شاعری

حیران ہو رہا ہوں بصیرت کے نام پر (ردیف .. ے)

حیران ہو رہا ہوں بصیرت کے نام پر میں دیکھتا کچھ اور ہوں منظر کچھ اور ہے مجھ کو ستارہ اور کوئی کھینچتا ہے کیوں میرا علاقہ اور ہے محور کچھ اور ہے پتھر سمجھ رہا ہے زمانہ تو کیا کروں مٹھی میں میری جب کہ منور کچھ اور ہے تاثیر خاک آئے گی الفاظ میں مرے دل میں ہے اور بات لبوں پر کچھ اور ...

مزید پڑھیے

جانا تو بہت دور ہے مہتاب سے آگے

جانا تو بہت دور ہے مہتاب سے آگے بڑھتے ہی نہیں پاؤں ترے خواب سے آگے کچھ اور حسیں موڑ تھے روداد سفر میں لکھا نہ مگر کچھ بھی ترے باب سے آگے تہذیب کی زنجیر سے الجھا رہا میں بھی تو بھی نہ بڑھا جسم کے آداب سے آگے موتی کے خزانے بھی تہہ آب چھپے تھے نکلا نہ کوئی خطرۂ گرداب سے آگے دیکھو ...

مزید پڑھیے

بس ایک ترے خواب سے انکار نہیں ہے

بس ایک ترے خواب سے انکار نہیں ہے دل ورنہ کسی شے کا طلب گار نہیں ہے آنکھوں میں حسیں خواب تو ہیں آج بھی لیکن تعبیر سے اب کوئی سروکار نہیں ہے دریا سے ابھی تک ہے وہی ربط ہمارا کشتی میں ہماری کوئی پتوار نہیں ہے حیرت سے نئے شہر کو میں دیکھ رہا ہوں دیوار تو ہے سایۂ دیوار نہیں ہے اس ...

مزید پڑھیے

نہ انتشار کا خطرہ نہ انہدام کا ہے

نہ انتشار کا خطرہ نہ انہدام کا ہے یہ مرحلہ تو تباہی کے اختتام کا ہے جو ختم ہو گیا رشتہ وہ دوستی کا تھا جو بچ گیا ہے تعلق وہ انتقام کا ہے ہر ایک لمحہ عجب خوف بے پناہی کا ہمارے عہد میں یہ رنگ صبح و شام کا ہے بچائیں کس طرح بلوائیوں سے بستی کو محافظوں کا ارادہ بھی قتل عام کا ہے یہ ...

مزید پڑھیے

میں جس جگہ بھی رہوں گا وہیں پہ آئے گا

میں جس جگہ بھی رہوں گا وہیں پہ آئے گا مرا ستارہ کسی دن زمیں پہ آئے گا لکیر کھینچ کے بیٹھی ہے تشنگی مری بس ایک ضد ہے کہ دریا یہیں پہ آئے گا مہیب سائے بڑھے آتے ہیں ہماری طرف کب اعتبار ہمیں دوربیں پہ آئے گا اب اس ادا سے ہوائیں دئے بجھائیں گی کہ اتہام بھی خانہ نشیں پہ آئے گا کمان ...

مزید پڑھیے

جما ہوا ہے فلک پہ کتنا غبار میرا

جما ہوا ہے فلک پہ کتنا غبار میرا جو مجھ پہ ہوتا نہیں ہے راز آشکار میرا تمام دنیا سمٹ نہ جائے مری حدوں میں کہ حد سے بڑھنے لگا ہے اب انتشار میرا دھواں سا اٹھتا ہے کس جگہ سے میں جانتا ہوں جلاتا رہتا ہے مجھ کو ہر پل شرار میرا بدل رہے ہیں سبھی ستارے مدار اپنا مرے جنوں پہ ٹکا ہے دار و ...

مزید پڑھیے

مرے حصار سے باہر بلا رہا ہے مجھے

مرے حصار سے باہر بلا رہا ہے مجھے کوئی حسین سا منظر بلا رہا ہے مجھے جہاں مقیم تھا میں ایک اجنبی کی طرح وہی مکان اب اکثر بلا رہا ہے مجھے جو تھک کے بیٹھ گیا ہوں میں بیچ رستے میں تو اب وہ میل کا پتھر بلا رہا ہے مجھے ہوا ہے تشنہ لبی سے معاہدہ میرا عبث ہی روز سمندر بلا رہا ہے ...

مزید پڑھیے

کھڑے ہیں دیر سے احباب دیکھنے کے لئے

کھڑے ہیں دیر سے احباب دیکھنے کے لئے مرا سفینہ تہہ آب دیکھنے کے لئے کھلی جو آنکھ تو ہم ڈوبتے نظر آئے گئے تھے دور سے گرداب دیکھنے کے لئے عبث پریشاں ہیں تعبیر کی تگ و دو میں ملی ہے نیند ہمیں خواب دیکھنے کے لئے ترس رہی ہے مرے دشت کی فضا کب سے کسی درخت کو شاداب دیکھنے کے لئے اڑان ...

مزید پڑھیے

جل بجھا ہوں میں مگر سارا جہاں تاک میں ہے

جل بجھا ہوں میں مگر سارا جہاں تاک میں ہے کوئی تاثیر تو موجود مری خاک میں ہے کھینچتی رہتی ہے ہر لمحہ مجھے اپنی طرف جانے کیا چیز ہے جو پردۂ افلاک میں ہے کوئی صورت بھی نہیں ملتی کسی صورت میں کوزہ گر کیسا کرشمہ ترے اس چاک میں ہے کیسے ٹھہروں کہ کسی شہر سے ملتا ہی نہیں ایک نقشہ جو مرے ...

مزید پڑھیے

کہیں پہ جسم کہیں پر خیال رہتا ہے

کہیں پہ جسم کہیں پر خیال رہتا ہے محبتوں میں کہاں اعتدال رہتا ہے فلک پہ چاند نکلتا ہے اور دریا میں بلا کا شور غضب کا ابال رہتا ہے دیار دل میں بھی آباد ہے کوئی صحرا یہاں بھی وجد میں رقصاں غزال رہتا ہے چھپا ہے کوئی فسوں گر سراب آنکھوں میں کہیں بھی جاؤ اسی کا جمال رہتا ہے تمام ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4280 سے 4657