شاعری

اب تخیل میں ہی تصویر بنانی ہے مجھے

اب تخیل میں ہی تصویر بنانی ہے مجھے یعنی تدبیر سے تقدیر بنانی ہے مجھے رزق کیسا ہے مقدر میں لکھا کیا ہے مرے کیا اسی فن سے ہی جاگیر بنانی ہے مجھے کتنی قاتل ہے تری آنکھیں پتا ہے تجھ کو تیری آنکھوں کو ہی شمشیر بنانی ہے مجھے تیری یادوں نے ہی توڑی ہے خموشی میری میں تو سمجھا تھا کہ ...

مزید پڑھیے

آپ ہیں میں ہوں محبت کی ڈگر ہے سامنے

آپ ہیں میں ہوں محبت کی ڈگر ہے سامنے سوچئے مت خوب صورت سا سفر ہے سامنے آپ کی آنکھوں کا منظر دیکھ کر لگتا ہے یوں جس سے میں روشن ہوا ہوں وہ قمر ہے سامنے سایا بن کے ساتھ ہے وہ فاصلہ پھر بھی لگے ایسی قربت میں بھی دوری کا اثر ہے سامنے کیا کروں اس موڑ پر یہ مسئلہ پھر آ گیا اک طرف در ہے ...

مزید پڑھیے

آسماں میں چاند تاروں کے سوا کچھ بھی نہیں

آسماں میں چاند تاروں کے سوا کچھ بھی نہیں ان اجالوں میں رکھا کیا ہے بھلا کچھ بھی نہیں میں زمیں اور آسماں کے بیچ میں موجود ہوں میرے اندر بس خلا ہے اور بچا کچھ بھی نہیں زندگی بھی دیکھیے بس رائیگاں گزری میری عمر تو گزری مگر مجھ کو ملا کچھ بھی نہیں کون ہوں میں کیا ہوں آخر کیا حقیقت ...

مزید پڑھیے

کیسے کیسے خواب اب ہم کو دکھاتے ہیں یہ لوگ

کیسے کیسے خواب اب ہم کو دکھاتے ہیں یہ لوگ ایک پاگل کو یہاں پاگل بناتے ہیں یہ لوگ جانے کیا اس میں رقم کر ڈالا تھا تو نے بتا اتنی نفرت سے جو تیرا خط جلاتے ہیں یہ لوگ میری فطرت ہے مجھے مشکل پسندی کا ہے شوق اس لئے اکثر ہی مجھ کو آزماتے ہیں یہ لوگ ہے گناہوں پر مجھے افسوس اور وہ ...

مزید پڑھیے

خواب آنکھوں میں نہیں دل میں تمنا بھی نہیں

خواب آنکھوں میں نہیں دل میں تمنا بھی نہیں عشق مایوس ہوا ہو مگر ایسا بھی نہیں ان کی الفت میں اٹھائے ہیں ہزاروں الزام آج تک آنکھ اٹھا کر جنہیں دیکھا بھی نہیں راہ ہستی میں نگاہیں تو بھٹک سکتی ہیں دل بھٹک جائے مگر اتنا اندھیرا بھی نہیں بڑھ کے آئے تھے کئی غم پئے تسکیں لیکن غم دوراں ...

مزید پڑھیے

دلوں سے یاس و الم کے نقاب اتارو تو

دلوں سے یاس و الم کے نقاب اتارو تو سحر بھی روپ دکھائے گی شب گزارو تو فضا کے سینے میں نغموں کے لے اتارو تو اسی ادا سے ذرا پھر مجھے پکارو تو مرے غموں کے دھندلکے بھی چھٹ ہی جائیں گے تم اپنے گیسوئے شب رنگ کو سنوارو تو کہاں گئے مجھے تاریکیوں میں الجھا کر حیات رفتہ کے لمحو ذرا پکارو ...

مزید پڑھیے

میخانے پہ چھائی ہے افسردہ شبی کب سے

میخانے پہ چھائی ہے افسردہ شبی کب سے ساغر سے گریزاں ہے خود تشنہ لبی کب سے اے سایۂ گیسو کے دیوانو بتاؤ تو معیار جنوں ٹھہری راحت طلبی کب سے چوسا ہے لہو جس نے برسوں مہ و انجم کا انساں کا مقدر ہے وہ تیرہ شبی کب سے اک حشر سا برپا ہے زنداں سے بیاباں تک پابند سلاسل ہے ایذا طلبی کب سے جس ...

مزید پڑھیے

آغاز عاشقی کا اللہ رے زمانہ

آغاز عاشقی کا اللہ رے زمانہ ہر بات بہکی بہکی ہر گام والہانہ وہ سجدہ ہائے پیہم وہ ان کا آستانہ اے کاش لوٹ آئے گزرا ہوا زمانہ کونین کی توجہ اس بے رخی پہ صدقے ہونٹوں پہ ہے تبسم تیور مخالفانہ مجھ کو نہ تھی گوارا اپنی شکست لیکن کیا کہئے اس نظر کا انداز فاتحانہ سو بار دیکھ کر بھی ...

مزید پڑھیے

یقین صبح چمن ہے کتنا شعور ابر بہار کیا ہے

یقین صبح چمن ہے کتنا شعور ابر بہار کیا ہے سوال کرتے ہیں دشت و دریا کہ قافلے کا وقار کیا ہے جو چل پڑے جادۂ وفا پر انہیں غم روزگار کیا ہے صعوبتوں کے پہاڑ کیا ہیں تمازتوں کا غبار کیا ہے یہیں پہ منزل کریں گے راہی یہیں پہ سب قافلے رکیں گے ٹھہر ذرا شوق صبر دشمن یہ درد بے اختیار کیا ...

مزید پڑھیے

افق کے خونیں دھندلکوں کا صبح نام نہیں

افق کے خونیں دھندلکوں کا صبح نام نہیں قدم بڑھا کہ یہ ساتھی ترا مقام نہیں ابھی نہ دے مجھے اذن بہار اے ساقی ابھی حیات ستاروں سے ہم کلام نہیں ملا ہے اب کہیں صدیوں کے بعد مستوں کو وہ مے کدہ کہ جہاں کوئی تشنہ کام نہیں نہ عارضوں پہ شفق ہے نہ گیسوؤں میں شکن یہ صبح و شام نہیں میرے صبح و ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4005 سے 4657