اتنے دن کے بعد تو آیا ہے آج (ردیف .. ن)
اتنے دن کے بعد تو آیا ہے آج سوچتا ہوں کس طرح تجھ سے ملوں میرے اندر جاگ اٹھی اک چاندنی میں زمیں سے آسماں تک انگ ہوں اور اجلا ہو گیا قربت کا چاند اور گہرا ہو گیا تیرا فسوں اے سراپا رنگ نکہت تو بتا کس دھنک سے تیرا پیراہن بنوں سارے گل بوٹے تر و تازہ ہوئے دور تک پہنچی ہے میری موج ...