بندش الفاظ ہی سے شاعری ہوتی نہیں

بندش الفاظ ہی سے شاعری ہوتی نہیں
صرف جی لینے سے جیسے زندگی ہوتی نہیں


شاعری کیفیت جذب و جنوں کا نام ہے
یہ نہ ہو تو شاعری پھر شاعری ہوتی نہیں


جو بھی ہو لیکن ہمارے واسطے یہ شاعری
پردہ دار راز ہائے زندگی ہوتی نہیں


گرمئ جذبات میں امکاں حسیں دھوکے کا ہے
دل کی چنگاری فروغ دائمی ہوتی نہیں


پاک ہوتا ہے جنون و جستجو سے راز داں
راز دانی بے نیاز آگہی ہوتی نہیں


مختلف اک دوسرے سے ہیں حقیقت اور مجاز
کوچۂ محبوب کعبہ کی گلی ہوتی نہیں