ہم درد نہاں کو محفل میں رسوائے حکایت کر نہ سکے
ہم درد نہاں کو محفل میں رسوائے حکایت کر نہ سکے
کہنے کو بہت کچھ تھا لیکن کچھ ان سے خطابت کر نہ سکے
اے حسن ذرا دم بھر کے لئے کچھ شوخ تجھے بھی ہونا تھا
دو دل تھے فدا آپس میں مگر اظہار محبت کر نہ سکے
گزرے ہوئے لمحوں کی یادیں اب شوق وفا سے کہتی ہیں
جو شے تھی قریب قلب و جگر اس شے سے رفاقت کر نہ سکے
ہر شوق بڑھا کر سپنے میں زحمت تو اٹھائی راہوں کی
پہنچے تو در کعبہ پہ مگر کعبے کی زیارت کر نہ سکے
سینے میں خلش ہے فرقت کی بیتاب تمنا ہے میری
جو ہم سے محبت کرتے تھے ہم ان پہ عنایت کر نہ سکے
چنچل بھی وہ تھے چالاک بھی تھے پر شرم و حیا بھی ایسی تھی
ہم من کے پرانے پاپی بھی کچھ ان سے شرارت کر نہ سکے
واعظ نے کہا تھا ضبط کرو جذبات محبت کو لیکن
ہم اس کی ہدایت پر چل کر اس دل کی حفاظت کر نہ سکے
دنیا کے غموں کا خوف نہیں بے باک مسافر کو شافیؔ
دم بھر کے لئے پلکوں کے تلے افسوس اقامت کر نہ سکے