شاعری

تمہاری یاد میں دنیا کو ہوں بھلائے ہوئے

تمہاری یاد میں دنیا کو ہوں بھلائے ہوئے تمہارے درد کو سینے سے ہوں لگائے ہوئے عجیب سوز سے لبریز ہیں مرے نغمے کہ ساز دل ہے محبت کی چوٹ کھائے ہوئے جو تجھ سے کچھ بھی نہ ملنے پہ خوش ہیں اے ساقی کچھ ایسے رند بھی ہیں مے کدے میں آئے ہوئے تمہارے ایک تبسم نے دل کو لوٹ لیا رہے لبوں پہ ہی ...

مزید پڑھیے

ظلمت دشت عدم میں بھی اگر جاؤں گا

ظلمت دشت عدم میں بھی اگر جاؤں گا لے کے ہمراہ مہ داغ جگر جاؤں گا عارض گل ہوں نہ میں دیدۂ بلبل گلچیں ایک جھونکا ہوں فقط سن سے گزر جاؤں گا اے فنا ٹوٹ سکے گی نہ کبھی کشتی عمر میں کسی اور سمندر میں اتر جاؤں گا دیکھ جی بھر کے مگر توڑ نہ مجھ کو گلچیں ہاتھ بھی تو نے لگایا تو بکھر جاؤں ...

مزید پڑھیے

لطف گناہ میں ملا اور نہ مزہ ثواب میں

لطف گناہ میں ملا اور نہ مزہ ثواب میں عمر تمام کٹ گئی کاوش احتساب میں تیرے شباب نے کیا مجھ کو جنوں سے آشنا میرے جنوں نے بھر دیے رنگ تری شباب میں آہ یہ دل کہ جاں گداز جوشش اضطراب ہے ہائے وہ دور جب کبھی لطف تھا اضطراب میں قلب تڑپ تڑپ اٹھا روح لرز لرز گئی بجلیاں تھیں بھری ہوئی زمزمۂ ...

مزید پڑھیے

مری ہر سانس کو سب نغمۂ محفل سمجھتے ہیں

مری ہر سانس کو سب نغمۂ محفل سمجھتے ہیں مگر اہل دل آواز شکست دل سمجھتے ہیں گماں کاشانۂ رنگیں کا ہے جس پر نگاہوں کو اسے اہل نظر گرد رہ منزل سمجھتے ہیں الٰہی کشتئ دل بہہ رہی ہے کس سمندر میں نکل آتی ہیں موجیں ہم جسے ساحل سمجھتے ہیں طرب انگیز ہیں رنگینیاں فصل بہاری کی مگر بلبل ...

مزید پڑھیے

تمہاری فرقت میں میری آنکھوں سے خوں کے آنسو ٹپک رہے ہیں

تمہاری فرقت میں میری آنکھوں سے خوں کے آنسو ٹپک رہے ہیں سپہر الفت کے ہیں ستارے کہ شام غم میں چمک رہے ہیں عجیب ہے سوز و ساز الفت طرب فزا ہے گداز الفت یہ دل میں شعلے بھڑک رہے ہیں کہ لالہ و گل مہک رہے ہیں بہار ہے یا شراب رنگیں نشاط افروز کیف آگیں گلوں کے ساغر چھلک رہے ہیں گلوں پہ بلبل ...

مزید پڑھیے

وہ نغمہ بلبل رنگیں نوا اک بار ہو جائے

وہ نغمہ بلبل رنگیں نوا اک بار ہو جائے کلی کی آنکھ کھل جائے چمن بیدار ہو جائے نظر وہ ہے جو اس کون و مکاں سے پار ہو جائے مگر جب روئے تاباں پر پڑے بے کار ہو جائے تبسم کی ادا سے زندگی بیدار ہو جائے نظر سے چھیڑ دے رگ رگ مری ہشیار ہو جائے تجلی چہرۂ زیبا کی ہو کچھ جام رنگیں کی زمیں سے ...

مزید پڑھیے

کوئی محمل نشیں کیوں شاد یا ناشاد ہوتا ہے

کوئی محمل نشیں کیوں شاد یا ناشاد ہوتا ہے غبار قیس خود اٹھتا ہے خود برباد ہوتا ہے قفس کیا حلقہ ہائے دام کیا رنج اسیری کیا چمن پر مٹ گیا جو ہر طرح آزاد ہوتا ہے یہ سب نا آشنائے لذت پرواز ہیں شاید اسیروں میں ابھی تک شکوۂ صیاد ہوتا ہے بہار سبزہ و گل ہے کرم ہوتا ہے ساقی کا جواں ہوتی ...

مزید پڑھیے

مستی میں فروغ رخ جاناں نہیں دیکھا

مستی میں فروغ رخ جاناں نہیں دیکھا سنتے ہیں بہار آئی گلستاں نہیں دیکھا زاہد نے مرا حاصل ایماں نہیں دیکھا رخ پر تری زلفوں کو پریشاں نہیں دیکھا آئے تھے سبھی طرح کے جلوے مرے آگے میں نے مگر اے دیدۂ حیراں نہیں دیکھا اس طرح زمانہ کبھی ہوتا نہ پر آشوب فتنوں نے ترا گوشۂ داماں نہیں ...

مزید پڑھیے

آشوب حسن کی بھی کوئی داستاں رہے

آشوب حسن کی بھی کوئی داستاں رہے مٹنے کو یوں مٹیں کہ ابد تک نشاں رہے طوف حرم میں یا سر کوئے بتاں رہے اک برق اضطراب رہے ہم جہاں رہے ان کی تجلیوں کا بھی کوئی نشاں رہے ہر ذرہ میری خاک کا آتش بجاں رہے کیا کیا ہیں درد عشق کی فتنہ طرازیاں ہم التفات خاص سے بھی بدگماں رہے میرے سرشک خوں ...

مزید پڑھیے

تو ایک نام ہے مگر صدائے خواب کی طرح

تو ایک نام ہے مگر صدائے خواب کی طرح میں ایک حرف ہوں مگر نشان آب کی طرح مجھے سمجھ کہ میں ہی اصل راز کائنات ہوں دھرا ہوں تیرے سامنے کھلی کتاب کی طرح میں کوئی گیت ہوں مگر صدا کی بندشوں میں ہوں مرے لہو میں راگ ہے سم عذاب کی طرح مری پناہ گاہ تھی انہی خلاؤں میں کہیں میں سطح آب پر رہا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3962 سے 4657