نہ سکت ہے ضبط غم کی نہ مجال اشکباری
نہ سکت ہے ضبط غم کی نہ مجال اشکباری یہ عجیب کیفیت ہے نہ سکوں نہ بے قراری ترا ایک ہی ستم ہے ترے ہر کرم پہ بھاری غم دو جہاں سے دے دی مجھے تو نے رستگاری مری زندگی کا حاصل ترے غم کی پاسداری ترے غم کی آبرو ہے مجھے ہر خوشی سے پیاری یہ قدم قدم بلائیں یہ سواد کوئے جاناں وہ یہیں سے لوٹ ...