میں کیول اب خود سے رشتہ رکھوں گا
میں کیول اب خود سے رشتہ رکھوں گا یعنی میں اب خود کو تنہا رکھوں گا دنیا سے ہر راز چھپانے کے خاطر میں اپنا چہرہ انجانا رکھوں گا منڈی میں غم کا میں ہی سوداگر ہوں اس خاطر میں دام زیادہ رکھوں گا تیری صورت تیری چاہت یادیں سب چھوٹے سے اس دل میں کیا کیا رکھوں گا وعدہ ہے تجھ سے میں تیری ...