی ارادہ نہ کوئی جادہ کہاں ...

مزید پڑھیے

دشوار ہے اس انجمن آرا کو سمجھنا

دشوار ہے اس انجمن آرا کو سمجھنا تنہا نہ کبھی تم دل تنہا کو سمجھنا ہو جائے تو ہو جائے اضافہ غم دل میں کیا عقل سے سودائے تمنا کو سمجھنا اک لمحۂ حیرت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے کچھ اور نہ اس تندیٔ دریا کو سمجھنا کچھ تیز ہواؤں نے بھی دشوار کیا ہے قدموں کے نشانات سے صحرا کو سمجھنا

مزید پڑھیے

گھوم پھر کر اسی کوچے کی طرف آئیں گے

گھوم پھر کر اسی کوچے کی طرف آئیں گے دل سے نکلے بھی اگر ہم تو کہاں جائیں گے ہم کو معلوم تھا یہ وقت بھی آ جائے گا ہاں مگر یہ نہیں سوچا تھا کہ پچھتائیں گے یہ بھی طے ہے کہ جو بوئیں گے وہ کاٹیں گے یہاں اور یہ بھی کہ جو کھوئیں گے وہی پائیں گے کبھی فرصت سے ملو تو تمہیں تفصیل کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4315 سے 4657