شاعری

اتنی بار محبت کرنا کتنا مشکل ہو جاتا ہے

اتنی بار محبت کرنا کتنا مشکل ہو جاتا ہے انسانوں پہ ہجرت کرنا کتنا مشکل ہو جاتا ہے شب بھر تاروں کو گننے میں کتنی دشواری ہے یار جاگتے رہنا عادت کرنا کتنا مشکل ہو جاتا ہے میرے اندر کی سب راتیں سائے جتنی رہتی ہیں تاریکی سے صحبت کرنا کتنا مشکل ہو جاتا ہے کتنا مشکل ہو جاتا ہے کرنا ...

مزید پڑھیے

دل میں چلتی ہوئی جنگوں سے نکل آؤں گا

دل میں چلتی ہوئی جنگوں سے نکل آؤں گا میں ان تاریک سرنگوں سے نکل آؤں گا تو بھی اک روز ترنگوں سے نکل جائے گی میں بھی ان جھوٹی امنگوں سے نکل آؤں گا آج تو کر لے مجھے قید مصور میرے کل میں تصویر کے رنگوں سے نکل آؤں گا چاہے در کتنے ہی کر بند مری جاں مجھ پر میں ترے جسم کے انگوں سے نکل آؤں ...

مزید پڑھیے

بارش کے گھنگھور حوالے گنتا رہتا ہوں

بارش کے گھنگھور حوالے گنتا رہتا ہوں لمحہ لمحہ بادل کالے گنتا رہتا ہوں صدیاں گزریں خوابوں کو آنکھوں میں آئے پلکوں پر مکڑی کے جالے گنتا رہتا ہوں اوپر والا منزل مجھ کو دکھلاتا ہے اور میں اپنے پیر کے چھالے گنتا رہتا ہوں تاریکی کی لاشیں گننا کتنا مشکل ہے دن کے آدم خور اجالے گنتا ...

مزید پڑھیے

شام گھر جائے گی میں کدھر جاؤں گا

شام گھر جائے گی میں کدھر جاؤں گا آس مر جائے گی میں کدھر جاؤں گا وہ پری ایک دن چھوڑ کر جو مجھے چاند پر جائے گی میں کدھر جاؤں گا تو جدھر جائے گی جاؤں گا میں ادھر تو کدھر جائے گی میں کدھر جاؤں گا زندگی تیری طرح گزرتا ہوں میں تو گزر جائے گی میں کدھر جاؤں گا تیرا گھر ہے ادھر میرا گھر ...

مزید پڑھیے

پوچھتے ہو تم میں کب کر کے دکھلاؤں گا

پوچھتے ہو تم میں کب کر کے دکھلاؤں گا جادوگر ہوں کرتب کر کے دکھلاؤں گا تجھ کو لگتا ہے میں پیار سے بیگانہ ہوں حیراں ہوگی جب جب کر کے دکھلاؤں گا چاند بجھے گا تارے پگھلیں گے راتوں کے دیکھے گی تو میں سب کر کے دکھلاؤں گا پیاس بنوں گا یار میں تیرے ہونٹوں کی زخمی میں تیرے لب کر کے ...

مزید پڑھیے

میں کب سے مرا اپنے اندر پڑا ہوں

میں کب سے مرا اپنے اندر پڑا ہوں میں مردہ ہوں مردے کے اوپر پڑا ہوں میں دنیا بدلنے کو نکلا تھا گھر سے سو تھک ہار کے گھر میں آ کر پڑا ہوں خدا ہوں میں گنبد سے لٹکا ہوا ہوں میں بھگوان مندر کے باہر پڑا ہوں ترے پاؤں کی دھول ہی چاٹنی ہے ترے در کا بن کے میں پتھر پڑا ہوں قدم دھر مری سوکھی ...

مزید پڑھیے

سچ کی حدت سے مات بہہ جائے

سچ کی حدت سے مات بہہ جائے جھوٹ تڑپے جہات بہہ جائے میں نچوڑوں جو اپنی آنکھوں کو یار یہ کائنات بہہ جائے عشق جب ہو سن بلوغت پر ڈر سے ہی سومنات بہہ جائے میرے اتنا قریب آ جاؤ ایک دوجے میں ذات بہہ جائے ہاتھ رکھنا یوں میرے دل پر تم دل کا سارا ثبات بہہ جائے دیکھ کر چاند سا حسیں ...

مزید پڑھیے

اب تک جو دور ہے وہ ریاضت سفر میں ہے

اب تک جو دور ہے وہ ریاضت سفر میں ہے منزل قریب تر ہے مگر اک بھنور میں ہے دکھ درد عشق آس کا پرتو ہوں میں صنم آنسو خوشی جفا کا اثر مجھ شجر میں ہے یہ جو پنپ رہی ہے محبت دلوں میں یار یہ جسم کی طلب ہے جو ہر اک نگر میں ہے اس قدر بڑھ گئی ہے ہوس مرد میں کہ اب عزت کی فکر ہے تو طوائف کہ ڈر میں ...

مزید پڑھیے

حزیں دل کا وجدان بھی لے لو

حزیں دل کا وجدان بھی لے لو کرو عشق عرفان بھی لے لو غزل کہہ رہا ہوں غزل پر میں سنو میرے ارمان بھی لے لو پکارو مجھے نام سے میرے مرا آج ہیجان بھی لے لو اٹھا کر ذرا ناوک مژگاں مری جاں مری جان بھی لے لو سرایت کرو میری ہستی میں یوں تم میری پہچان بھی لے لو وجود وفا کا تقاضا ہے محبت ...

مزید پڑھیے

ہجر کے غم میں کھا کے لاتا ہوں

ہجر کے غم میں کھا کے لاتا ہوں خواب اپنے منا کے لاتا ہوں سچ کی حدت سے کام لیتے ہو جھوٹ کو میں بلا کے لاتا ہوں کیا کہا چاند چاہیے بیٹھو آج وہ بھی چرا کے لاتا ہوں خواب میں جو وہ ساتھ ہوتی ہے اس کو دلہن بنا کے لاتا ہوں کیا تمہیں تحفہ چاہیے ٹھہرو ہاتھوں پر سر سجا کے لاتا ہوں عشق مجھ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4247 سے 4657