لکیر سنگ کو عنقا مثال ہم نے کیا
لکیر سنگ کو عنقا مثال ہم نے کیا بھلا دیا اسے دل سے کمال ہم نے کیا شروع اس نے کیا تھا تماشہ قربت کا پھر اس کے بعد تو سارا دھمال ہم نے کیا الٹ کے رکھ دیے ہم نے جنوں کے سارے اصول جنوب دشت کو شہر شمال ہم نے کیا فروغ زخم سے روشن رکھا سیاہی کو عطائے ہجر کو نجم وصال ہم نے کیا بسا لیا تری ...