شاعری

روئے گل چہرۂ مہتاب نہیں دیکھتے ہیں

روئے گل چہرۂ مہتاب نہیں دیکھتے ہیں ہم تری طرح کوئی خواب نہیں دیکھتے ہیں سینۂ موج پہ کشتی کو رواں رکھتے ہیں گرد اپنے کوئی گرداب نہیں دیکھتے ہیں تشنگی میں بھی وہ پابند قناعت ہیں کہ ہم بھول کر بھی طرف آب نہیں دیکھتے ہیں سر بھی موجود ہیں شمشیر ستم بھی موجود شہر میں خون کا سیلاب ...

مزید پڑھیے

ہمیشہ کسی امتحاں میں رہا

ہمیشہ کسی امتحاں میں رہا رہا بھی تو کیا اس جہاں میں رہا نہ میں دور تک ساتھ اس کے گیا نہ وہ دیر تک ہمرہاں میں رہا وہ دریا پہ مجھ کو بلاتا رہا مگر میں صف تشنگاں میں رہا میں بجھنے لگا تو بہت دیر تک اجالا چراغ زیاں میں رہا قفس یاد آیا پرندے کو پھر بہت روز تک آشیاں میں رہا رہی دیر ...

مزید پڑھیے

معرکہ جب چھڑ گیا تو کیا ہوا ہم سے سنو

معرکہ جب چھڑ گیا تو کیا ہوا ہم سے سنو کشتگان شہر خوں کا ماجرا ہم سے سنو کیوں شجر سوکھے ہوئے ہیں کیوں نہیں برگ و ثمر موسموں نے اس چمن میں کیا کیا ہم سے سنو پردۂ صد رنگ حیرت خانۂ نیرنگ میں کون ہے آئینہ اندر آئنہ ہم سے سنو طاق و در میں کیوں چراغوں کی لویں خاموش ہیں کیا ہوا وہ روشنی ...

مزید پڑھیے

کب عشق میں یاروں کی پذیرائی ہوئی ہے

کب عشق میں یاروں کی پذیرائی ہوئی ہے ہر کوہ کن و قیس کی رسوائی ہوئی ہے اس کوہ کو میں نے ہی تراشا ہے مری جان تجھ تک یہ جوئے شیر مری لائی ہوئی ہے اس شہر میں کیا چاند چمکتا ہوا دیکھیں اس شہر میں ہر شکل تو گہنائی ہوئی ہے وہ عشق کی زنجیر جو کاٹے نہیں کٹتی پیروں میں وہ تیری ہی تو پہنائی ...

مزید پڑھیے

اسی زمیں پہ اسی آسماں میں رہنا ہے

اسی زمیں پہ اسی آسماں میں رہنا ہے ترا اسیر ہوں تیرے جہاں میں رہنا ہے میں ایک پل تری دنیا میں کیا قیام کروں کہ عمر بھر تو مجھے رفتگاں میں رہنا ہے میں جانتا ہوں بہت سخت دھوپ ہے لیکن سفر میں ہوں تو صف رہ رواں میں رہنا ہے اتر گئی ہے تو سینے سے مت نکال اسے کہ میرے خون کو تیری سناں میں ...

مزید پڑھیے

میں اپنی ذات سے باہر نکلنا چاہتا ہوں

میں اپنی ذات سے باہر نکلنا چاہتا ہوں میں دریا کی طرح رستہ بدلنا چاہتا ہوں گھنی بے نور خاموشی کے جنگل سے نکل کر چمکنے والی آوازوں میں ڈھلنا چاہتا ہوں میں جس پتھر کے اندر قید ہوں چشمے کی صورت اسی پتھر کے سینے سے ابلنا چاہتا ہوں نہ جانے کتنے گرد آلود انسانوں کی خاطر زمیں پر آسماں ...

مزید پڑھیے

ہر اک لمحہ مجھے ٹھہرا ہوا محسوس ہوتا ہے

ہر اک لمحہ مجھے ٹھہرا ہوا محسوس ہوتا ہے مجھے سارا جہاں اک رتجگا محسوس ہوتا ہے سنائی کچھ نہیں دیتا دکھائی کچھ نہیں دیتا مگر چاروں طرف اک جمگھٹا محسوس ہوتا ہے ترا ہی نام لیتا ہوں تو پھر مجھ کو وجود اپنا ہواؤں پر لکھا حرف دعا محسوس ہوتا ہے مری پلکوں پہ شبنم گر رہی ہے نیند کی ...

مزید پڑھیے

کس نے دی مجھ کو صدا کون و مکاں کے اس طرف

کس نے دی مجھ کو صدا کون و مکاں کے اس طرف منتظر ہے کون میرا آسماں کے اس طرف جانے کب دونوں ملیں آپس میں سایوں کی طرح دو مسافر چل رہے ہیں کہکشاں کے اس طرف طے کیا میں نے سفر جلدی کہ میں جلدی میں تھا رہ گیا سایہ مرا دونوں جہاں کے اس طرف اک نہ اک سر پر رہے گا جتنا میں اونچا گیا آسماں کچھ ...

مزید پڑھیے

مری آواز سن کر زندگی بیدار ہو جیسے

مری آواز سن کر زندگی بیدار ہو جیسے تری آواز کا سایہ افق کے پار ہو جیسے طلوع صبح کا منظر مرے اندر ہے خوابیدہ مرے اندر زمانوں کی حسیں تکرار ہو جیسے میں ہر دیوار کے دونوں طرف یوں دیکھ لیتا ہوں مرا ہی دوسرا حصہ پس دیوار ہو جیسے شجر کی ٹہنی ٹہنی میں ہیں کتنے راز پوشیدہ ہر اک جنگل کا ...

مزید پڑھیے

بے حفاظت ہی مرا گنج معانی رہ گیا

بے حفاظت ہی مرا گنج معانی رہ گیا ریت پر لکھ کر میں خود اپنی کہانی رہ گیا چل دیے سب دوست مجھ کو ڈوبتا ہی چھوڑ کر غم بٹانے کے لیے دریا کا پانی رہ گیا جب کبھی کھولی ہے میں نے بیتے لمحوں کی کتاب دیر تک پڑھتا میں تحریریں پرانی رہ گیا جھڑ گئے پتے مرے جتنے مری شاخوں پہ تھے بن کے اپنی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4089 سے 4657