شاعری

مرے خوابوں میں خیالوں میں مرے پاس رہو

مرے خوابوں میں خیالوں میں مرے پاس رہو تم مرے سارے سوالوں میں مرے پاس رہو میرے قاتل مرے دل دار مسیحا میرے زخم و مرہم کے حوالوں میں مرے پاس رہو شمع رخسار لیے گیسوئے خم دار لیے سب اندھیروں میں اجالوں میں مرے پاس رہو کبھی خوشبو کبھی سایہ کبھی پیکر بن کر سبھی ہجروں میں وصالوں میں ...

مزید پڑھیے

تمہارے دل کی طرح یہ زمین تنگ نہیں

تمہارے دل کی طرح یہ زمین تنگ نہیں خدا کا شکر کہ پاؤں میں اپنے لنگ نہیں عجیب اس سے تعلق ہے کیا کہا جائے کچھ ایسی صلح نہیں ہے کچھ ایسی جنگ نہیں کوئی بتاؤ کہ اس آئنہ کا مول ہے کیا جس آئنہ پہ نشان غبار و زنگ نہیں مرا جنون ہے کوتاہ یا یہ شہر تباہ جو زخم سر کے لیے یاں تلاش سنگ نہیں ہیں ...

مزید پڑھیے

سکھا سکی نہ جو آداب مے وہ خو کیا تھی

سکھا سکی نہ جو آداب مے وہ خو کیا تھی جو یہ نہ تھا تو پھر اس درجہ ہاو ہو کیا تھی جو بار دوش رہا سر وہ کب تھا شوریدہ بہا نہ جس سے لہو وہ رگ گلو کیا تھی پھر ایک زخم کشادہ جو دل کو یاد آ جائے وہ لذت‌ و خلش سوزن و رفو کیا تھی جو اذن عام نہ تھا والیان مے خانہ یہ سب نمائش پیمانہ و سبو کیا ...

مزید پڑھیے

وہی گماں ہے جو اس مہرباں سے پہلے تھا

وہی گماں ہے جو اس مہرباں سے پہلے تھا وہیں سے پھر یہ سفر ہے جہاں سے پہلے تھا ہے اس نگہ کا کرشمہ کہ میرے دل کا ہنر میں اس کے غم کا شناسا بیاں سے پہلے تھا وہ ایک لمحہ مجھے کیوں ستا رہا ہے کہ جو نہیں کے بعد مگر اس کی ہاں سے پہلے تھا میں خوش ہوں ہم سفروں نے کہ مجھ سے چھین لیا غرور رہروی ...

مزید پڑھیے

جب دعائیں ہی بے اثر جائیں

جب دعائیں ہی بے اثر جائیں جینے والے بتا کدھر جائیں اپنی مرضی کا جب نہ ہو جینا ایسے جینے سے کیوں نہ مر جائیں یہ مناسب نظر نہیں آتا بے خبر آئیں بے خبر جائیں زندگی غم سہی مگر اس کا یہ تو مطلب نہیں کہ مر جائیں زندگی ہے ادھر ادھر جنت تیرے بندے کدھر کدھر جائیں

مزید پڑھیے

اور تو خیر کیا رہ گیا

اور تو خیر کیا رہ گیا ہاں مگر اک خلا رہ گیا غم سبھی دل سے رخصت ہوئے درد بے انتہا رہ گیا زخم سب مندمل ہو گئے اک دریچہ کھلا رہ گیا رنگ جانے کہاں اڑ گئے صرف اک داغ سا رہ گیا آرزوؤں کا مرکز تھا دل حسرتوں میں گھرا رہ گیا رہ گیا دل میں اک درد سا دل میں اک درد سا رہ گیا زندگی سے تعلق ...

مزید پڑھیے

سنی ہے چاپ بہت وقت کے گزرنے کی

سنی ہے چاپ بہت وقت کے گزرنے کی مگر یہ زخم کہ حسرت ہے جس کے بھرنے کی ہمارے سر پہ تو یہ آسمان ٹوٹ پڑا گھڑی جب آئی ستاروں سے مانگ بھرنے کی گرہ میں دام تو رکھتے ہیں زہر کھانے کو یہ اور بات کہ فرصت نہیں ہے مرنے کی بہت ملال ہے تجھ کو نہ دیکھ پانے کا بہت خوشی ہے تری راہ سے گزرنے کی بتاؤ ...

مزید پڑھیے

زمیں پر آسماں کب تک رہے گا

زمیں پر آسماں کب تک رہے گا یہ حیرت کا مکاں کب تک رہے گا نظر کب آشنائے رنگ ہوگی تماشائے خزاں کب تک رہے گا رہے گی گرمیٔ انفاس کب تک رگوں میں خوں رواں کب تک رہے گا حقیقت کب اثر انداز ہوگی خسارے میں جہاں کب تک رہے گا بدل جائیں گے یہ دن رات اجملؔ کوئی نا مہرباں کب تک رہے گا

مزید پڑھیے

دیوار یاد آ گئی در یاد آ گیا

دیوار یاد آ گئی در یاد آ گیا دو گام ہی چلے تھے کہ گھر یاد آ گیا کچھ کہنا چاہتے تھے کہ خاموش ہو گئے دستار یاد آ گئی سر یاد آ گیا دنیا کی بے رخی کا گلہ کر رہے تھے لوگ ہم کو ترا تپاک مگر یاد آ گیا پھر تیرگئی راہ گزر یاد آ گئی پھر وہ چراغ راہ گزر یاد آ گیا اجملؔ سراج ہم اسے بھول ہوئے ...

مزید پڑھیے

شام اپنی بے مزا جاتی ہے روز

شام اپنی بے مزا جاتی ہے روز اور ستم یہ ہے کہ آ جاتی ہے روز کوئی دن آساں نہیں جاتا مرا کوئی مشکل آزما جاتی ہے روز مجھ سے پوچھے کوئی کیا ہے زندگی میرے سر سے یہ بلا جاتی ہے روز جانے کس کی سرخ روئی کے لیے خوں میں یہ دھرتی نہا جاتی ہے روز گیت گاتے ہیں پرندے صبح و شام یا سماعت چہچہا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4314 سے 4657