شاعری

اک شہر ضیا بار یہاں بھی ہے وہاں بھی

اک شہر ضیا بار یہاں بھی ہے وہاں بھی لیکن مرا آزار یہاں بھی وہاں بھی روشن مرے اندر کے اندھیروں میں برابر اک آتش پندار یہاں بھی ہے وہاں بھی احباب مرے ایک ہی جیسے ہیں جہاں ہیں اک جذبۂ ایثار یہاں بھی ہے وہاں بھی اک صبح ترے ساتھ کئی میل چلے تھے اس صبح کا اسرار یہاں بھی ہے وہاں ...

مزید پڑھیے

اجنبیت تھی مگر خاموش استفسار پر

اجنبیت تھی مگر خاموش استفسار پر نام اس نے اک علامت میں لکھا دیوار پر رائیگاں جاتی ہوئی عمر رواں کی اک جھلک تازیانہ ہے قناعت آشنا کردار پر دشمنوں کے درمیاں میرا محافظ ہے قلم میں نے ہر تلوار روکی ہے اسی تلوار پر دن ہو جیسا بھی گزر جاتا ہے اپنے طور سے رات ہوتی ہے مگر بھاری ترے ...

مزید پڑھیے

گلشن گلشن شعلۂ گل کی زلف صبا کی بات چلی

گلشن گلشن شعلۂ گل کی زلف صبا کی بات چلی حرف جنوں کی بند گراں کی جرم و سزا کی بات چلی زنداں زنداں شور جنوں ہے موسم گل کے آنے سے محفل محفل اب کے برس ارباب وفا کی بات چلی عہد ستم ہے دیکھیں ہم آشفتہ سروں پر کیا گزرے شہر میں اس کے بند قبا کی رنگ حنا کی بات چلی ایک ہو دیوانہ اک نے سر ...

مزید پڑھیے

غبار سا ہے سر شاخسار کہتے ہیں

غبار سا ہے سر شاخسار کہتے ہیں چلا ہے قافلۂ نوبہار کہتے ہیں بدل گئی ہیں جہاں پر وفا کی سب رسمیں اجڑ گئے ہیں دلوں کے دیار کہتے ہیں اس ایک بات سے گلچیں کا دل دھڑکتا ہے کہ ہم صبا سے حدیث بہار کہتے ہیں یہ ہجو مے تو کسی مصلحت سے ہے ورنہ فقیہ شہر بھی ہے بادہ خوار کہتے ہیں جسے کبھی سر ...

مزید پڑھیے

باہر کا ماحول تو ہم کو اکثر اچھا لگتا ہے

باہر کا ماحول تو ہم کو اکثر اچھا لگتا ہے شام سے اک دن گھر میں رہ کر دیکھیں کیسا لگتا ہے کس کی یادیں کس کے چہرے اگتے ہیں تنہائی میں آنگن کی دیواروں پر کچھ سایہ سایہ لگتا ہے جسموں کے اس جنگل میں بس ایک ہی رام کہانی ہے غور سے دیکھو تو ہر چہرہ اپنا چہرا لگتا ہے موسم کی عیاش ہوا نے ...

مزید پڑھیے

میرا بچپن ہی مجھے یاد دلانے آئے

میرا بچپن ہی مجھے یاد دلانے آئے پھر ہتھیلی پہ کوئی نام لکھانے آئے آ کے چپکے سے کوئی چیخ پڑے کانوں میں گدگدانے نہ سہی آئے ڈرانے آئے لوٹ لے آ کے مری صبح کی میٹھی نیندیں میں کہاں کہتا ہوں وہ مجھ کو جگانے آئے میرے آنگن میں نہ جگنو ہیں نہ تتلی نہ گلاب کوئی آئے بھی تو اب کس کے بہانے ...

مزید پڑھیے

یہ تو سچ ہے کہ ٹوٹے پھوٹے ہیں

یہ تو سچ ہے کہ ٹوٹے پھوٹے ہیں میرے بچپن کے یہ کھلونے ہیں تپتے صحرا میں تیز بارش کے میں نے کتنے ہی خواب دیکھے ہیں کون کس کی برہنگی پہ ہنسے سب ہی زیر لباس ننگے ہیں وہ کبوتر تھے کتنے گرم و گداز اب بھی ہاتھوں میں لمس چپکے ہیں ان کے پانی سے کیا بجھے گی پیاس یہ گھڑے تو بہت ہی کچے ...

مزید پڑھیے

ہمیشہ تنگ رہا مجھ پہ زندگی کا لباس

ہمیشہ تنگ رہا مجھ پہ زندگی کا لباس کبھی کھلا نہ مرے جسم پر خوشی کا لباس حسین پھولوں کی صحبت میں اور کیا ہوتا الجھ کے رہ گیا کانٹوں میں زندگی کا لباس جو جل گیا ہے وہی جانتا ہے اپنی جلن کسی کے جسم پہ اٹتا نہیں کسی کا لباس یہ کیا ستم کیا تم نے تو چاک کر ڈالا ذرا ذرا سا مسکنا تھا ...

مزید پڑھیے

جو سزا چاہو محبت سے دو یارو مجھ کو

جو سزا چاہو محبت سے دو یارو مجھ کو لیکن اخلاق کے پتھر سے نہ مارو مجھ کو آبشاروں کی طرح میں نہیں گرنے والا دھوپ کی طرح پہاڑوں سے اتارو مجھ کو میں تو ہر حال میں ڈوبوں گا مگر اخلاقاً یہ ضروری ہے کہ ساحل سے پکارو مجھ کو عظمت تشنہ لبی بھول نہ جاؤ لوگو پھر کسی دشت سے اک بار گزارو مجھ ...

مزید پڑھیے

اتنا احساس تو دے پالنے والے مجھ کو

اتنا احساس تو دے پالنے والے مجھ کو میں سنبھل جاؤں اگر کوئی سنبھالے مجھ کو بے سہارا ہوں کسی وقت بھی گر جاؤں گا اپنی دیوار میں جو چاہے ملا لے مجھ کو ڈوبنے سے جو بچائے گا وہ کیا پائے گا میں ابھی لاش نہیں کون نکالے مجھ کو میں پیمبر تو نہیں تھا کہ اماں پا جاتا کیا چھپاتے بھی کہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3945 سے 4657