شاعری

شوق آوارہ دشت و در سے ہے

شوق آوارہ دشت و در سے ہے تہمت سنگ زخم سر سے ہے جادہ راہ بہشت ہم کو ندیم یہ ارم گرد رہ گزر سے ہے آبلوں سے نگار صحرا ہے رشتۂ غم پیامبر سے ہے اب خرابی سے ہیں در و دیوار اب جرس جادۂ سفر سے ہے رنج بے چارگی شب غم سے بزم مے مژدۂ سحر سے ہے

مزید پڑھیے

نشیلی چھاؤں میں بیتے ہوئے زمانوں کو

نشیلی چھاؤں میں بیتے ہوئے زمانوں کو لگا دو آگ اجل کے نگار خانوں کو بتا رہے ہیں جبین حیات کے تیور پناہ مل نہیں سکتی اب آستانوں کو دیے جلاؤ کہ انسانیت نے توڑ دیا جہان زر کے رو پہلے طلسم خانوں کو ہر ایک گام پہ مشعل دکھا رہی ہے حیات ستم کی آنچ میں نکھرے ہوئے زمانوں کو ہزار دار و ...

مزید پڑھیے

کارواں تیرہ شب میں چلتے ہیں

کارواں تیرہ شب میں چلتے ہیں آندھیوں میں چراغ جلتے ہیں لاکھ زنداں ہوں لاکھ دار و رسن اب ارادے کہیں بدلتے ہیں کس ادا سے سحر کے دیوانے سرخ پرچم لیے نکلتے ہیں روک سکتا ہے کیا انہیں صیاد جو قفس توڑ کر نکلتے ہیں کتنی صدیوں سے ذہن انساں میں رنگ و نکہت کے خواب پلتے ہیں

مزید پڑھیے

متاع شوق تو ہے درد روزگار تو ہے

متاع شوق تو ہے درد روزگار تو ہے اگر بہار نہیں عشرت بہار تو ہے ادائے چاک گریباں سے با خبر نہ سہی جنون شوق کو فردا کا اعتبار تو ہے ترس رہے ہیں دل و جاں جو رنگ و بو کے لئے مرے نصیب میں اک دشت انتظار تو ہے کہاں نصیب ہوس کو جنوں کی آرائش لہو لہو ہے گریبان تار تار تو ہے ان آبلوں کو ...

مزید پڑھیے

نگاہ تیز شعور بلند رکھتے ہیں

نگاہ تیز شعور بلند رکھتے ہیں ہم اپنا عشق بہت ہوش مند رکھتے ہیں ہم اپنے ساتھ دل درد مند رکھتے ہیں کوئی ہو بزم اسے سر بلند رکھتے ہیں ہمیں غرض نہیں منعم ہے کون حاتم کون کلاہ قیس سر ارجمند رکھتے ہیں رفیقوں تم ہی نہیں پاسبان شرط وفا کہ ہم بھی ان سے ارادت دو چند رکھتے ہیں

مزید پڑھیے

فلسفی کس لیے الزام فنا دیتا ہے

فلسفی کس لیے الزام فنا دیتا ہے لفظ کن خود مری ہستی کا پتہ دیتا ہے ہو گیا ترک مراسم کو زمانہ لیکن آج تک دل تری نظروں کو دعا دیتا ہے تھرتھراتے ہوئے ہاتھوں سے دوا کے بدلے چارہ گر آج نہ جانے مجھے کیا دیتا ہے کچھ تو ہوتا ہے حسینوں کو بھی احساس جمال اور کچھ عشق بھی مغرور بنا دیتا ...

مزید پڑھیے

آج مقتل کو سجایا جا رہا ہے

آج مقتل کو سجایا جا رہا ہے خون ناحق بھی بہایا جا رہا ہے رقص کرنے کے لیے کچھ لڑکیوں کو باری باری ہی بلایا جا رہا ہے جس نے کلمہ پڑھ لیا تھا آخری دم اس کا لاشہ کیوں جلایا جا رہا ہے اس کے لہجے میں رعونت تو نہیں ہے اس کو نظروں سے گرایا جا رہا ہے گھر تو خالی ہے گزشتہ ایک ماہ سے میرے ...

مزید پڑھیے

تھوڑا سا اور مجھ کو تو اپنے قریب کر

تھوڑا سا اور مجھ کو تو اپنے قریب کر نیکی اسی کا نام ہے میرے حبیب کر کیا کیا نہیں سنا ترے بارے میں آج کل اٹھ کر دکھا دھمال یا کچھ تو عجیب کر پہلے بھی مفلسی کی ہوں سدرہ پہ یار میں دامن چھڑا کے اور نہ مجھ کو غریب کر مانوس ہو چکا ہوں میں اس عارضے سے اب اپنا تجھے جو کام ہے جا کے طبیب ...

مزید پڑھیے

آنکھوں کے زاویے بھی وہیں پر جڑے رہے

آنکھوں کے زاویے بھی وہیں پر جڑے رہے کچھ دل فریب لوگ جہاں پر کھڑے رہے آیا نہیں خیال کسی راہگیر کو کنوئیں میں سات سال تو ہم بھی پڑے رہے وہ کر رہے تھے باتیں سراسر خلاف جب جرگے میں کچھ بھی کہنے سے ہم کیوں ڈرے رہے ہم جانتے ہیں جھیلیں ہیں تم نے اذیتیں کچھ امتحان ہم پہ بھی اکثر کڑے ...

مزید پڑھیے

اذیت ناک ہوتا ہے کسی کے ہجر میں رہنا (ردیف .. ن)

اذیت ناک ہوتا ہے کسی کے ہجر میں رہنا خوشی جتنی بھی مل جائے میں غم محسوس کرتا ہوں کسی کے ہجر میں آنکھوں کو روئے عمر گزری ہے مگر اس آنکھ کو اب تک میں نم محسوس کرتا ہوں مری ہر اک خوشی تم سے مری رگ رگ میں بہتے ہو فقط تیرا ہی میں ہمدم الم محسوس کرتا ہوں عقیدت اور الفت سے میں جب مسجد ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4006 سے 4657