شاعری

بجھ جائے دل بشر کا تو اس کو شفا سے کیا

بجھ جائے دل بشر کا تو اس کو شفا سے کیا کس درجہ ہوگی کارگر اس کو دوا سے کیا جھلسا کے رکھ دیا جسے باد سموم نے غنچوں سے کیا غرض اسے باد صبا سے کیا دو وقت جس غریب کو روٹی نہ ہو نصیب مذہب کا کیا کرے اسے ذکر خدا سے کیا رہنے کو جھونپڑا بھی نہ جس شخص کو ملے اس کو سزا کی فکر کیا اس کو جزا سے ...

مزید پڑھیے

کچھ ایسے وصل کی راتیں گزاری ہے میں نے

کچھ ایسے وصل کی راتیں گزاری ہے میں نے تمام شب تیری صورت نہاری ہے میں نے ابھی سے سارا سمندر اچھال مارتا ہے ابھی تو دریا میں کشتی اتاری ہے میں نے یہ سارے رستے مجھے کھینچنے لگے ہے اب کچھ اتنا چیخ کے منزل پکاری ہے میں نے تمام عمر تری جستجو رہی مجھ کو تمام عمر سفر میں گزاری ہے میں ...

مزید پڑھیے

تمہارے لب پہ نام آیا ہمارا

تمہارے لب پہ نام آیا ہمارا اسی سے نام بھی چمکا ہمارا گھروں سے نکلے تھے پگڈنڈیوں پر سفر میں مل گیا رستہ ہمارا جو میرا غم مٹا سکتا تھا یاروں اسی نے غم نہیں سمجھا ہمارا

مزید پڑھیے

یہ سناٹا ہے میں ہوں چاندنی میں

یہ سناٹا ہے میں ہوں چاندنی میں مزا بھی خوب ہے آوارگی میں لبوں پر مسکراہٹ گال گیلے ترا غم گھل گیا میری خوشی میں ذرا سی دیر کو کھڑکی جو کھولے فرشتے گھومیں گے اس کی گلی میں گھڑی کے پیر تھکتے ہی نہیں کیا گھڑی ایجاد کی تھی کس گھڑی میں جو مٹی کے بنائے تھے خدا نے یہ ایسے لوگ ہے کوزہ ...

مزید پڑھیے

کہنے والے کہہ جاتے ہیں

کہنے والے کہہ جاتے ہیں سہنے والے ڈھ جاتے ہیں پیاسا پیاس بجھا لیتا ہے دریا پیاسے رہ جاتے ہیں اتنا مت رو آنسو کے ساتھ خواب بھی اکثر بہہ جاتے ہیں

مزید پڑھیے

پہلے تو روشنی ہوئی ایجاد

پہلے تو روشنی ہوئی ایجاد بعد میں تیرگی ہوئی ایجاد شام تک آسمان سونا تھا رات کو چاندنی ہوئی ایجاد پہلے سورج نے دھوپ بانٹی پھر پیڑ بھی چھاؤں بھی ہوئی ایجاد رب نے تجھ کو بنایا پھر سوچا ہائے کیا سادگی ہوئی ایجاد پہلے آئی کنویں پہ پنہارن پھر مری پیاس بھی ہوئی ایجاد

مزید پڑھیے

لاش کی طرح ہو چکا ہوں میں

لاش کی طرح ہو چکا ہوں میں جانے کس طرح جی رہا ہوں میں خود کے اندر ہی قید ہو بیٹھا اپنے پنجرے میں ہی پڑا ہوں میں صرف یادیں ملیں گی کمرے میں اب یہاں سے چلا گیا ہوں میں کون مجھ کو گھماتا رہتا ہے کس کی انگلی پہ ناچتا ہوں میں میں جو منزل پہ خود نہیں پہنچا اسی منزل کا راستہ ہوں ...

مزید پڑھیے

کہیں زمین کے پار اور آسمان کے پار

کہیں زمین کے پار اور آسمان کے پار پرندے ڈھونڈ رہے ہیں گھر اس جہان کے پار میں تھک چکا ہوں ترا انتظار کرتے ہوئے مگر پکار رہا ہے کوئی تھکان کے پار بچھڑ کے رو رہا ہے اس قدر کہانی سے پہنچ گیا تھا وہ کردار داستان کے پار میں تیرے وصل کی شدت سے خوب واقف ہوں مجھے ملو تو ملو جسم کے مکان کے ...

مزید پڑھیے

خود کی ہی قربانی ہے

خود کی ہی قربانی ہے مجھ کو عید منانی ہے توبہ توبہ توبہ ہائے عشق بڑا من مانی ہے رستے رستے کانٹے ہیں کیسے جان بچانی ہے دریا دریا سوکھا پن سب کی آنکھیں پانی ہے تیرے عشق کی ہوا چلے اپنی خاک اڑانی ہے میری آنکھیں چمک اٹھی وہ چہرہ نورانی ہے میرے پیچھے اک لڑکی رادھا سی دیوانی ہے

مزید پڑھیے

حقیر خاک کے ذرے تھے آسمان ہوئے

حقیر خاک کے ذرے تھے آسمان ہوئے وہ لوگ جو در جاناں کے پاسبان ہوئے شدہ شدہ وہی گلشن کے حکمران ہوئے جو خار پی کے گلوں کا لہو جوان ہوئے ہم ایسے اہل جنوں پر ہنسے نہ کیوں دنیا کہ سر کٹا کے سمجھتے ہیں کامران ہوئے یہ کم نہیں کہ بجھائی ہے پیاس کانٹوں کی بلا سے راہ وفا میں لہولہان ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4142 سے 4657