سفر میں راہ کے آشوب سے نہ ڈر جانا
سفر میں راہ کے آشوب سے نہ ڈر جانا پڑے جو آگ کا دریا تو پار کر جانا یہ اک اشارہ ہے آفات ناگہانی کا کسی جگہ سے پرندوں کا کوچ کر جانا تمہارا قرب بھی دوری کا استعارہ ہے کہ جیسے چاند کا تالاب میں اتر جانا طلوع مہر درخشاں کی اک علامت ہے اٹھائے شمع یقیں اس کا دار پر جانا ہم اپنے عشق کی ...