شاعری

درد دل پیدا کریں یا درد سر پیدا کریں

درد دل پیدا کریں یا درد سر پیدا کریں میری باتیں جانے ان پر کیا اثر پیدا کریں زندگی ان کی ہے جو گلشن میں اپنے واسطے آشیاں با وصف صد برق و شرر پیدا کریں آئیے ہم رہبر و رہزن سے ہو کر بے نیاز منزل مقصود تک خود رہ گزر پیدا کریں آ کہ پھر دے کر پیام نو مذاق دید کو ہر نظر میں ایک دنیائے ...

مزید پڑھیے

بار غم سے دم لبوں پر آ گیا

بار غم سے دم لبوں پر آ گیا ایسے جینے سے تو جی گھبرا گیا خلد کی تعریف آخر تابکے سنتے سنتے جی مرا اکتا گیا ہائے کب لائی صبا پیغام زیست غنچۂ امید جب مرجھا گیا کون ہوتا ہے کسی کا خضر راہ اپنی منزل تک ہر اک تنہا گیا یہ بھی کیا کم ہے شب غم کا کرم مجھ کو جینے کا سلیقہ آ گیا کیوں عرق ...

مزید پڑھیے

ہر رسم پر نظر کو جھکاتے ہوئے چلے

ہر رسم پر نظر کو جھکاتے ہوئے چلے ہر اختیار اپنا مٹاتے ہوئے چلے کچھ ان پہ اعتماد ہے کچھ اپنی ذات پر زعم فریب یوں ہی نبھاتے ہوئے چلے کتنی حکایتیں کہ زباں تک نہ آ سکیں زنجیر حرف ان پہ سجاتے ہوئے چلے ان کے مذاق دید سے پائی نہ پائی داد پھر بھی حریم شوق بساتے ہوئے چلے جو راہ جل گئی ...

مزید پڑھیے

جنوں نے زہر کا پیالہ پیا آہستہ آہستہ

جنوں نے زہر کا پیالہ پیا آہستہ آہستہ یہ شعلہ راکھ میں ڈھلنے لگا آہستہ آہستہ بہت نازک ہیں احساسات ہم ارماں پرستوں کے نہ ہم کو ٹھیس لگ جائے صبا آہستہ آہستہ بجا ساز وفا لیکن ذرا دھیمے بجا مطرب بپا ہے حشر سا دل میں صدا آہستہ آہستہ خوشی کا ایک ایک لمحہ خراج زیست لے لے گا یہ دل کے ...

مزید پڑھیے

آسمان یاس پر کھویا ستارہ ڈھونڈھنا

آسمان یاس پر کھویا ستارہ ڈھونڈھنا ہے دل آزردہ کو چہرہ تمہارا ڈھونڈھنا بحر ہستی سے کہوں اک پل ذرا اک پل ٹھہر ایک آہستہ قدم بس ہے کنارہ ڈھونڈھنا اس غم دوراں کی تاریکی میں اے جان سحر دل ہمارا کھو گیا ہے دل ہمارا ڈھونڈھنا اجنبی چہروں کے پیچھے ہے چھپی رہ آتما ان نظاروں سے ادھر ہے ...

مزید پڑھیے

اظہار جنوں بر سر بازار ہوا ہے

اظہار جنوں بر سر بازار ہوا ہے دل دست تمنا کا گرفتار ہوا ہے بے ہوش گنہ جو دل بیمار ہوا ہے اک شوق طلب سا مجھے تلوار ہوا ہے صحرائے تمنا میں مرا دل تجھے پا کر شہر ہوس آلود سے بیزار ہوا ہے بے ہوش خرد کو جنوں آگاہ کرے گا یہ جذب جو آمادۂ پیکار ہوا ہے میں وصل کی شب رقص غم آمیز کروں گی اک ...

مزید پڑھیے

کبھی وہ مثل گل مجھے مثال خار چاہئے

کبھی وہ مثل گل مجھے مثال خار چاہئے کبھی مزاج مہرباں وفا شعار چاہئے جبین خود پسند کو سزائے درد یاد ہو سر جنون کوش میں خیال دار چاہئے فریب قرب یار ہو کہ حسرت سپردگی کسی سبب سے دل مجھے یہ بے قرار چاہئے غم زمانہ جب نہ ہو غم وجود ڈھونڈ لوں کہ اک زمین جاں جو ہے وہ داغ دار چاہئے وہ ...

مزید پڑھیے

کبھی بہت ہے کبھی دھیان تیرا کچھ کم ہے

کبھی بہت ہے کبھی دھیان تیرا کچھ کم ہے کبھی ہوا ہے کبھی آندھیوں کا موسم ہے ابھی نہ توڑا گیا مجھ سے قید ہستی کو ابھی شراب جنوں کا نشہ بھی مدھم ہے کہ جیسے ساتھ ترے زندگی گزرتی ہو ترا خیال مرے ساتھ ایسے پیہم ہے تمام فکر زمان و مکاں سے چھوٹ گئی سیاہ کارئ دل مجھ کو ایسا مرہم ہے میں ...

مزید پڑھیے

طریق کوئی نہ آیا مجھے زمانے کا

طریق کوئی نہ آیا مجھے زمانے کا کہ ایک سودا رہا جنس دل لٹانے کا فریب خواب مرے راستے کو روک نہیں کہ وقت شام ہے یہ غم کدے کو جانے کا ترے وجود سے پہچان مجھ کو اپنی تھی ترا یقین تھا مجھ کو یقیں زمانے کا خراب عشق ہوں خود موت ہوں میں اپنے لیے سکھا رہی ہوں ہنر خود کو دل جلانے کا ہر ایک ...

مزید پڑھیے

دکھوں کے روپ بہت اور سکھوں کے خواب بہت

دکھوں کے روپ بہت اور سکھوں کے خواب بہت ترا کرم ہے بہت پر مرے عذاب بہت تو کتنا دور بھی ہے کس قدر قریب بھی ہے بڑا ہے ہجر کا صحرائے پر سراب بہت حقیقت شب ہجراں کے راز کھوئے گئے طویل دن ہیں بڑے راستے خراب بہت چلیں گے کتنا ترے غم کے ساتھ ساتھ قدم شکنجہ ہائے زمانہ ہیں بے حساب بہت اتر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 427 سے 4657