شاعری

تم جو آؤ گے تو موسم دوسرا ہو جائے گا

تم جو آؤ گے تو موسم دوسرا ہو جائے گا لو کا جھونکا بھی چلے گا تو صبا ہو جائے گا زندگی میں قتل کر کے تجھ کو نکلا تھا مگر کیا خبر تھی پھر ترا ہی سامنا ہو جائے گا نفرتوں نے ہر طرف سے گھیر رکھا ہے ہمیں جب یہ دیواریں گریں گی راستہ ہو جائے گا آندھیوں کا کام چلنا ہے غرض اس سے نہیں پیڑ پر ...

مزید پڑھیے

روکے سے کہیں حادثۂ وقت رکا ہے

روکے سے کہیں حادثۂ وقت رکا ہے شعلوں سے بچا شہر تو شبنم سے جلا ہے کمرہ کسی مانوس سی خوشبو سے بسا ہے جیسے کوئی اٹھ کر ابھی بستر سے گیا ہے یہ بات الگ ہے کہ میں جیتا ہوں ابھی تک ہونے کو تو سو بار مرا قتل ہوا ہے پھولوں نے چرا لی ہیں مجھے دیکھ کے آنکھیں کانٹوں نے بڑی دور سے پہچان لیا ...

مزید پڑھیے

ہماری آنکھ نے دیکھے ہیں ایسے منظر بھی

ہماری آنکھ نے دیکھے ہیں ایسے منظر بھی گلوں کی شاخ سے لٹکے ہوئے تھے خنجر بھی یہاں وہاں کے اندھیروں کا کیا کریں ماتم کہ اس سے بڑھ کے اندھیرے ہیں دل کے اندر بھی ابھی سے ہاتھ مہکنے لگے ہیں کیوں میرے ابھی تو دیکھا نہیں ہے بدن کو چھو کر بھی کسے تلاش کریں اب نگر نگر لوگو جواب دیتے ...

مزید پڑھیے

لائی ہے کس مقام پہ یہ زندگی مجھے

لائی ہے کس مقام پہ یہ زندگی مجھے محسوس ہو رہی ہے خود اپنی کمی مجھے دیکھو تم آج مجھ کو بجھاتے تو ہو مگر کل ڈھونڈھتی پھرے گی بہت روشنی مجھے طے کر رہا ہوں میں بھی یہ راہیں صلیب کی آواز اے حیات نہ دینا ابھی مجھے سوکھے شجر کو پھینک دوں کیسے نکال کر دیتا رہا ہے سایہ شجر جو کبھی ...

مزید پڑھیے

خوشی نے مجھ کو ٹھکرایا ہے درد و غم نے پالا ہے

خوشی نے مجھ کو ٹھکرایا ہے درد و غم نے پالا ہے گلوں نے بے رخی کی ہے تو کانٹوں نے سنبھالا ہے محبت میں خیال ساحل و منزل ہے نادانی جو ان راہوں میں لٹ جائے وہی تقدیر والا ہے جہاں بھر کر متاع لالہ و گل بخشنے والو ہمارے دل کا کانٹا بھی کبھی تم نے نکالا ہے کناروں سے مجھے اے ناخدا تم دور ...

مزید پڑھیے

مستحق وہ لذت غم کا نہیں

مستحق وہ لذت غم کا نہیں جس نے خود اپنا لہو چکھا نہیں اس شجر کے سائے میں بیٹھا ہوں میں جس کی شاخوں پر کوئی پتا نہیں کون دیتا ہے در دل پر صدا کہہ دو میں بھی اب یہاں رہتا نہیں بن رہے ہیں سطح دل پر دائرے تم نے تو پتھر کوئی پھینکا نہیں انگلیاں کانٹوں سے زخمی ہو گئیں ہاتھ پھولوں تک ...

مزید پڑھیے

فریب نکہت و گلزار سے بچاؤ مجھے

فریب نکہت و گلزار سے بچاؤ مجھے کرم کرو کسی صحرا میں چھوڑ آؤ مجھے وہ جنس ہوں میں جسے بک کے مدتیں گزریں جو ہو سکے تو کہیں سے خرید لاؤ مجھے مچل رہی ہے نظر چھو کے دیکھیے اس کو سمٹ رہا ہے بدن ہاتھ مت لگاؤ مجھے کسی طرح ان اندھیروں کی عمر تو کم ہو جلانے والو ذرا دیر تک جلاؤ مجھے کسی پہ ...

مزید پڑھیے

میرے بہتے اشکوں میں ذائقہ نہیں ہوگا

میرے بہتے اشکوں میں ذائقہ نہیں ہوگا جب تلک تلاطم میں معجزہ نہیں ہوگا سب پرند شاخوں سے جاں بچا کے اڑتے ہیں وہ جو مر گیا شاید وہ اڑا نہیں ہوگا آسمان والے خود پھر تمہیں گرا دیں گے گر تمہارے شانوں پر حوصلہ نہیں ہوگا بس گزرنے والے کا اتنا دکھ تو ہے مجھ کو اب کبھی کہیں اس سے رابطہ ...

مزید پڑھیے

جب جب اس کو یار منانا پڑتا ہے

جب جب اس کو یار منانا پڑتا ہے سرخ لبادہ اوڑھ کے جانا پڑتا ہے تم مری سوچوں پر قبضہ رکھتے ہو تم سے مجھ کو عشق نبھانا پڑھتا ہے ہم جیسوں کو وحشت تب اپناتی ہے اک چوکھٹ پہ شیش جھکانا پڑتا ہے وہ جب پھول سے وجد میں جا ٹکراتی ہے پھر گلشن کو ہوش میں لانا پڑھتا ہے اس لڑکی کے ساجدؔ ساجدؔ ...

مزید پڑھیے

صبا نے کان میں آ کر کہا ملے ہی نہیں

صبا نے کان میں آ کر کہا ملے ہی نہیں حسین لوگ ترے گاؤں میں رہے ہی نہیں ہمیں کیا علم کہ کیا شے ہے آبلہ پائی ہم اپنے کمرے سے باہر کبھی گئے ہی نہیں ہمیں بچانے پہ راضی تھا اک جہان مگر پھر ایک موڑ وہ آیا کہ ہم بچے ہی نہیں تمام شہر نے مل جل کے کر لئے تقسیم یہ حادثات مرے یار جب ٹلے ہی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4245 سے 4657