شاعری

خاک ہوں طور سمجھ اور جلا دے مجھ کو

خاک ہوں طور سمجھ اور جلا دے مجھ کو اے خدا اپنی تجلی کی ضیا دے مجھ کو مولا مجذوب من اللہ بنا دے مجھ کو عشق صادق کی یوں معراج کرا دے مجھ کو ایسی کوئی بھی نہ اے یار دعا دے مجھ کو مر ہی جاؤں کوئی ایسی تو سزا دے مجھ کو روز محشر تو ابھی دور ہے میرے اللہ کر کوئی معجزہ اور خود سے ملا دے ...

مزید پڑھیے

ورق ہے میرے صحیفے کا آسماں کیا ہے

ورق ہے میرے صحیفے کا آسماں کیا ہے رہا یہ چاند تو شاید تمہارا چہرا ہے جو پوچھتا تھا مری عمر اس سے کہہ دینا کسی کے پیار کے موسم کا ایک جھونکا ہے سمٹ گیا تھا اندھیروں کو دیکھ کر لیکن سحر کے ساتھ مرے راستے میں بکھرا ہے جسے بچاتا رہا تھا میں آبرو کی طرح وہ لمحہ آج مری مٹھیوں سے پھسلا ...

مزید پڑھیے

فصل گل میں بھی وہی دور خزاں ہے اب کے

فصل گل میں بھی وہی دور خزاں ہے اب کے کیسا غم وقت کے چہرے سے عیاں ہے اب کے مشعلیں ہیں نہ دھواں ہے نہ صدائے ناقوس کیا خبر قافلۂ درد کہاں ہے اب کے زندگی وقت کے در تک جسے لے آئی تھی دھندلا دھندلا اسی انساں کا نشاں ہے اب کے چارہ گر رحم نہ کر اس کی ضرورت کیا ہے میرا ہر زخم مرے دل کی زباں ...

مزید پڑھیے

روح کی بات سنے جسم کے تیور دیکھے

روح کی بات سنے جسم کے تیور دیکھے التجا ہے کہ وہ اس آگ میں جل کر دیکھے تم وہ دریا کہ چڑھے بھی تو گھڑی بھر کے لیے میں وہ قطرہ ہوں جو گر کے بھی سمندر دیکھے چبھتا ماحول گھٹی روح گریزاں لمحے دل کی حسرت ہے کبھی ان سے نکل کر دیکھے ایک نقشے پہ زمانہ رہا ہنگام وصال شیشہ‌ٔ جسم میں سو طرح ...

مزید پڑھیے

طویل سوچ ہے اور مختصر لہو میرا

طویل سوچ ہے اور مختصر لہو میرا گراں سفر میں ہے زاد سفر لہو میرا وہ رونقیں بھی گئیں اس کے خشک ہوتے ہی سجاتا رہتا تھا دیوار و در لہو میرا ہر ایک لمحہ مجھے زندگی نے قتل کیا تمام عمر رہا میرے سر لہو میرا دیار غیر کو مہکا گیا حنا بن کر یہ واقعہ ہے رہا بے ہنر لہو میرا وہ روح تھی جسے ...

مزید پڑھیے

تعلقات کی گرمی نہ اعتبار کی دھوپ

تعلقات کی گرمی نہ اعتبار کی دھوپ جھلس رہی ہے زمانے کو انتشار کی دھوپ غم حیات کے سائے مہیب ہیں ورنہ کسے پسند نہیں ہے خیال یار کی دھوپ ابھی سے امن کی ٹھنڈک تلاش کرتے ہو ابھی تو چمکی ہے یارو صلیب و دار کی دھوپ الم کی راہ گزر پر بہت ہی کام آئیں تمہاری یاد کی شمعیں ہمارے پیار کی ...

مزید پڑھیے

جب کبھی ترک غم دل کا سوال آتا ہے

جب کبھی ترک غم دل کا سوال آتا ہے ریت پر نام تھا میرا بھی خیال آتا ہے موج طوفان اٹھی بہہ چلے خوابوں کے صدف پھر برستے ہوئے بادل پہ زوال آتا ہے اب مرے خواب کے ہم راہ وہی یادیں ہیں جن کو معلوم نہ تھا شیشے میں بال آتا ہے جب سمٹ آیا ہے خود جسم ہی پیشانی پر کیوں در دل پہ دبے پاؤں ملال ...

مزید پڑھیے

رات تحریروں کی اب یکسر خیالی ہو گئی

رات تحریروں کی اب یکسر خیالی ہو گئی لفظ جب جاگے عبارت بھی نرالی ہو گئی انگنت چہرے تھے شہر دل میں لیکن کیا کہوں وقت کا سایہ پڑا بستی یہ خالی ہو گئی جن کا اک اک لفظ تھا مژدہ نئے موسم کے نام حیف ان صفحات کی صورت بھی کالی ہو گئی دل کے محبس سے چلے تھے قافلے یادوں کے پر اک کرن پلکوں کی ...

مزید پڑھیے

میں تو اک لمحۂ پریدہ رہا

میں تو اک لمحۂ پریدہ رہا جانے کیوں وہ بہت کشیدہ رہا رو بہ رو ذکر نا شنیدہ رہا اٹھ گیا تو مرا قصیدہ رہا میں بھی بندہ ہی تھا خدا کی قسم یہ الگ ہے کہ برگزیدہ رہا اور تو کوئی غم نہ تھا اس کو بس مری چاہ میں تپیدہ رہا شب کی پیشانی کا میں جھومر تھا کیا ہوا گر ہوا گزیدہ رہا میرے حصے ...

مزید پڑھیے

قضا کے ساتھ چلے زندگی کے بدلے میں

قضا کے ساتھ چلے زندگی کے بدلے میں ملی نہ چھاؤں بھی اہل عمل کو رستے میں جواب شہر خموشاں ہر ایک بستی ہے گلاب کھلتے نہیں اب کسی دریچے میں غم حیات کی پیغمبرانہ الفت کو نہ جانے کب سے بسائے ہوئے ہیں سینے میں پہنچ چکے ہیں یقیں کی حدود میں پھر بھی لرز رہے ہیں قدم ساتھ ساتھ چلنے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4248 سے 4657