شاعری

خود ترک مدعا پر مجبور ہو گیا ہوں

خود ترک مدعا پر مجبور ہو گیا ہوں تقدیر کے لکھے سے معذور ہو گیا ہوں اپنی خودی کی دھن میں منصور ہو گیا ہوں خود بن گیا ہوں جلوہ خود طور ہو گیا ہوں ان کو بھلا رہا ہوں وہ یاد آ رہے ہیں کس درجہ دل کے ہاتھوں مجبور ہو گیا ہوں سب مٹ گئیں امیدیں سب پس گئیں امنگیں دل کی شکستگی سے خود چور ہو ...

مزید پڑھیے

ساون کی پروائی نے کیا دکھتی چوٹ دکھائی ہے

ساون کی پروائی نے کیا دکھتی چوٹ دکھائی ہے کیسے آنسو امڈے ہیں جب یاد تمہاری آئی ہے آنکھ سے اوجھل ہو کر دل کو اپنی یاد دلائی ہے دل ہی میں آ بیٹھے ہو یہ اور قیامت ڈھائی ہے آہیں سرد ہوئی جاتی ہیں تم آئے ہو یا صبح ہوئی چاند کی رنگت پھیکی ہے تاروں پہ اداسی چھائی ہے اک سناٹا سا طاری ہے ...

مزید پڑھیے

عرفان ہے یہ عشق کے سوز و گداز کا

عرفان ہے یہ عشق کے سوز و گداز کا پردہ اٹھا رہا ہے کوئی امتیاز کا تاروں سے پوچھئے مری آنکھوں کو دیکھیے دنیا کو کیا پتہ شب ہجر دراز کا جانے سے قبل طور پہ موسیٰ یہ دیکھتے کیا ظرف ہے حواس تجلی نواز کا سب سرخیاں ہیں خون وفا سی لکھی ہوئی قصہ ہے دل گداز شہید نیاز کا سر بے خودی میں آپ ...

مزید پڑھیے

پھر قصۂ شب لکھ دینے کے یہ دل حالات بنائے ہے

پھر قصۂ شب لکھ دینے کے یہ دل حالات بنائے ہے ہر شعر ہمارا آخر کو تیری ہی بات بنائے ہے تم کو ہے بہت انکار تو تم بھی اس کی طرف جا کر دیکھو وہ شخص اماوس رات کو کیسے چاندنی رات بنائے ہے اب خواب میں بھی اس ظالم کو بس ہجر کا سودا رہتا ہے اے جذبۂ دل تو کس کے لیے یہ پھول اور پات بنائے ...

مزید پڑھیے

آہستہ روی شہر کو کاہل نہ بنا دے

آہستہ روی شہر کو کاہل نہ بنا دے خاموشئ غم خواب کا مائل نہ بنا دے اتنا بھی محبت کو نہ سوچے مری ہستی یہ معجزۂ فکر کہیں دل نہ بنا دے عیسیٰ نہیں پھر بھی مجھے اندیشہ ہے خود سے ہستی مری کچھ شعبدۂ گل نہ بنا دے اس طرح تجھے عشق کیا ہے کہ یہ دنیا ہم کو ہی کہیں عشق کا حاصل نہ بنا دے میں اس ...

مزید پڑھیے

ہم ہجر کے رستوں کی ہوا دیکھ رہے ہیں

ہم ہجر کے رستوں کی ہوا دیکھ رہے ہیں منزل سے پرے دشت بلا دیکھ رہے ہیں اس شہر میں احساس کی دیوی نہیں رہتی ہر شخص کے چہرے کو نیا دیکھ رہے ہیں انکار بھی کرنے کا بہانہ نہیں ملتا اقرار بھی کرنے کا مزا دیکھ رہے ہیں تو ہے بھی نہیں اور نکلتا بھی نہیں ہے ہم خود کو رگ جاں کے سوا دیکھ رہے ...

مزید پڑھیے

یہ شہر اپنی اسی ہاؤ ہو سے زندہ ہے

یہ شہر اپنی اسی ہاؤ ہو سے زندہ ہے تمہاری اور مری گفتگو سے زندہ ہے کچھ اس قدر بھی برائی نہیں ہے مذہب میں جہان کلمۂ لا تقنطو سے زندہ ہے ہم اپنی نفس کشی کی طرف نہیں مائل کہ اپنا جسم تو بس آرزو سے زندہ ہے اب اس کے بعد بتائیں تو کیا بتائیں ہم تمام قصۂ من ہے کہ تو سے زندہ ہے ہم اس کے ...

مزید پڑھیے

درد آمیز ہے کچھ یوں مری خاموشی بھی

درد آمیز ہے کچھ یوں مری خاموشی بھی راس آتی نہیں مجھ کو یہ خرد پوشی بھی کیسی حیرت ہے کہ اک میں ہی نہ بے ہوش رہا کیا تعجب ہے کہ چھاتی نہیں مدہوشی بھی یاد کا کون سا عالم ہے کہ میں مرتا ہوں اور زندہ ہے مرا خواب فراموشی بھی کس کی آنکھوں کا نشہ ہے کہ مرے ہونٹوں کو اس قدر تر نہیں کر سکتی ...

مزید پڑھیے

اک نہ اک شمع اندھیرے میں جلائے رکھیے

اک نہ اک شمع اندھیرے میں جلائے رکھیے صبح ہونے کو ہے ماحول بنائے رکھیے دل کے ہاتھوں سے ہمیں زخم نہاں پہنچے ہیں وہ بھی کہتے ہیں کہ زخموں کو چھپائے رکھیے کون جانے کہ وہ کس راہ گزر پر گزرے ہر گزر گاہ کو پھولوں سے سجائے رکھیے دامن یار کی زینت نہ بنے ہم افسوس اپنی پلکوں کے لیے کچھ تو ...

مزید پڑھیے

بس ایک شے مرے اندر تمام ہوتی ہوئی

بس ایک شے مرے اندر تمام ہوتی ہوئی مری حکایت جاں سست گام ہوتی ہوئی میں رات اپنے بدن کی صدا سے لڑتا ہوا اور اس کی خامشی محو کلام ہوتی ہوئی یہ حرص شب ہے یا کوئی ہوائے ہستی ہے جو روز روز ہے یوں بے لگام ہوتی ہوئی بدی بڑی ہی ادا سے جہان ہستی میں خراب ہوتے ہوئے نیک نام ہوتی ہوئی عجیب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 431 سے 4657