شاعری

بکھرے پڑے تھے ہم ہمیں یکجا نہ کر سکا

بکھرے پڑے تھے ہم ہمیں یکجا نہ کر سکا کیسا خدا تھا کوئی کرشمہ نہ کر سکا ٹوٹا تھا ایک خواب لڑکپن میں اس کے بعد تا عمر میں کوئی بھی تمنا نہ کر سکا اے آسمان تف ہے تری وسعتوں پہ تف اک خطہ اس زمین پہ سایہ نہ کر سکا تو بھی تو میرے رنگ میں آیا نہ عمر بھر میں بھی تو اپنے آپ کو تجھ سا نہ کر ...

مزید پڑھیے

مجھ سے تھوڑا سا بھی بیزار نہیں ہو سکتی

مجھ سے تھوڑا سا بھی بیزار نہیں ہو سکتی زندگی میری طرف دار نہیں ہو سکتی کب تلک اور چمکنا ہے ستاروں کو وہاں کیا یہاں پر کبھی بوچھار نہیں ہو سکتی دین کو غیب کی زنجیر سے جکڑے رہنا کیونکہ دنیا تو گرفتار نہیں ہو سکتی نئے سیاروں کے ملنے پہ خوشی ہوتی ہے یہ زمیں تو مرا گھر بار نہیں ہو ...

مزید پڑھیے

انجمن میں جو مری اتنی ضیا ہے صاحب

انجمن میں جو مری اتنی ضیا ہے صاحب خون دل میرے چراغوں کی غذا ہے صاحب بت شکن نکلا وہی سمجھا تھا جس کو بت گر جس میں رہتا تھا وہی توڑ گیا ہے صاحب آنکھ سے آنسو چرا لے گیا لیکن وہ شخص بے گہر سیپ یہیں چھوڑ گیا ہے صاحب مجھ کو جنت کے نظارے بھی نہیں جچتے ہیں شہر جاناں ہی تصور میں بسا ہے ...

مزید پڑھیے

گلوں کی گر عنایت ہو گئی تو

گلوں کی گر عنایت ہو گئی تو انہیں ہم سے محبت ہو گئی تو ہمیں کیوں سونپتا ہے دولت حسن امانت میں خیانت ہو گئی تو کسی کی بیکسی پہ ہنسنے والے تری بھی ایسی حالت ہو گئی تو مجھے تو مجھ سے بڑھ کر چاہتا ہے مری خود سے عداوت ہو گئی تو نہ لگ ہونٹھوں سے سگریٹ کی طرح تو اگر مجھ کو تری لت ہو گئی ...

مزید پڑھیے

رقابت کیوں ہے تم کو آسماں سے

رقابت کیوں ہے تم کو آسماں سے ذرا پوچھو وہ خوش ہے چاند پا کے؟ ہزاروں خامیاں تم کو ملیں گی جو دیکھو گے اسے تم پاس جا کے ملن کی رت میں جو وعدے کرو گے جدائی میں وہی ہوں گے سہارے کہیں یادوں کی شدت بڑھ نہ جائے ہمارے چارہ سازوں کی دوا سے

مزید پڑھیے

اک ذرا سی چاہ میں جس روز بک جاتا ہوں میں

اک ذرا سی چاہ میں جس روز بک جاتا ہوں میں آئنہ کے سامنے اس دن نہیں آتا ہوں میں رنج غم اس سے چھپاتا ہوں میں اپنے لاکھ پر پڑھ ہی لیتا ہے وہ چہرہ پھر بھی جھٹلاتا ہوں میں قرض کیا لایا میں خوشیاں زندگی سے ایک دن روز کرتی ہے تقاضہ اور جھنجھلاتا ہوں میں حوصلہ تو دیکھیے میرا غزل کی کھوج ...

مزید پڑھیے

سبز ہے پیرہن چاند کا آج پھر

سبز ہے پیرہن چاند کا آج پھر رنگ رخسار ہے سرخ سا آج پھر کر گئی کام تیری ادا آج پھر صحن گل نے کہا مرحبا آج پھر تیرے پیکر کو چھو کر چلی آئی ہے مرمریں ہے بدن رات کا آج پھر لے کے آغوش میں چاند کو آسماں منہ زمیں کو چڑھاتا رہا آج پھر یاد چندن ونوں سے گزرتی رہی من میں صندل مہکتا رہا آج ...

مزید پڑھیے

سیاسی راہ میں اندیشۂ لغزش بہت ہے

سیاسی راہ میں اندیشۂ لغزش بہت ہے تجھے برباد کرنے کو تری خواہش بہت ہے ادا کاری ریا کاری فریب و مکر سیکھو سیاست میں انہیں اوصاف سے پرسش بہت ہے یہ دلی ہے دلالوں کی یہاں سب کام ہوں گے تمہاری جیب ہو بھاری تو آسائش بہت ہے کبھی جو پوچھ لیتے ہو ہمارا حال ہم سے تمہارے دل میں یہ تھوڑی ...

مزید پڑھیے

سراپا ترا کیا قیامت نہیں ہے؟

سراپا ترا کیا قیامت نہیں ہے؟ ادھر حشر سی دل کی حالت نہیں ہے محبت مری کیا عبادت نہیں ہے وہ اک نور ہے جس کی صورت نہیں ہے ترے ان لبوں کو میں تشبیہ کیا دوں؟ کہ پھولوں میں ایسی نزاکت نہیں ہے ہے چاہت کہوں روپ تیرا غزل میں مگر مجھ میں حسن خطابت نہیں ہے بیاں ہو رہی ہے جو آنکھوں سے ...

مزید پڑھیے

کھلا ہے زیست کا اک خوش نما ورق پھر سے

کھلا ہے زیست کا اک خوش نما ورق پھر سے ہوائے شوق نے کی ہے یہاں پہ دق پھر سے پکارتا ہے مجھے کون میرے ماضی سے کہ آج رخ پہ مرے چھا گئی شفق پھر سے خفا خفا سے ہیں آخر جناب ناصح کیوں کسی نے کر دیا کیا آج ذکر حق پھر سے کسی سے روٹھ گئے یا کسی کا دل توڑا جبیں پہ آ گیا کیوں آپ کی عرق پھر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4209 سے 4657