طوفاں سے قریہ قریہ ایک ہوئے
طوفاں سے قریہ قریہ ایک ہوئے پھر ریت سے چہرہ چہرہ ایک ہوئے چاند ابھرتے ہی اجلی کرنوں سے اوپر کا کمرہ کمرہ ایک ہوئے الماری میں تصویریں رکھتا ہوں اب بچپن اور بڑھاپا ایک ہوئے اس کی گلی کے موڑ سے گزرے کیا تھے سب راہی رستہ رستہ ایک ہوئے دیوار گری تو اندر سامنے تھا دروازہ اور دریچہ ...