شاعری

شام دل کو بجھائے جاتی ہے

شام دل کو بجھائے جاتی ہے تیری باتیں سنائے جاتی ہے یہ اداسی بھی خوب صورت ہے مجھ کو رنگیں بنائے جاتی ہے رات کی آنکھ سے اسے دیکھو کیسے منظر دکھائے جاتی ہے ایک لمحے کی روشنی مجھ میں ایک دنیا بسائے جاتی ہے کتنی گمبھیر ہے یہ تاریکی میرے اندر سمائے جاتی ہے ہجر کی شب ہماری جانب ...

مزید پڑھیے

اپنی حالت پہ آنسو بہانے لگے

اپنی حالت پہ آنسو بہانے لگے سرد راتوں میں خود کو جگانے لگے سرخ تاروں کے ہم راہ کر کے سفر خواب زاروں سے کیوں آگے جانے لگے دور بجنے لگی ہے کہیں بانسری ہم بھی زندان میں گیت گانے لگے جو بصارت بصیرت سے محروم ہیں شہر کے آئنوں کو سجانے لگے ہم نے جب حال دل ان سے اپنا کہا وہ بھی قصہ کسی ...

مزید پڑھیے

سنہری دھوپ سے چہرہ نکھار لیتی ہوں

سنہری دھوپ سے چہرہ نکھار لیتی ہوں اداسیوں میں بھی خود کو سنوار لیتی ہوں مرے وجود کے اندر ہے اک قدیم مکان جہاں سے میں یہ اداسی ادھار لیتی ہوں کبھی کبھی مجھے خود پر یقیں نہیں ہوتا کبھی کبھی میں خدا کو پکار لیتی ہوں جنم جنم کی تھکاوٹ ہے میرے سینے میں جسے میں اپنے سخن میں اتار ...

مزید پڑھیے

پو پھٹتے ہی ٹرین کی سیٹی جب کانوں میں گونجتی ہے

پو پھٹتے ہی ٹرین کی سیٹی جب کانوں میں گونجتی ہے ثروت تیری یاد مرے دل کے خانوں میں گونجتی ہے شہزادی کے ہجر میں لکھے کچھ لفظوں کی حیرانی شہزادی کے گھر تک آتے مے خانوں میں گونجتی ہے شہزادی کے کانوں میں جو بات کہی تھی اک تو نے بعد ترے وہ بات ترے ہی افسانوں میں گونجتی ہے جان سے جانے ...

مزید پڑھیے

تیری یادیں بحال رکھتی ہے

تیری یادیں بحال رکھتی ہے رات دل پر وبال رکھتی ہے شب غم کی یہ راگنی بن میں بانسری جیسی تال رکھتی ہے دل کی وادی سے اٹھنے والی کرن وحشتوں کو اجال رکھتی ہے بام و در پر اترنے والی دھوپ سبز رنگ ملال رکھتی ہے شام کھلتی ہے تیرے آنے سے لب پہ تیرا سوال رکھتی ہے ایک لڑکی اداس صفحوں ...

مزید پڑھیے

اپنی آنکھیں جو بند کر دیکھوں

اپنی آنکھیں جو بند کر دیکھوں سبز خوابوں کا میں سفر دیکھوں ڈوبنے کی نہ تیرنے کی خبر عشق دریا میں بس اتر دیکھوں بعد اس کے نہیں خبر کیا ہے آئنے تک تو چشم تر دیکھوں دل میں بجتا ہوا دھڑکتا ہوا اپنی تنہائی کا گجر دیکھوں بین کرتی ہوئی بہاروں میں خود میں اک شور خیر و شر دیکھوں خواب ...

مزید پڑھیے

صدیوں کو بے حال کیا تھا

صدیوں کو بے حال کیا تھا اک لمحے نے سوال کیا تھا مٹی میں تصویریں بھر کے کوزہ گر نے کمال کیا تھا باہر بجتی شہنائی نے اندر کتنا نڈھال کیا تھا جرم فقط اتنا تھا میں نے اک رستے کو بحال کیا تھا خوشبو جیسی رات نے میرا اپنے جیسا حال کیا تھا ایک سنہرے ہجر نے مجھ سے کتنا سبز وصال کیا ...

مزید پڑھیے

بہت سے ہم نے سمجھوتے کیے ہیں

بہت سے ہم نے سمجھوتے کیے ہیں کسی کے ساتھ اب تک یوں جئے ہیں بہت ڈرتا ہے جو رسوائیوں سے مرے اشعار تو اس کے لئے ہیں ہمیں دیکھا تو اکثر چپکے چپکے تمہارے چرچے لوگوں میں ہوئے ہیں نہ جانے دور تک کیوں بات پہنچی لبوں کو آج تک ہم تو سیے ہیں اسے عادت ہے لیکن بھولنے کی کسی نے چند وعدے تو ...

مزید پڑھیے

دعائیں مانگ کے دل کو قرار رہتا ہے

دعائیں مانگ کے دل کو قرار رہتا ہے ترے کرم کا ہمیں انتظار رہتا ہے وہ میرے درد کو پڑھتا ہے میرے چہرے سے نمی ہو آنکھ میں تو بے قرار رہتا ہے اگر کبھی میں جھڑک دوں کسی سوالی کو مرا ضمیر بہت شرمسار رہتا ہے جب ایک فرقے کے لوگوں پہ ٹوٹتے ہیں ستم تماش بینوں میں ہی شہریار رہتا ہے یہ سچ ...

مزید پڑھیے

خستہ دل ہیں نہ ہمیں اور ستانا لوگو

خستہ دل ہیں نہ ہمیں اور ستانا لوگو ذکر اس کا نہ زباں پر کبھی لانا لوگو عقل تیار تو ہے ترک تعلق کو مگر اتنا آسان نہیں دل کو منانا لوگو جا بجا ڈھونڈھتی پھرتی ہیں نگاہیں جس کو جانے کس شہر میں ہے اس کا ٹھکانہ لوگو دور تک پھیل گئی بات ہماری اس کی کل لکھا جائے گا اک اور فسانہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3918 سے 4657