شاعری

حصار عاشقی میں وجد کی حالت میں رہتا ہوں

حصار عاشقی میں وجد کی حالت میں رہتا ہوں بہاریں مجھ میں خیمہ زن ہیں میں راحت میں رہتا ہوں کبھی مصروف تھا میں آج کل فرصت میں رہتا ہوں اکیلا ہوں سو اپنی ذات کی وسعت میں رہتا ہوں جو تو نے آگ بخشی ہے اسی میں جل رہا ہوں میں ہے تیرے قرب کی چاہت اسی چاہت میں رہتا ہوں نہ کچھ پانے کی حسرت ...

مزید پڑھیے

بھرے جو زخم تو داغوں سے کیوں الجھیں؟

بھرے جو زخم تو داغوں سے کیوں الجھیں؟ گئی جو بیت ان باتوں سے کیوں الجھیں؟ اٹھا کر طاق پہ رکھ دیں سبھی یادیں نہیں جو تو تری یادوں سے کیوں الجھیں؟ خدا موجود ہے جو ہر جگہ تو پھر عقیدت کیش بت خانوں سے کیوں الجھیں؟ یہ مانا تھی بڑی کالی شب فرقت سحر جب ہو گئی راتوں سے کیوں ...

مزید پڑھیے

لاؤں میں کہاں سے بھلا انداز بیاں اور

لاؤں میں کہاں سے بھلا انداز بیاں اور منصف کی زباں اور ہے اور میری زباں اور یہ درد سمجھتا نہیں آداب زمانہ کوشش ہو چھپانے کی تو ہوتا ہے عیاں اور قسمت کا لکھا مان لے تھوڑے سے زیاں کو جائے گا عدالت میں تو پائے گا زیاں اور تفصیل بیاں کرتا ہے کیوں اپنے عمل کی اس طرح تو ہر شخص پہ گزرے ...

مزید پڑھیے

بھٹکا کروں گا کب تک راہوں میں تیری آ کر

بھٹکا کروں گا کب تک راہوں میں تیری آ کر تجھ کو بھلا سکوں میں میرے لیے دعا کر کب تک یہ تیری حسرت کب تک یہ میری وحشت ان ساری بندشوں سے مجھ کو کبھی رہا کر ایک عمر سے تجھے میں بے عذر پی رہا ہوں تو بھی تو پیاس میری اے جام پی لیا کر کل رات زندگی یہ مجھ سے تڑپ کے بولی کچھ دیر کو تو ہو کر ...

مزید پڑھیے

یہاں ہو رہیں ہیں وہاں ہو رہیں ہیں

یہاں ہو رہیں ہیں وہاں ہو رہیں ہیں نہاں تھیں جو باتیں عیاں ہو رہیں ہیں ارادے ہمارے دعائیں تمہاری ہوائیں ہی خود بادباں ہو رہیں ہیں لٹائی کسی نے جوانی وطن پہ دشائیں بھی شہنائیاں ہو رہیں ہیں کئی آسماں آ گرے ہیں زمیں پر زمینیں کئی آسماں ہو رہیں ہیں رقیبوں تلک کیسے پہنچی وہ ...

مزید پڑھیے

فیصلہ ممکن ہے یوں منصف اگر عادل نہ ہو

فیصلہ ممکن ہے یوں منصف اگر عادل نہ ہو قتل تو ہوتے رہیں ثابت کوئی قاتل نہ ہو مشکلیں آساں نہ ہوں میری تو مجھ کو غم نہیں پر جو ہے آساں کم از کم وہ تو اب مشکل نہ ہو دفن ہیں دفتر کی فائل میں ہزاروں مسئلے ایسا لگتا ہے کہ جیسے قبر ہو فائل نہ ہو ختم ہونے کو سفر ہے ساتھ چھوٹا جائے ہے چاہتا ...

مزید پڑھیے

بہاروں کے نئے موسم بلاتے رہ گئے

بہاروں کے نئے موسم بلاتے رہ گئے نظر میں تو رہا ہم جاتے جاتے رہ گئے دیوانہ ایک دل کی بات کہہ کر چل دیا مہذب لوگ سارے کسمساتے رہ گئے کسی نے حال پوچھا تھا بس اتنی بات تھی مری آنکھوں میں آنسو آتے آتے رہ گئے بہت چرچے تھے جس در کی سخاوت کے یہاں وہ اوروں پر کھلا ہم سر جھکاتے رہ گئے وہ ...

مزید پڑھیے

مرا رام ہے تو رحیم ہے

مرا رام ہے تو رحیم ہے تو ازل سے دل میں مقیم ہے مجھے کیا غرض ہے جہاں سے اب مرا شیام ہے تو ندیم ہے ترے ہاتھ میں مری نبض ہے تو ہی دے دوا تو حکیم ہے تری رحمتوں کا حساب کیا تو ہی شیو ہے میرا کریم ہے تو یہاں بھی ہے تو وہاں بھی ہے تو اننت ہے تو اسیم ہے

مزید پڑھیے

رکھ دیا میں نے در حسن پہ ہارا ہوا عشق

رکھ دیا میں نے در حسن پہ ہارا ہوا عشق آج کے بعد مری جان تمہارا ہوا عشق چوٹ گہری تھی مگر پاؤں نہیں رک پائے ہم پلٹ آئے وہیں ہم کو دوبارہ ہوا عشق جھلملاتا ہے مری آنکھ میں آنسو بن کر آ گیا راس مجھے دل میں اتارا ہوا عشق سکۂ وقت بدلتے ہی سبھی چھوڑ گئے ذات کے شہر میں اک عمر سہارا ہوا ...

مزید پڑھیے

قصۂ خاک تو کچھ خاک سے آگے تک تھا

قصۂ خاک تو کچھ خاک سے آگے تک تھا گیلی مٹی کا سفر چاک سے آگے تک تھا میں بشر تھا سو مرے پاؤں سے لپٹی تھی زمیں اور چرچا مرا افلاک سے آگے تک تھا شعلۂ عشق غم ہجر سر شہر ہجوم اک گریبان تھا صد چاک سے آگے تک تھا خامشی کرب لہو رنگ میں ڈوبے ہوئے پھول مرحلہ دیدۂ نمناک سے آگے تک تھا لوٹ آیا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4210 سے 4657