شاعری

بعد مدت کے یہ ہوا معلوم

بعد مدت کے یہ ہوا معلوم جو ہے معلوم وہ ہے نا معلوم کس نے کھوئے ہیں ہوش کیا معلوم کون کافر ہے یہ خدا معلوم ہم کو منزل کی ہے تلاش بہت گو نہیں اس کا راستا معلوم دل میں اک درد کی کسک سی تھی اب ہوئی اس کی انتہا معلوم جستجوئے ہزار کے با وصف کچھ ہوا کچھ نہیں ہوا معلوم راز کونین اسی پہ ...

مزید پڑھیے

جو میرا ہوش کا عالم ہے بے خودی تو نہیں

جو میرا ہوش کا عالم ہے بے خودی تو نہیں میں جس کو اپنا سمجھتا ہوں اجنبی تو نہیں خدا گری کا یہ ماہر کچھ اور ہی شے ہے تم آدمی جسے کہتے ہو آدمی تو نہیں یہ اور بات ہے محروم التفات ہوں میں ترے کرم کے خزانے میں کچھ کمی تو نہیں ثبوت ملتا ہے اس سے کسی تعلق کا کمال برہمیٔ دوست دشمنی تو ...

مزید پڑھیے

دل کا آزار کم نہیں ہوتا

دل کا آزار کم نہیں ہوتا شوق دیدار کم نہیں ہوتا بڑھ رہی ہے بہت مسیحائی درد بیمار کم نہیں ہوتا صلح سازان بزم عالم کا جوش پیکار کم نہیں ہوتا دیکھ کر تم کو اور کو دیکھیں اب تو معیار کم نہیں ہوتا ان کے انکار روح فرسا سے ان کا اقرار کم نہیں ہوتا اے فلک اور کوئی تازہ ستم کرم یار کم ...

مزید پڑھیے

دل میں ہر وقت یاس رہتی ہے

دل میں ہر وقت یاس رہتی ہے اب طبیعت اداس رہتی ہے ان سے ملنے کی گو نہیں صورت ان سے ملنے کی آس رہتی ہے موت سے کچھ نہیں خطر مجھ کو وہ تو ہر وقت پاس رہتی ہے آب حیواں جسے بجھا نہ سکے زندگی کو وہ پیاس رہتی ہے دل تو جلووں سے بد حواس ہی تھا آنکھ بھی بد حواس رہتی ہے ان کی صورت عجب ہے ...

مزید پڑھیے

کبھی اس مکاں سے گزر گیا کبھی اس مکاں سے گزر گیا

کبھی اس مکاں سے گزر گیا کبھی اس مکاں سے گزر گیا ترے آستاں کی تلاش میں ہر آستاں سے گزر گیا کبھی مہر و ماہ و نجوم سے کبھی کہکشاں سے گزر گیا جو تیرے خیال میں چل پڑا وہ کہاں کہاں سے گزر گیا ابھی آدمی ہے فضاؤں میں ابھی اڑ رہا ہے خلاؤں میں یہ نہ جانے پہنچے گا کس جگہ اگر آسماں سے گزر ...

مزید پڑھیے

کارواں سے کچھ اس طرح بچھڑے (ردیف .. ا)

کارواں سے کچھ اس طرح بچھڑے اب کہیں کارواں نہیں ملتا درد معراج کو پہنچتا ہے جب کوئی ترجماں نہیں ملتا رہبروں کی ہوئی وہ ارزائی رہروؤں کا نشاں نہیں ملتا بے زباں ہو گئے زباں والے اب کوئی ہم زباں نہیں ملتا عرشؔ کس سے کہوں میں دل کا راز راز ہے رازداں نہیں ملتا

مزید پڑھیے

کلی پہ رنگ گلوں پر نکھار بھی تو نہیں

کلی پہ رنگ گلوں پر نکھار بھی تو نہیں بہار خاک امید بہار بھی تو نہیں کچھ ایسی آگ لگی ہے مرے گلستاں میں یہاں شجر کوئی بے برگ و بار بھی تو نہیں اسی فریب میں رہتا کہ پاس ہے منزل ستم تو یہ ہے کہ رہ میں غبار بھی تو نہیں مجھے زمانے نے بخشی ہے وہ فریب کی مے نشہ تو ایک طرف ہے خمار بھی تو ...

مزید پڑھیے

ہیں ایسے بد حواس ہجوم بلا سے ہم

ہیں ایسے بد حواس ہجوم بلا سے ہم اپنا سمجھ کے ملتے ہیں ہر آشنا سے ہم طوفان سے الجھ گئے لے کر خدا کا نام آخر نجات پا ہی گئے ناخدا سے ہم پہلا سا وہ جنون محبت نہیں رہا کچھ کچھ سنبھل گئے ہیں تمہاری دعا سے ہم یوں مطمئن سے آئے ہیں کھا کر جگر پہ چوٹ جیسے وہاں گئے تھے اسی مدعا سے ہم آنے ...

مزید پڑھیے

کسی نغمے میں ہے وہ اور نہ کسی ساز میں ہے

کسی نغمے میں ہے وہ اور نہ کسی ساز میں ہے رس بھری نرم سی لے جو تری آواز میں ہے گوش مشتاق کی خود ساختہ تفریق ہے یہ ورنہ جو ساز ہے باہر ہے وہی ساز میں ہے لے نہ ڈوبے کہیں خوش فہمیٔ ادراک تجھے نا خدائی تری پوشیدہ اسی راز میں ہے آپ ہی زندہ کریں مردہ تمناؤں کو قم بہ اذنی کا اثر آپ کی ...

مزید پڑھیے

حسینوں کے ستم کو مہربانی کون کہتا ہے

حسینوں کے ستم کو مہربانی کون کہتا ہے عداوت کو محبت کی نشانی کون کہتا ہے یہ ہے اک واقعی تفصیل میری آپ بیتی کی بیان درد دل کو اک کہانی کون کہتا ہے یہاں ہر دم نئے جلوے یہاں ہر دم نئے منظر یہ دنیا ہے نئی اس کو پرانی کون کہتا ہے تجھے جس کا نشہ ہر دم لیے پھرتا ہے جنت میں بتا اے شیخ اس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3999 سے 4657