اک شہر ضیا بار یہاں بھی ہے وہاں بھی
اک شہر ضیا بار یہاں بھی ہے وہاں بھی لیکن مرا آزار یہاں بھی وہاں بھی روشن مرے اندر کے اندھیروں میں برابر اک آتش پندار یہاں بھی ہے وہاں بھی احباب مرے ایک ہی جیسے ہیں جہاں ہیں اک جذبۂ ایثار یہاں بھی ہے وہاں بھی اک صبح ترے ساتھ کئی میل چلے تھے اس صبح کا اسرار یہاں بھی ہے وہاں ...