شاعری

لبالب دکھ سے تھا قصہ ہمارا

لبالب دکھ سے تھا قصہ ہمارا مگر چھلکا نہیں دریا ہمارا اثر اس پر تو کب ہونا تھا لیکن تماشا بن گیا رونا ہمارا مگر آنے سے پہلے سوچ لو تم بہت ویران ہے رستہ ہمارا عجب تپتی ہوئی مٹی ہے اپنی ابلتا رہتا ہے دریا ہمارا تمہارے حق میں بھی اچھا نہیں ہے تمہارے غم میں یوں جینا ہمارا اسی کو ...

مزید پڑھیے

لطف آنے لگا بکھرنے میں

لطف آنے لگا بکھرنے میں ایک غم کو ہزار کرنے میں بس ذرا سا پھسل گئے تھے ہم اک بگولے پہ پاؤں دھرنے میں کتنی آنکھوں سے بھر گئی آنکھیں تیرے خوابوں سے پھر گزرنے میں میں نے سوچا مدد کرو گے تم کم نصیبی کے گھاؤ بھرنے میں بجھتے جاتے ہیں میرے لوگ یہاں روشنی کو بحال کرنے میں کس قدر ہاتھ ...

مزید پڑھیے

ہم مسلسل اک بیاں دیتے ہوئے

ہم مسلسل اک بیاں دیتے ہوئے تھک چکے ہیں امتحاں دیتے ہوئے بے زباں الفاظ کاغذ پر یہاں گونگی یادوں کو زباں دیتے ہوئے ہو گئے غرقاب اس کی آنکھ میں خواہشوں کو ہم مکاں دیتے ہوئے پھر ابھر آیا تری یادوں کا چاند اجلا اجلا سا دھواں دیتے ہوئے لطف جلنے کا الگ ہے ہجر میں زخم میرے امتحاں ...

مزید پڑھیے

جذب کچھ تتلیوں کے پر میں ہے

جذب کچھ تتلیوں کے پر میں ہے کیسی خوشبو سی اس کلر میں ہے آنے والا ہے کوئی صحرا کیا گرد ہی گرد رہ گزر میں ہے جب سے دیکھا ہے خواب میں اس کو دل مسلسل کسی سفر میں ہے چھو کے گاڑی بغل سے کیا گزری بے خیالی سی اک نظر میں ہے میں بھی بکھرا ہوا ہوں اپنوں میں وہ بھی تنہا سا اپنے گھر میں ...

مزید پڑھیے

آنکھوں کا پورا شہر ہی سیلاب کر گیا

آنکھوں کا پورا شہر ہی سیلاب کر گیا یہ کون مجھ میں نظم کی صورت اتر گیا جنگل میں تیری یاد کے جگنوں چمک اٹھے میداں سیاہ شب کا اجالوں سے بھر گیا ورنہ سیاہ رات میں جھلسا ہوا تھا میں یہ تو تمہاری دھوپ میں کچھ کچھ نکھر گیا جھوما تھرکتے ناچتے جوڑوں میں کچھ گھڑی دل پھر نہ جانے کیسی ...

مزید پڑھیے

وہ بے اثر تھا مسلسل دلیل کرتے ہوئے

وہ بے اثر تھا مسلسل دلیل کرتے ہوئے میں مطمئن تھا غزل کو وکیل کرتے ہوئے وہ میرے زخم کو ناسور کر گئے آخر میں پر امید تھا جن سے اپیل کرتے ہوئے عجیب خواب تھا آنکھوں میں خون چھوڑ گیا کہ نیند گزری ہے مجھ کو ذلیل کرتے ہوئے سبب ہے کیا کہ میں سیراب ہوں سر صحرا جدا ہوا تھا وہ آنکھوں کو ...

مزید پڑھیے

پھول سے زخموں کا انبار سنبھالے ہوئے ہیں

پھول سے زخموں کا انبار سنبھالے ہوئے ہیں غم کی پونجی مرے اشعار سنبھالے ہوئے ہیں ہم سے پوچھو نہ شب و روز کا عالم سوچو کیسے دھڑکن کی یہ رفتار سنبھالے ہوئے ہیں گھر بھی بازار کی مانند رکھے ہیں اپنے وہ جو بازار کا معیار سنبھالے ہوئے ہیں ایک ناول ہیں کبھی پڑھ تو ہمیں فرصت میں تن تنہا ...

مزید پڑھیے

جنوں کا رقص بھی کب تک کروں گا

جنوں کا رقص بھی کب تک کروں گا کہیں میں بھی ٹھکانے جا لگوں گا ہوا جاتا ہے تن یہ بوجھ مجھ پر مگر یہ دکھ بھی اب کس سے کہوں گا بھلا دوں کیوں نہ میں اس چپ کو آخر ذرا سے زخم کو کتنا کروں گا خدا کے رنگ بھی سب کھل گئے ہیں گناہ اپنے بھی میں کیونکر گنوں گا تری خاموشیوں کی دھوپ میں بھی تری ...

مزید پڑھیے

نہیں اس چپ کے پیچھے کچھ نہیں ایسا

نہیں اس چپ کے پیچھے کچھ نہیں ایسا بس اک شبہا سا ہے تم سے بھی وابستہ اسے تو خیر اتنا بھی نہیں اب یاد کہ پہلا جال اس نے کس پہ پھینکا تھا عجب سکھ تھا کسی کا دکھ بٹانے میں میں اپنی موت بھی ظاہر نہ کرتا تھا ہم ایسوں کی جگہ بنتی ہی کتنی ہے ہم ایسوں کا ٹھہرنا کیا بچھڑنا کیا مجھے درکار ...

مزید پڑھیے

دھوپ اب سر پہ آ گئی ہوگی

دھوپ اب سر پہ آ گئی ہوگی کچھ نمی دشت میں بچی ہوگی دل مسلسل ہی زخم کھاتا ہے اس کی مٹی میں کچھ کمی ہوگی تو بھی کچھ بد حواس لوٹا ہے سانس رک رک کے ٹوٹتی ہوگی چاند شب بھر دہک رہا ہوگا نیند شب بھر پگھل رہی ہوگی گھر کی دیوار تھی ہی بوسیدہ اب کی بارش میں گر گئی ہوگی

مزید پڑھیے
صفحہ 4198 سے 4657