شاعری

راہ وفا میں کوئی ہمیں جانتا نہ تھا

راہ وفا میں کوئی ہمیں جانتا نہ تھا جب تک دیا ہمارے لہو کا جلا نہ تھا یہ معجزہ ہمارے ہی طرز بیاں کا تھا اس نے وہ سن لیا تھا جو ہم نے کہا نہ تھا جب آشیانے جل گئے تب ہم نوا ہوئے گلشن میں اس سے پہلے کوئی بولتا نہ تھا تو خود ہی قطرہ قطرہ پگھلتا تھا روز و شب شامل ترے زوال میں دست دعا نہ ...

مزید پڑھیے

جب مخالف مرا رازداں ہو گیا

جب مخالف مرا رازداں ہو گیا راز سر بستہ سب پر عیاں ہو گیا مجھ کو احساس شرمندگی ہے بہت قصۂ درد کیسے بیاں ہو گیا کتنی حسرت سے تکتی رہی ہر خوشی اور دامن مرا دھجیاں ہو گیا مسئلہ بن گئی فکر تفہیم کا لفظ کا حسن بھی رائیگاں ہو گیا لوگ یہ سوچ کے ہی پریشان ہیں میں زمیں تھا تو کیوں آسماں ...

مزید پڑھیے

دل بہلنے کے وسیلے دے گیا وہ

دل بہلنے کے وسیلے دے گیا وہ اپنی یادوں کے کھلونے دے گیا وہ ہم سخن تنہائیوں میں کوئی تو ہو سونے سونے سے دریچے دے گیا وہ لے گیا میری خودی میری انا بھی اے جبین شوق سجدے دے گیا وہ رنج و غم سہنے کی عادت ہو گئی ہے زندہ رہنے کے سلیقے دے گیا وہ میری ہمت جانتا تھا اس لیے بھی ڈوبنے والے ...

مزید پڑھیے

اک عمر بھٹکتے رہے گھر ہی نہیں آیا

اک عمر بھٹکتے رہے گھر ہی نہیں آیا ساحل کی تمنا تھی نظر ہی نہیں آیا روشن ہیں جہاں شمع محبت کی قطاریں وہ کنج کم آثار نظر ہی نہیں آیا میں جھوٹ کو سچائی کے پیکر میں سجاتا کیا کیجیے مجھ کو یہ ہنر ہی نہیں آیا وہ گنبد بے در تھا کہ دیوار انا تھی منظر کوئی باہر کا نظر ہی نہیں آیا اک ایسا ...

مزید پڑھیے

اگر بلندی کا میری وہ اعتراف کرے

اگر بلندی کا میری وہ اعتراف کرے تو پھر ضروری ہے آ کر یہاں طواف کرے دلوں میں خواہش دیدار ہو تو لازم ہے جو آئنہ بھی میسر ہو اس کو صاف کرے رہوں گا میں تو ہمیشہ قصیدہ خواں اس کا زمیں فلک سے بھلا کیسے اختلاف کرے حصار ذات سے باہر نکلنا ہو جس کو انا کی آہنی دیوار میں شگاف کرے جہاں بھی ...

مزید پڑھیے

یاران تیز گام سے رنجش کہاں ہے اب

یاران تیز گام سے رنجش کہاں ہے اب منزل پہ جا پہنچنے کی خواہش کہاں ہے اب زنداں میں دن بھی رات ہی جیسا گزر گیا اہل جنوں وہ پہلی سی شورش کہاں ہے اب جام شراب اب تو مرے سامنے نہ رکھ آنکھوں میں نور ہاتھ میں جنبش کہاں ہے اب حلقہ بگوش کوئی نہ اب یار ہے یہاں وہ روز و شب کی داد و ستائش کہاں ...

مزید پڑھیے

چاند تاروں میں جی نہیں لگتا

چاند تاروں میں جی نہیں لگتا خوش نظاروں میں جی نہیں لگتا دل بجھا ہے کچھ اس طرح میرا اب بہاروں میں جی نہیں لگتا ناخدا مجھ کو ڈوب جانے دے اب کناروں میں جی نہیں لگتا مطربہ چھیڑ اب نہ ساز طرب نغمہ زاروں میں جی نہیں لگتا دل بہلتا ہے دل نگاروں میں غم گساروں میں جی نہیں لگتا یہ حسیں ...

مزید پڑھیے

خود کو بدلنا مشکل ہوگا

خود کو بدلنا مشکل ہوگا راستہ چلنا مشکل ہوگا باہر باہر پہرے ہوں گے گھر سے نکلنا مشکل ہوگا گرنا تو آسان ہے لیکن گر کے سنبھلنا مشکل ہوگا مظلوموں کی آہ نہ لینا پھولنا پھلنا مشکل ہوگا آگ پہ چلنے کی لت ڈالو پھول پہ چلنا مشکل ہوگا کالی روٹی کھانے والو اس کا نگلنا مشکل ہوگا دل کو ...

مزید پڑھیے

مجھے دن رات فکر آشیاں معلوم ہوتی ہے

مجھے دن رات فکر آشیاں معلوم ہوتی ہے کہ برگشتہ نگاہ باغباں معلوم ہوتی ہے جو دل آزاد ہو تو ہر جگہ حاصل ہے آزادی قفس میں بھی بہار گلستاں معلوم ہوتی ہے پئے گلگشت شاید آج وہ جان بہار آیا چمن کی پتی پتی گلستاں معلوم ہوتی ہے اجڑتی آ رہی ہے مدتوں سے دیکھیے پھر بھی بہار باغ عالم بے خزاں ...

مزید پڑھیے

ہے اگر لانا انقلاب نیا

ہے اگر لانا انقلاب نیا پہلے جینے کا ہو حساب نیا میں نے دیکھا تھا ایک خواب نیا آئے دن اب ہے اضطراب نیا پیش لفظ انتساب باب نیا میں ہوں اک صاحب کتاب نیا میں اگاتا تھا نور کی فصلیں خواب تھا میرا اکتساب نیا رو بہ رو چہرہ تھا پرانا سا آئنہ دیتا کیا جواب نیا گم تھی بے خوابیوں میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4257 سے 4657