گزر گئی ہے ابھی ساعت گزشتہ بھی
گزر گئی ہے ابھی ساعت گزشتہ بھی نظر اٹھا کہ گزر جائے گا یہ لمحہ بھی بہت قریب سے ہو کر گزر گئی دنیا بہت قریب سے دیکھا ہے یہ تماشا بھی گزر رہے ہیں جو بار نظر اٹھائے ہوئے یہ لوگ محو تماشا بھی ہیں تماشا بھی وہ دن بھی تھے کہ تری خواب گیں نگاہوں سے پکارتی تھی مجھے زندگی بھی دنیا ...