جہت کو بے جہتی کے ہنر نے چھین لیا
جہت کو بے جہتی کے ہنر نے چھین لیا مری نگاہ کو میرے ہی سر نے چھین لیا ہے کس کے دست کرم میں مہار ناقۂ جاں سفر کا لطف غم ہم سفر نے چھین لیا میں اپنی روح کے ذرے سمیٹتا کیوں کر یہ خاک وہ تھی جسے کوزہ گر نے چھین لیا بھٹک رہے ہیں جوانی کے نارسا لمحات بہت سے گھر تھے جنہیں ایک گھر نے چھین ...