شاعری

چھوڑ کر تیری مٹی کدھر جائیں گے

چھوڑ کر تیری مٹی کدھر جائیں گے اے وطن تجھ میں اک دن بکھر جائیں گے دور رہ کر جہاں سے گزر جائیں گے گھر جو آ جاؤ تم تو ٹھہر جائیں گے یوں نہ بکھرو ذرا حوصلہ تو رکھو دکھ بھرے دن کبھی تو گزر جائیں گے بھیج کر کچھ رقم بوڑھے ماں باپ کو قرض کیا پرورش کے اتر جائیں گے کتنی مدت سے گھر کو ...

مزید پڑھیے

دشمنی مجھ سے آ نبھا تو سہی

دشمنی مجھ سے آ نبھا تو سہی میری حالت پہ مسکرا تو سہی آگ میں گھر گیا ہے پھر مومن معجزہ اے خدا دکھا تو سہی اک تعلق بنا رہے تجھ سے مت وفا کر مگر ستا تو سہی جی تو کرتا ہے تجھ سے بات کروں تو بھی مجھ سے نظر ملا تو سہی تیرے میرے کی بات جانے دے عمر کتنی بچی بتا تو سہی کیسے خود کو سنبھال ...

مزید پڑھیے

دھوپ سر سے گزرنے والی ہے

دھوپ سر سے گزرنے والی ہے زندگی شام کرنے والی ہے آج رشتوں کو جوڑ کر رکھیے کل تو ہستی بکھرنے والی ہے یہ جو بل کھا کے چل رہی ہے بہت یہ ندی تو اترنے والی ہے پھر بگولا اٹھا ہے بستی میں پھر قیامت گزرنے والی ہے یورش رنج و غم سے تو آصفؔ بن کے کندن نکھرنے والی ہے

مزید پڑھیے

اپنی صورت کا ہی دیدار دوبارہ کر لیں

اپنی صورت کا ہی دیدار دوبارہ کر لیں ڈوبتے چاند کا ہم پھر سے نظارہ کر لیں زندگی اتنی غنیمت تو نہیں جس کے لئے عہد کم ظرف کی ہر بات گوارہ کر لیں شیخ جس عہد کی دیتا ہے مثالیں ہم کو کیسے اس عہد کو ہم زندہ دوبارہ کر لیں عمر بھر اہل طرب لوٹ کے ساحل کے مزے کیا جواں مردی ہے طوفاں سے کنارہ ...

مزید پڑھیے

سبھی یہاں ہیں دریدہ‌ دامن سبھی کا اب حال ایک سا ہے

سبھی یہاں ہیں دریدہ‌ دامن سبھی کا اب حال ایک سا ہے اب ایسی صورت میں کس سے پوچھیں یہ کیا بنا ہے یہ کیا ہوا ہے کچھ اس طرح سے کبھی ہوا تھا سکوت دار و رسن کا عالم نہ کوئی دیوانہ سر بکف ہے نہ کوئی وحشی ڈٹا ہوا ہے مرض یہ کیا ہے کہ جس کے ڈر سے تمام دنیا لرز رہی ہے یہ کیا وبا ہے کہ جس کے آگے ...

مزید پڑھیے

اپنی صورت کا ہی دیدار دوبارہ کر لیں

اپنی صورت کا ہی دیدار دوبارہ کر لیں ڈوبتے چاند کا ہم پھر سے نظارہ کر لیں زندگی اتنی غنیمت تو نہیں جس کے لئے عہد کم ظرف کی ہر بات گوارہ کر لیں شیخ جس عہد کی دیتا ہے مثالیں ہم کو کیسے اس عہد کو ہم زندہ دوبارہ کر لیں عمر بھر اہل طرب لوٹ کے ساحل کے مزے کیا جواں مردی ہے طوفاں سے کنارا ...

مزید پڑھیے

سبھی یہاں ہیں دریدہ‌ دامن سبھی کا اب حال ایک سا ہے

سبھی یہاں ہیں دریدہ‌ دامن سبھی کا اب حال ایک سا ہے اب ایسی صورت میں کس سے پوچھیں یہ کیا بنا ہے یہ کیا ہوا ہے کچھ اس طرح سے کبھی ہوا تھا سکوت دار و رسن کا عالم نہ کوئی دیوانہ سر بکف ہے نہ کوئی وحشی ڈٹا ہوا ہے یہ کیا مرض ہے کہ جس کے ڈر سے تمام دنیا لرز رہی ہے یہ کیا وبا ہے کہ جس کے آگے ...

مزید پڑھیے

ہے غلط فہمی ہوا کی اس سے ڈر جاتا ہوں میں

ہے غلط فہمی ہوا کی اس سے ڈر جاتا ہوں میں حوصلہ بن کر چراغوں میں اتر جاتا ہوں میں نیند کی آغوش میں تھک کر گروں میں جب کبھی خواب جی اٹھتے ہیں میرے اور مر جاتا ہوں میں گھر مکینوں سے بنا کرتا ہے پتھر سے نہیں بس اسی امید پر ہر روز گھر جاتا ہوں میں میں نے تجھ سے کیا کبھی پوچھا کدھر ...

مزید پڑھیے

جراثیموں بھری سوئی سے تن کو سی رہے ہیں

جراثیموں بھری سوئی سے تن کو سی رہے ہیں دوائی زہر سی ہے زہر بھی تو پی رہے ہیں ہمارا سانس ہی سرطان بن جائے نہ دل کا ہم ایسی حبس آمیزہ ہوا میں جی رہے ہیں قرنطینہ میں رکھے ہوں یا احراموں کے اندر بدن عبرت سرا ماحول پر طاری رہے ہیں تگ و تاز نفس ہے موت کے مد مقابل لہو انسان کا نادیدہ ...

مزید پڑھیے

سبک سا درد تھا اٹھتا رہا جو زخموں سے

سبک سا درد تھا اٹھتا رہا جو زخموں سے تو ہم بھی کرتے رہے چھیڑ چھاڑ اشکوں سے سبھی کو زخم تمنا دکھا کے دیکھ لیے خدا سے داد ملی اور نہ اس کے بندوں سے دھواں سا اٹھنے لگا فکر و فن کے ایواں میں لہو کی باس سی آنے لگی ہے شعروں سے اب ان سے دیکھیے کب منزلیں ہویدا ہوں اٹھا کے لایا ہوں کچھ نقش ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3919 سے 4657