شاعری

پیاسا رہا میں بالا قدی کے فریب میں

پیاسا رہا میں بالا قدی کے فریب میں دریا بہت قریب تھا مجھ سے نشیب میں موقعہ ملا تھا پھر بھی نہ میں آزما سکا اس کی پسند کے کئی سکے تھے جیب میں پردیس جانے والا پلٹ بھی تو سکتا ہے اتنا کہاں شکیب تھا اس نا شکیب میں سنتا تو ہے بدن کی عبادت پہ آیتیں آتا نہیں ہے پھر بھی کسی کے فریب ...

مزید پڑھیے

بستی ملی مکان ملے بام و در ملے

بستی ملی مکان ملے بام و در ملے میں ڈھونڈھتا رہا کہ کہیں کوئی گھر ملے بے سمت کائنات میں کیا سمت کی تلاش بس چل پڑے ہیں راہ جہاں اور جدھر ملے آوارگی میں تم بھی کہاں تک چلو گے ساتھ پہلے بھی راستے میں کئی ہم سفر ملے لگتا ہے اب کے جان ہی لے لے گی فصل گل اشکوں میں آج بھی کئی لخت جگر ...

مزید پڑھیے

چہروں کو بے نقاب سمجھنے لگا تھا میں

چہروں کو بے نقاب سمجھنے لگا تھا میں سب کو کھلی کتاب سمجھنے لگا تھا میں جلنا ہی چاہئے تھا مجھے اور جل گیا انگاروں کو گلاب سمجھنے لگا تھا میں یہ کیا ہوا کہ نیند ہی آنکھوں سے اڑ گئی کچھ کچھ زبان خواب سمجھنے لگا تھا میں اپنی ہی روشنی سے نظر کھا گئی فریب ذروں کو آفتاب سمجھنے لگا تھا ...

مزید پڑھیے

تیر نظر نے آپ کی گھائل کیا مجھے

تیر نظر نے آپ کی گھائل کیا مجھے پھر شوق انتظار نے پاگل کیا مجھے ایسی چلی ہوائے گلستاں مری طرف چھو کر بوئے گلاب نے صندل کیا مجھے بیٹوں نے میرے نام کی دستار پہن لی اور بیٹیوں نے صورت آنچل کیا مجھے بڑھنے لگی ہے دل کی تمنائے عاشقی یوں آ کے تیری یاد نے بے کل کیا مجھے ہوش و حواس ...

مزید پڑھیے

حیلہ ہے حوالہ ہے

حیلہ ہے حوالہ ہے یہ عشق نرالا ہے شکوہ بھی شکایت بھی سب پیار کی مالا ہے سوچو تو فقط سورج سمجھو تو اجالا ہے ہے یاد وہی ازبر جو بھولنے والا ہے بچھڑے ہوئے ساتھی ہیں اور پاؤں میں چھالا ہے حالات بھی پس مرده ہونٹوں پہ بھی تالا ہے آئینہ تن تنہا سچ بولنے والا ہے یاروں کی محبت ...

مزید پڑھیے

ہو گئی اپنوں کی ظاہر دشمنی اچھا ہوا

ہو گئی اپنوں کی ظاہر دشمنی اچھا ہوا چھوڑ دی ہم نے بھی ان کی دوستی اچھا ہوا بچ گئے اپنوں کے ہر مشق ستم سے شکر ہے دوستوں نے ہم کو سمجھا اجنبی اچھا ہوا جس کو جینے کا ذرا سا بھی نہیں تھا حوصلہ ڈر کے غم سے مر گیا وہ آدمی اچھا ہوا جانے میں اور تو کے جھگڑے کیسے سلجھاتے بھی ہم آ گئی تھی ...

مزید پڑھیے

سنو کچھ دیدۂ نم بولتے ہیں

سنو کچھ دیدۂ نم بولتے ہیں جو چپ تھے آج وہ غم بولتے ہیں کہو سانسوں میں ہے آواز کس کی یہ تم کہتے ہو یا ہم بولتے ہیں تمہارے حسن کی خوشبو گلوں میں تمہارا نام موسم بولتے ہیں کسی کی بھی کبھی سنتے نہیں وہ مگر ان سے کہو ہم بولتے ہیں تمہارا راگ گھنگرو کے لبوں پر تمہارے ہونٹ سرگم بولتے ...

مزید پڑھیے

کہنے آئے تھے کچھ کہا ہی نہیں

کہنے آئے تھے کچھ کہا ہی نہیں چل دئے جیسے کچھ سنا ہی نہیں اس قدر ظلم ابن آدم پر جیسے اس کا کوئی خدا ہی نہیں ہم جما کر نگاہ بیٹھے ہیں اپنی قسمت کا در کھلا ہی نہیں فکر آغاز ہی کی ہے سب کو کوئی انجام سوچتا ہی نہیں تیرے مقتل میں آ گئے آخر اور کچھ ہم کو راستہ ہی نہیں وہ ترے نقش پا کو ...

مزید پڑھیے

ایک فتنہ سا اٹھایا ہے چلا جائے گا

ایک فتنہ سا اٹھایا ہے چلا جائے گا وقت بے وقت جو آیا ہے چلا جائے گا شہر کو سارے جلانے کے لئے نکلا تھا اب جو گھر میرا جلایا ہے چلا جائے گا بیٹھنا ہے تو گھنے پیڑ کے نیچے بیٹھو یہ تو دیوار کا سایا ہے چلا جائے گا ہم کو مارے گا کہاں شیش محل میں رہ کر صرف پتھر ہی اٹھایا ہے چلا جائے ...

مزید پڑھیے

کسی کی چاہ میں غم کیا ہے اور خوشی کیا ہے

کسی کی چاہ میں غم کیا ہے اور خوشی کیا ہے تجھے خبر نہیں مفہوم عاشقی کیا ہے تپش میں دھوپ کے ہوتی ہے قدر سائے کی نہ ہو جو موت کا خطرہ تو زندگی کیا ہے نہیں ہے فرق اندھیرے میں اور اجالے میں نظر نہ آئے جہاں تو وہ روشنی کیا ہے ہیں یوں تو سیکڑوں مخلوق بزم ہستی میں نہیں ہے دل میں محبت تو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3946 سے 4657