شاعری

زندگی اپنی قرینے سے بسر ہوتی نہیں

زندگی اپنی قرینے سے بسر ہوتی نہیں مختصر کرتا ہوں لیکن مختصر ہوتی نہیں دے گیا تاریکیاں اتنی وہ اہل شہر کو سر پہ سورج آ گیا پھر بھی سحر ہوتی نہیں پہلے اپنے ساتھ چلتے تھے ستارے شوق سے اب تو اپنی روشنی بھی ہم سفر ہوتی نہیں اس طرح چپ چاپ میرے پاس آ جاتے ہیں لوگ گھر کے دروازے کی ...

مزید پڑھیے

ابھی تو اتنا اندھیرا نظر نہیں آتا

ابھی تو اتنا اندھیرا نظر نہیں آتا تو ساتھ کیوں میرا سایا نظر نہیں آتا ان آنکھوں سے یہ زمانہ تو دیکھ سکتا ہوں بس ایک اپنا ہی چہرہ نظر نہیں آتا جب ایک اندھا اندھیرے میں دیکھ لیتا ہے مجھے اجالوں میں کیا کیا نظر نہیں آتا بندھی یقین کی پٹی ہماری آنکھوں پر سو چھل فریب یا دھوکہ نظر ...

مزید پڑھیے

زمانہ کے بارے میں اس کو خبر ہے

زمانہ کے بارے میں اس کو خبر ہے اگر ہے تو اپنے سے وہ بے خبر ہے سنانے میں تم کو زمانا لگے گا مرا قصۂ غم بہت مختصر ہے مرے پاؤں تھکتے نہیں ہے سفر سے کوئی تو بتائے یہ کیسا سفر ہے یہی سوچ کر آ کے بیٹھی یہاں پر سنا ہے کہ تیری یہی رہ گزر ہے گرایا جسے میں نے نظروں سے اپنی وہ انسان تو آج تک ...

مزید پڑھیے

پہنچنا منزل مقصود پر ہے بے معنی

پہنچنا منزل مقصود پر ہے بے معنی جو تیرا ساتھ نہیں تو سفر ہے بے معنی اگر ضمیر غلامی پہ مطمئن ہو جائے تو پھر یہ طاقت علم و ہنر ہے بے معنی اگر مکینوں میں باہم محبتیں نہ رہیں تو پھر یہ صحن یہ دیوار و در ہے بے معنی اسی سماج میں لڑ بھڑ کے زندگی کرنا ادھر ہے زیست کا مقصد ادھر ہے بے ...

مزید پڑھیے

پرچھائیوں کے شہر زمیں پر بسا دیئے

پرچھائیوں کے شہر زمیں پر بسا دیئے بدلی ہٹا کے چاند نے جنگل سجا دیئے کتنے ہی دائروں میں بٹا مرکز خیال اک بت کے ہم نے سیکڑوں پیکر بنا دیئے ٹوٹے کسی طرح تو فضاؤں کا یہ جمود آندھی رکی تو ہم نے نشیمن جلا دیئے اب راستوں کی گرد سے اٹتے نہیں بدن نقش قدم اسیر گل تر بنا دیئے اک چاند کی ...

مزید پڑھیے

انجانے خواب کی خاطر کیوں چین گنوایا

انجانے خواب کی خاطر کیوں چین گنوایا کب وقت کا پنچھی ٹھیرا کب سایہ ہاتھ میں آیا اک نور کی چادر سمٹی بے جان فضا دھندلائی گھر آئے گھنیرے بادل یا چاند گہن میں آیا آنکھوں سے نشیلی شب کی دھوتی رہی شبنم کاجل ہر سمت سیاہی پھیلی ہر سمت اندھیرا چھایا جو بات لبوں پر آئی وہ بات بنی ...

مزید پڑھیے

بنائے سب نے اسی خاک سے دیے اپنے

بنائے سب نے اسی خاک سے دیے اپنے فلک سے ٹوٹ کے شمس و قمر نہیں آئے گلی گلی ہو جہاں جنتوں کا گہوارہ ہماری راہ میں ایسے نگر نہیں آئے ہر ایک موڑ سے پوچھا ہے منزلوں کا پتہ سفر تمام ہوا رہبر نہیں آئے غموں کے بوجھ سے ٹوٹی ہے زندگی کی کمر بدن پہ زخم کہیں چارہ گر نہیں آئے گلوں کی آنچ نے ...

مزید پڑھیے

باغ میں رہ کے بہاروں کو نبھانا ہوگا

باغ میں رہ کے بہاروں کو نبھانا ہوگا اپنی روٹھی ہوئی خوشیوں کو منانا ہوگا توڑنا ہوگا چھلکتے ہوئے ساغر کا غرور بن پئے بزم کو اب رنگ پہ آنا ہوگا ڈھالنی ہوگی اسی رات کے دامن سے سحر ٹوٹے تاروں کو ضیا بار بنانا ہوگا تھامنی ہوں جو تجھے وقت کی نبضیں ہمدم اڑتے لمحوں پہ کوئی نقش جمانا ...

مزید پڑھیے

وہ شخص یوں نگاہ میں نگاہ ڈال کر گیا

وہ شخص یوں نگاہ میں نگاہ ڈال کر گیا بجھی بجھی سی زندگی مری بحال کر گیا وہ سادہ لوح تھا مگر غضب کی چال کر گیا نہیں جواب جس کا مجھ سے وہ سوال کر گیا مجھے تو اپنی جستجو اس آستاں پہ لے گئی وہ دشمن وفا نہ جانے کیا خیال کر گیا آ گیا تو ظلمت غم فراق چھٹ گئی جو مہر و مہ نہ کر سکے ترا جمال ...

مزید پڑھیے

ہے واقعہ کچھ اور روایت کچھ اور ہے

ہے واقعہ کچھ اور روایت کچھ اور ہے یاروں کو یعنی ہم سے شکایت کچھ اور ہے سمجھی گئی جو بات ہماری غلط تو کیا یاں ترجمہ کچھ اور ہے آیت کچھ اور ہے کچھ کم نہیں بلا سے خلافت زمیں کی بھی یا رب مری سزا میں رعایت کچھ اور ہے؟ اے گردش زمانہ ترا دور ہو چکا؟ یا حال پر ہمارے عنایت کچھ اور ہے کرتے ہو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4090 سے 4657