شاعری

میں کیول اب خود سے رشتہ رکھوں گا

میں کیول اب خود سے رشتہ رکھوں گا یعنی میں اب خود کو تنہا رکھوں گا دنیا سے ہر راز چھپانے کے خاطر میں اپنا چہرہ انجانا رکھوں گا منڈی میں غم کا میں ہی سوداگر ہوں اس خاطر میں دام زیادہ رکھوں گا تیری صورت تیری چاہت یادیں سب چھوٹے سے اس دل میں کیا کیا رکھوں گا وعدہ ہے تجھ سے میں تیری ...

مزید پڑھیے

سچ کہنے کا آخر یہ انجام ہوا

سچ کہنے کا آخر یہ انجام ہوا ساری بستی میں میں ہی بدنام ہوا قتل کا مجرم رشوت دے کر چھوٹ گیا قسمت دیکھو میرے سر الزام ہوا میرے غم پر وہ اکثر ہنس دیتا ہے یہ تو غم کا غیر مناسب دام ہوا زخم یہاں تو ویسے کا ویسا ہی ہے تم بتلاؤ تم کو کچھ آرام ہوا تنہائی نے جب سے قید کیا مجھ کو باہر آنے ...

مزید پڑھیے

تجھ کو معلوم نہیں کیا ہے تری یادوں سے

تجھ کو معلوم نہیں کیا ہے تری یادوں سے ایک انجان سا رشتہ ہے تری یادوں سے رات بے چین سی سردی میں ٹھٹھرتی ہے بہت دن بھی ہر روز سلگتا ہے تری یادوں سے ہجر کے غم نے مجھے مار دیا تھا تو کیا مر کے جینا بھی تو سیکھا ہے تری یادوں سے آج پھر سے جو ہوا قید تو یہ سوچوں ہوں کل ہی سوچا تھا کہ بچنا ...

مزید پڑھیے

مجھ میں ہے کچھ درد بچا سو زندہ ہوں

مجھ میں ہے کچھ درد بچا سو زندہ ہوں چارہ گر نے بول دیا سو زندہ ہوں میں بس مرنے ہی والا تھا پھر اس نے ہونٹوں پر اک لمس رکھا سو زندہ ہوں مجھ کو ایک فقیر نے سکے کے بدلے دی ہوگی بھرپور دعا سو زندہ ہوں سوچا تھا اب موت سی نیند میں سوؤں گا خواب میں کچھ نایاب دکھا سو زندہ ہوں جینا وہ بھی ...

مزید پڑھیے

یوں بے دم ہیں سانسیں گھٹن کچھ نہیں ہے

یوں بے دم ہیں سانسیں گھٹن کچھ نہیں ہے کسی درد کی اب چبھن کچھ نہیں ہے کھلونے ہیں مٹی کے ہم سب یہاں پر حقیقت یہی ہے بدن کچھ نہیں ہے یہ مانا کہ پیکر بہت کچھ ہے لیکن بنا روح یہ پیرہن کچھ نہیں ہے لگی آگ خوابوں میں اتنی کہ سمجھو یہ آنکھوں کی میرے جلن کچھ نہیں ہے میں خود مستقل ہوں سفر ...

مزید پڑھیے

اس مٹی کو ایسے کھیل کھلایا ہم نے

اس مٹی کو ایسے کھیل کھلایا ہم نے خود کو روز بگاڑا روز بنایا ہم نے جو سوچا تھا وہ تو ہم سے بنا نہیں پھر جو بن پایا اس سے جی بہلایا ہم نے غم کو پھر سے تنہائی کے ساتھ میں مل کر ہنستے ہنستے باتوں میں الجھایا ہم نے نا ممکن تھا اس کو حاصل کرنا پھر بھی پوری شدت سے یہ عشق نبھایا ہم نے اس ...

مزید پڑھیے

دل ہمارا تو کہیں کھویا نہیں تھا

دل ہمارا تو کہیں کھویا نہیں تھا ہاں تمہارے پاس بس ڈھونڈھا نہیں تھا اس سے کیول دوستی چاہی تھی ہم نے عشق کر بیٹھیں گے یہ سوچا نہیں تھا اس کی نرماہٹ ابھی تک ہے لبوں پر وہ محض اک آم سا بوسہ نہیں تھا ایک لڑکی دل لگائے تب سے بیٹھی عشق کرنا جب مجھے آتا نہیں تھا اب کبھی ملنا نہیں ہوگا ...

مزید پڑھیے

اے خدا جسم میں تو نے یہ بنایا کیا ہے

اے خدا جسم میں تو نے یہ بنایا کیا ہے دل تو یہ ہے ہی نہیں پھر یہ دھڑکتا کیا ہے عشق کی شاخ پہ آئے گا چلا جاتا ہے دل کے پنچھی کا بھلا ٹھور ٹھکانہ کیا ہے ہر نشہ کر کے یہاں دیکھ چکا ہوں یاروں بھول جانے کا اسے اور طریقہ کیا ہے تیری یادوں میں بہائے ہیں جو آنسو اتنے آنکھ بھی پوچھ رہی ہے ...

مزید پڑھیے

نہ کھلی آنکھوں سے دہشت کا نظارا دیکھنا

نہ کھلی آنکھوں سے دہشت کا نظارا دیکھنا جو ہمارا ہے اسے اوروں کا ہوتا دیکھنا روبرو اس کو نظر بھر دیکھ بھی سکتے نہیں ہائے کتنا دکھ بھرا ہے خود کو ایسا دیکھنا کیا عجب سا روگ بینائی کو میری لگ گیا ہر کسی چہرے میں بس اس کا ہی چہرہ دیکھنا عشق میں پتھرا چکی آنکھوں سے ہے مشکل بہت چاند ...

مزید پڑھیے

جسم کو جینے کی آزادی دیتی ہیں

جسم کو جینے کی آزادی دیتی ہیں سانسیں ہر پل ہی قربانی دیتی ہیں راتیں ساری کروٹ میں ہی بیت رہیں یادیں بھی کتنی بے چینی دیتی ہیں جو راہیں خود میں ہی بے منزل سی ہوں ایسی راہیں ناکامی ہی دیتی ہیں کیسے بھی پر مجھ کو کچھ سپنے تو دیں آنکھیں کیا کیول بینائی دیتی ہیں میتؔ مجھے اکثر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4144 سے 4657