شاعری

دے کے وہ سارے اختیار مجھے

دے کے وہ سارے اختیار مجھے اور کرتا ہے شرمسار مجھے زخم ترتیب دے رہا ہوں میں اور کچھ وقت دے ادھار مجھے پارسائی کا زعم ہے ان کو کہہ رہے ہیں گناہ گار مجھے ضد پہ آؤں تو توڑ لوں تارے مت سمجھ راہ کا غبار مجھے فاصلے اب سمٹ نہیں سکتے اب پرایوں میں کر شمار مجھے دل کے گلشن میں تم چلے ...

مزید پڑھیے

زندگی راستے بدل رہی ہے

زندگی راستے بدل رہی ہے موت بھی اپنی چال چل رہی ہے یا الٰہی تعلقات کی خیر دوستی حاشیے پہ چل رہی ہے چاند مصروف ہے خلاؤں میں روشنی ذائقے بدل رہی ہے ہنس کے منظور کر لیا ہے مگر بات اب بھی ذرا سی کھل رہی ہے بے یقینی کی اک ردا اوڑھے زندگی ساتھ ساتھ چل رہی ہے بد گمانی کا احتمال تو ...

مزید پڑھیے

انقلابی سوچ شاعر کا قلم اپنی جگہ

انقلابی سوچ شاعر کا قلم اپنی جگہ آپ کی انگڑائیاں زلفوں کا خم اپنی جگہ جانتا ہوں میں تمہارے باطنی کردار کو جبہ و دستار عالی محترم اپنی جگہ ہم رہے اپنی انا میں کھو نہ بدلی آپ نے آپ بھی اپنی جگہ ہیں اور ہم اپنی جگہ آپ کی ہر بات کو تسلیم فرمایا گیا آپ کے فرمان کے سب بیش و کم اپنی ...

مزید پڑھیے

ہم بھی کچھ کچھ خراب ہو جائیں

ہم بھی کچھ کچھ خراب ہو جائیں دور سارے حجاب ہو جائیں چاند بادل کی اوٹ سے نکلے غم یہ سارے نقاب ہو جائیں کچھ تو اپنی نظر بھی آوارہ کچھ اب وہ ماہتاب ہو جائیں کون پھر ان سے دل کی بات کہے جب وہ عالی جناب ہو جائیں چھو کے نکلیں جو تیرے ہونٹوں کو لفظ سارے گلاب ہو جائیں دھاندلی کر کے ہی ...

مزید پڑھیے

ہے آئینے کے مقابل جو ہو بہ ہو کیا ہے

ہے آئینے کے مقابل جو ہو بہ ہو کیا ہے یہ میرا روپ نہیں ہے تو جلوہ رو کیا ہے مرے بدن کی رگوں میں شراب کی صورت جو سر پٹکتا گزرتا ہے جو بہ جو کیا ہے منافرت کے خسارے میں خوش خرام رہے سرشت آدم خاکی میں خو بہ خو کیا ہے مگن ہے اور کسی سوچ میں مرا وجدان میں اپنے آپ سے مخفی ہوا ہوں تو کیا ...

مزید پڑھیے

خیال و خواب کے دریا کے پار اثر بھی گئے

خیال و خواب کے دریا کے پار اثر بھی گئے جدھر ہمیں نہیں جانا تھا ہم ادھر بھی گئے بدن سے لپٹے رہے بے زمینیوں کے عذاب تلاش رزق کی خاطر جدھر جدھر بھی گئے جو چاہتے تھے ستاروں سے تیری مانگ بھرے انہیں تلاش نہ کر اب وہ لوگ مر بھی گئے اب ان کی یادوں سے آنکھوں کو اور سرخ نہ کر وہ حادثے تو ...

مزید پڑھیے

اسی زمین اسی آسماں کے ساتھ رہے

اسی زمین اسی آسماں کے ساتھ رہے جہاں کے تھے ہی نہیں اس جہاں کے ساتھ رہے نئی زمیں پہ کھلاتے رہے شناخت کے پھول جہاں رہے وہاں اپنی زباں کے ساتھ رہے سجا کے نوک پلک تک وراثتوں کا جمال ثقافت وطن میزباں کے ساتھ رہے ہم اپنے لمحۂ موجود کے حوالوں سے غبار قافلۂ رفتگاں کے ساتھ رہے تراشتی ...

مزید پڑھیے

ابھی اس فکر سے نکلا نہیں ہوں

ابھی اس فکر سے نکلا نہیں ہوں میں کیا ہوں اور آخر کیا نہیں ہوں مجھے تم میرے موسم ہی میں پڑھنا نصاب نسل آئندہ نہیں ہوں وفاداری کناروں سے جو بدلے میں دریاؤں کا وہ رستہ نہیں ہوں جو دل کی دھڑکنوں کی ہم نوا ہے اسی آواز پر پلٹا نہیں ہوں بہت سے مسئلے ہیں زندگی میں مگر تجھ کو تو میں ...

مزید پڑھیے

دیے جو کر دیے گل عہد شب میں رہتے ہوئے

دیے جو کر دیے گل عہد شب میں رہتے ہوئے یہ احتجاج تھا حد ادب میں رہتے ہوئے ہر ایک بات پہ اشک ہر نئی سحر سے گریز برس گزر گئے کیوں اور کب میں رہتے ہوئے وہ لوگ کون تھے کس آب و گل کا پیکر تھے جو پھول جیسے تھے دشت غضب میں رہتے ہوئے گزشتگان محبت سے کچھ ہنر لے کر جدا سبھی سے رہے اور سب میں ...

مزید پڑھیے

نئی دنیا نئے منظر نئے افکار ملے

نئی دنیا نئے منظر نئے افکار ملے سب شجر نقل مکانی کے ثمر بار ملے باد ہجرت تو ہمیں لے کے جہاں آئی ہے ان گلی کوچوں میں انسانوں کے شہکار ملے خوب صورت سے کسی بار کے اک گوشے میں دل کی تنہائی مٹانے کو کئی یار ملے کہیں کھو جانے کا دکھ ایک حقیقت ہی سہی اپنی پہچان کے بھی نت نئے آثار ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3937 سے 4657