بعد مدت کے یہ ہوا معلوم
بعد مدت کے یہ ہوا معلوم جو ہے معلوم وہ ہے نا معلوم کس نے کھوئے ہیں ہوش کیا معلوم کون کافر ہے یہ خدا معلوم ہم کو منزل کی ہے تلاش بہت گو نہیں اس کا راستا معلوم دل میں اک درد کی کسک سی تھی اب ہوئی اس کی انتہا معلوم جستجوئے ہزار کے با وصف کچھ ہوا کچھ نہیں ہوا معلوم راز کونین اسی پہ ...