نفاذ نظم پر اصرار ہے ایسا نہیں لگتا
نفاذ نظم پر اصرار ہے ایسا نہیں لگتا گلستاں میں کوئی سرکار ہے ایسا نہیں لگتا یہاں ہر جیب میں خوابوں کی زر مہریں کھنکتی ہیں یہ دنیا درد کا بازار ہے ایسا نہیں لگتا ہم اپنی جھونک میں آگے کی جانب بڑھتے جاتے ہیں ہمارے سامنے دیوار ہے ایسا نہیں لگتا سر پندار سے پائے جنوں کا ربط غائب ...