شاعری

کوئی چھوٹا یہاں کوئی بڑا ہے

کوئی چھوٹا یہاں کوئی بڑا ہے یہ سارا کھیل ظالم وقت کا ہے وہ سر کرتے ہیں جن کو حوصلہ ہے وگرنہ زندگی اک مرحلہ ہے تجھے معلوم کیا ہے لذت غم ترا دل عشق سے نا آشنا ہے جو خود واقف نہیں منزل سے اپنی خدا بخشے ہمارا رہنما ہے ڈبوئے گا اسے کیا کوئی طوفاں خدا کشتی کا جس کی ناخدا ہے چھپاؤں ...

مزید پڑھیے

بچپن تمام بوڑھے سوالوں میں کٹ گیا

بچپن تمام بوڑھے سوالوں میں کٹ گیا اسکول کی کتابوں سے اب جی اچٹ گیا لکھے ہوئے تھے سارے فرشتوں کے جس پہ نام شاید وہی ورق کسی بچے سے پھٹ گیا تازہ ہوا کی آس میں پردے اٹھا دیے بس یہ ہوا کہ گرد میں سامان اٹ گیا کل کارنس پہ دیکھ کے چڑیوں کا کھیلنا بے وجہ ذہن اس کے خیالوں میں بٹ گیا اک ...

مزید پڑھیے

پھول پتھر کی چٹانوں پہ کھلائیں ہم بھی

پھول پتھر کی چٹانوں پہ کھلائیں ہم بھی آپ کہیے تو کوئی شعر سنائیں ہم بھی ریت پر کھیلتے بچوں کی نظر سے بچ کر آؤ اک خواب کی تصویر بنائیں ہم بھی اب کے موسم کی ہواؤں میں بڑی وحشت ہے زرد پتوں کی طرح ٹوٹ نہ جائیں ہم بھی قافلے اور بھی اس دشت سے گزرے ہوں گے لے کے آئے ہیں فقیروں سے دعائیں ...

مزید پڑھیے

آئے تھے گھر میں آگ لگانے شریر لوگ

آئے تھے گھر میں آگ لگانے شریر لوگ اور ہنس رہے تھے دور کھڑے بے ضمیر لوگ ہمت کہاں ہے مجھ میں کہ سچ بول کر دکھاؤں بیٹھے ہوئے ہیں جوڑے کمانوں میں تیر لوگ ہر آدمی کے لب پہ ہے اک دل شکن سوال آخر کہاں چلے گئے وہ دل پذیر لوگ اک روز کہہ دیا تھا حقیر انکسار میں یہ بات سچ سمجھ گئے سارے حقیر ...

مزید پڑھیے

اس سے پہلے کہ ہوا مجھ کو اڑا لے جائے

اس سے پہلے کہ ہوا مجھ کو اڑا لے جائے اپنی زلفوں میں کوئی آ کے سجا لے جائے جس کو اس عہد میں جینے کا ہنر آتا ہو اس سے کہہ دو کہ مری عمر لگا لے جائے چاندنی کھڑکی سے کمرے میں اتر آتی ہے کوئی تصویر نہ البم سے چرا لے جائے حوصلہ دیو سے لڑنے کا کسی میں بھی نہیں چاہتے سب ہیں پری آ کے جگا لے ...

مزید پڑھیے

جو اس ضمیر فروشی کے ماہرین میں ہے

جو اس ضمیر فروشی کے ماہرین میں ہے وہ آدمی بھی سنا ہے مورخین میں ہے بڑھا رہا ہے مری سمت دوستی کا ہاتھ ضرور بات کوئی اس کی آستین میں ہے زمانہ بیت گیا شہر دشمنی چھوڑے مرا شمار ابھی تک مہاجرین میں ہے وہ مجھ سے کہتا ہے پھولوں سے احتیاط کرو مرا وہ دوست بھی میرے منافقین میں ہے میں ...

مزید پڑھیے

کام کچھ تو لینا تھا اپنے دیدۂ تر سے

کام کچھ تو لینا تھا اپنے دیدۂ تر سے کاٹ دیں کئی راتیں آنسوؤں کے خنجر سے نیند ہے تھکن سی ہے سلوٹیں ہیں یادیں ہیں کتنے لوگ اٹھیں گے صبح میرے بستر سے جان بوجھ کر ہم نے بادبان کھولے ہیں کس کو اب پلٹنا ہے بے کراں سمندر سے بھیگنا مضر تو تھا پھر بھی کیسی لذت تھی جب گھٹائیں اٹھیں تھیں ...

مزید پڑھیے

جلا جلا کے دیے پاس پاس رکھتے ہیں

جلا جلا کے دیے پاس پاس رکھتے ہیں ہم اپنے آپ کو اکثر اداس رکھتے ہیں گلوں کا رنگ پھلوں کی مٹھاس رکھتے ہیں کچھ آدمی بھی شجر کا لباس رکھتے ہیں انہیں بھی خالی گلاسوں کا ٹوٹنا ہے پسند ضرور وہ بھی کوئی زخم یاس رکھتے ہیں جو لوگ نیک تھے شبنم سے ہو گئے سیراب وہ کیا کریں جو سمندر کی پیاس ...

مزید پڑھیے

بے نشان قدموں کی کہکشاں پکڑتے ہیں

بے نشان قدموں کی کہکشاں پکڑتے ہیں ہم بھی کیا دوانے ہیں آسماں پکڑتے ہیں کوئی دل کو بھیجے ہے روشنی کی تحریریں روزنوں میں کرنوں کی ڈوریاں پکڑتے ہیں ذہن اس کے پیکر میں ڈوب ڈوب جاتا ہے کھیلتے ہوئے بچے جب دھواں پکڑتے ہیں آپ گہرے پانی کا اک بڑا سمندر ہیں ہم تو ایک مانجھی ہیں مچھلیاں ...

مزید پڑھیے

محبت کر کے شرمندہ نہیں ہوں

محبت کر کے شرمندہ نہیں ہوں میں اس دنیا کا باشندہ نہیں ہوں حساب دلبراں مجھ سے نہ مانگو میں اک شاعر ہوں کارندہ نہیں ہوں میں اک آزاد و خود روشن ستارہ کسی سورج سے تابندہ نہیں ہوں طلسم غم سے پتھر ہو گیا ہوں میں زندہ ہوں مگر زندہ نہیں ہوں یہ میرا عہد مجھ میں جی رہا ہے میں بس اپنا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3947 سے 4657