روئے گل چہرۂ مہتاب نہیں دیکھتے ہیں
روئے گل چہرۂ مہتاب نہیں دیکھتے ہیں ہم تری طرح کوئی خواب نہیں دیکھتے ہیں سینۂ موج پہ کشتی کو رواں رکھتے ہیں گرد اپنے کوئی گرداب نہیں دیکھتے ہیں تشنگی میں بھی وہ پابند قناعت ہیں کہ ہم بھول کر بھی طرف آب نہیں دیکھتے ہیں سر بھی موجود ہیں شمشیر ستم بھی موجود شہر میں خون کا سیلاب ...