شاعری

ہم جو محفل میں تری سینہ فگار آتے ہیں

ہم جو محفل میں تری سینہ فگار آتے ہیں رنگ‌ بر دوش گلستاں بہ کنار آتے ہیں چاک دل چاک جگر چاک گریباں والے مثل گل آتے ہیں مانند بہار آتے ہیں کوئی معشوق سزا وار غزل ہے شاید ہم غزل لے کے سوئے شہر نگار آتے ہیں کیا وہاں کوئی دل و جاں کا طلب گار نہیں جا کے ہم کوچۂ قاتل میں پکار آتے ...

مزید پڑھیے

سرد ہیں دل آتش روئے نگاراں چاہئے

سرد ہیں دل آتش روئے نگاراں چاہئے شعلۂ رنگ بہار گل عذاراں چاہئے منزل عشق و جنوں کے فاصلے ہیں سر بکف ان کٹھن راہوں میں لطف دست یاراں چاہئے کٹ رہی ہے اور کٹ چکتی نہیں فصل خزاں تیز تر اک اور تیغ نو بہاراں چاہئے آج مے خانہ میں سحر چشم ساقی کے لیے التفات‌ چشم مست میگساراں چاہئے اس ...

مزید پڑھیے

عطر فردوس جواں میں یہ بسائے ہوئے ہونٹ

عطر فردوس جواں میں یہ بسائے ہوئے ہونٹ خون‌ گلرنگ بہاراں میں نہائے ہوئے ہونٹ خود بخود آہ لرزتے ہوئے بوسوں کی طرح میرے ہونٹوں کی لطافت کو جگائے ہوئے ہونٹ دست فطرت کے تراشے ہوئے دو برگ گلاب دل کے ٹوٹے ہوئے ٹکڑوں کو بنائے ہوئے ہونٹ ظلم اور جبر کے احکام سے خاموش مگر مہر پیمان ...

مزید پڑھیے

یاد آئے ہیں عہد جنوں کے کھوئے ہوئے دل دار بہت

یاد آئے ہیں عہد جنوں کے کھوئے ہوئے دل دار بہت ان سے دور بسائی بستی جن سے ہمیں تھا پیار بہت ایک اک کر کے کھلی تھیں کلیاں ایک اک کر کے پھول گئے ایک اک کر کے ہم سے بچھڑے باغ جہاں میں یار بہت حسن کے جلوے عام ہیں لیکن ذوق نظارہ عام نہیں عشق بہت مشکل ہے لیکن عشق کے دعویدار بہت زخم کہو ...

مزید پڑھیے

الجھے کانٹوں سے کہ کھیلے گل تر سے پہلے

الجھے کانٹوں سے کہ کھیلے گل تر سے پہلے فکر یہ ہے کہ صبا آئے کدھر سے پہلے جام و پیمانہ و ساقی کا گماں تھا لیکن دیدۂ تر ہی تھا یاں دیدۂ تر سے پہلے ابر نیساں کی نہ برکت ہے نہ فیضان بہار قطرے گم ہو گئے تعمیر گہر سے پہلے جم گیا دل میں لہو سوکھ گئے آنکھوں میں اشک تھم گیا درد جگر رنگ سحر ...

مزید پڑھیے

دل کی آگ جوانی کے رخساروں کو دہکائے ہے

دل کی آگ جوانی کے رخساروں کو دہکائے ہے بہے پسینہ مکھڑے پر یا سورج پگھلا جائے ہے من اک ننھا سا بالک ہے ہمک ہمک رہ جائے ہے دور سے مکھ کا چاند دکھا کر کون اسے للچائے ہے مے ہے تیری آنکھوں میں اور مجھ پہ نشہ سا طاری ہے نیند ہے تیری پلکوں میں اور خواب مجھے دکھلائے ہے تیرے قامت کی لرزش ...

مزید پڑھیے

تخلیق پہ فطرت کی گزرتا ہے گماں اور

تخلیق پہ فطرت کی گزرتا ہے گماں اور اس آدم خاکی نے بنایا ہے جہاں اور یہ صبح ہے سورج کی سیاہی سے اندھیری آئے گی ابھی ایک سحر مہر چکاں اور بڑھنی ہے ابھی اور بھی مظلوم کی طاقت گھٹنی ہے ابھی ظلم کی کچھ تاب و تواں اور تر ہوگی زمیں اور ابھی خون بشر سے روئے گا ابھی دیدۂ خونابہ فشاں ...

مزید پڑھیے

فروغ دیدہ و دل لالۂ سحر کی طرح

فروغ دیدہ و دل لالۂ سحر کی طرح اجالا بن کے رہو شمع رہ گزر کی طرح پیمبروں کی طرح سے جیو زمانے میں پیام شوق بنو دولت ہنر کی طرح یہ زندگی بھی کوئی زندگی ہے ہم نفسو ستارہ بن کے جلے بجھ گئے شرر کی طرح ڈرا سکی نہ مجھے تیرگی زمانے کی اندھیری رات سے گزرا ہوں میں قمر کی طرح سمندروں کے ...

مزید پڑھیے

خوگر روئے خوش جمال ہیں ہم

خوگر روئے خوش جمال ہیں ہم ناز پروردۂ وصال ہیں ہم ہم کو یوں رائیگاں نہ کر دینا حاصل فصل ماہ و سال ہیں ہم رنگ ہی رنگ خوشبو ہی خوشبو گردش ساغر خیال ہیں ہم رونق کاروبار ہستی ہیں ہم نے مانا شکستہ حال ہیں ہم مال و زر، مال و زر کی قیمت کیا صاحب دولت کمال ہیں ہم کس کی رعنائی خیال ہے ...

مزید پڑھیے

وہی حسن یار میں ہے وہی لالہ زار میں ہے

وہی حسن یار میں ہے وہی لالہ زار میں ہے وہ جو کیفیت نشے کی مے خوش گوار میں ہے یہ چمن کی آرزو ہے کوئی لوٹ لے چمن کو یہ تمام رنگ و نکہت ترے اختیار میں ہے ترے ہاتھ کی بلندی میں فروغ کہکشاں ہے یہ ہجوم ماہ و انجم ترے انتظار میں ہے بس اسی کو توڑنا ہے یہ جنون نفع خوری یہی ایک سرد خنجر دل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4223 سے 4657