شاعری

اتنے دن کے بعد تو آیا ہے آج (ردیف .. ن)

اتنے دن کے بعد تو آیا ہے آج سوچتا ہوں کس طرح تجھ سے ملوں میرے اندر جاگ اٹھی اک چاندنی میں زمیں سے آسماں تک انگ ہوں اور اجلا ہو گیا قربت کا چاند اور گہرا ہو گیا تیرا فسوں اے سراپا رنگ نکہت تو بتا کس دھنک سے تیرا پیراہن بنوں سارے گل بوٹے تر و تازہ ہوئے دور تک پہنچی ہے میری موج ...

مزید پڑھیے

سو رنگ ہے کس رنگ سے تصویر بناؤں

سو رنگ ہے کس رنگ سے تصویر بناؤں میرے تو کئی روپ ہیں کس روپ میں آؤں کیوں آ کے ہر اک شخص مرے زخم کریدے کیوں میں بھی ہر اک شخص کو حال اپنا سناؤں کیوں لوگ مصر ہیں کہ سنیں میری کہانی یہ حق مجھے حاصل ہے سناؤں کہ چھپاؤں اس بزم میں اپنا تو شناسا نہیں کوئی کیا کرب ہے تنہائی کا میں کس کو ...

مزید پڑھیے

چند لمحے جو انتظار کے ہیں

چند لمحے جو انتظار کے ہیں کرب کے اور انتشار کے ہیں شاخ گل یوں کبھی جھلستی نہیں یہ کرم موسم بہار کے ہیں جو دئے ٹمٹما رہے ہیں ابھی میرے اجڑے ہوئے دیار کے ہیں اب کہیں کچھ دکھائی دے کیسے سارے منظر دھویں غبار کے ہیں کہاں جا کر سکوں تلاش کروں ہر جگہ وقت خلفشار کے ہیں وہ کسی کام کے ...

مزید پڑھیے

خودی کو بھول کر میں نے کسے محبوب تھا جانا

خودی کو بھول کر میں نے کسے محبوب تھا جانا محبت کے جو لائق ہے وہ ہستی میں نہ پہچانا کہ جس کو عشق کہتے ہیں کوئی قابل نہیں اس کے بھلا جانا تو بس عشق حقیقی کو بھلا جانا کہیں فرہاد شیریں تھے کہیں لیلیٰ کہیں تھا قیس انا الحق کیوں کہا منصور نے کوئی بھی نہ جانا بھلا کر ذات وہ جس کو ہی ہے ...

مزید پڑھیے

میرا ماضی مجھ سے کٹا نہیں مرا حال مجھ سے جدا کیا

میرا ماضی مجھ سے کٹا نہیں مرا حال مجھ سے جدا کیا مجھے نوچ لینے کے شوق نے تجھے کتنا وحشی بنا دیا میرے ذکر پہ رہی کجروی مجھے اہل محفل بتا رہے کبھی مانگتا تھا دعاؤں میں وہی نام اس نے بھلا دیا میں جو ایک عہد سے قفس میں تھا تو یہ ٹھان کر میں رہا ہوا کہیں کوئی پنجرا دکھا مجھے تو ہر ایک ...

مزید پڑھیے

دھوپ گرنے لگی بدن بھر پر

دھوپ گرنے لگی بدن بھر پر چھاؤں رکھ دے کوئی مرے سر پر بوکھلا سے گئے در و دیوار ایک دستک ہوئی کسی در پر ایک بے کار کی ضرورت تھی مسکراتی رہی مقدر پر رات تکیے پہ بوند بوند گری کائی جمنے لگی ہے بستر پر سارا دن مستقل تناؤ تھا اب ہنسی آ رہی ہے دفتر پر گھر پہ رہتا تھا ایک سایۂ غم اور ...

مزید پڑھیے

خوف ورنہ تو کس کے بس کا ہے

خوف ورنہ تو کس کے بس کا ہے شہر کو حادثوں کا چسکا ہے ورنہ ہم جسم تک بھی آ جاتے مسئلہ روح کی ہوس کا ہے آدمی تو خدا کے بس کا نہیں پر خدا آدمی کے بس کا ہے اک ضرورت ہے اس کے پہلو میں اور بدن سب کی دسترس کا ہے مندمل زخم رستا رہتا ہے شائبہ داغ پر بھی پس کا ہے عشق صحرا نہیں بگولا ہے اور ...

مزید پڑھیے

جو سینہ پر تیری زلفوں کا ابر آتا تو بہتر تھا

جو سینہ پر تیری زلفوں کا ابر آتا تو بہتر تھا جلائے‌ قلب ہوتی دل سنبھل جاتا تو بہتر تھا کسی لیلیٰ سے کم جانا نہیں تجھ کو کبھی ہم نے تجھے بھی ہم میں کوئی قیس دکھ جاتا تو بہتر تھا نہیں پانی میسر تو ان آنکھوں کو تو دھوکا ہو سراب ریگ سے اک پل کو چین آتا تو بہتر تھا یہ کیسے دوست میں نے ...

مزید پڑھیے

یہ کیسا شہر کا منظر دکھائی دیتا ہے

یہ کیسا شہر کا منظر دکھائی دیتا ہے ہر ایک سمت سمندر دکھائی دیتا ہے سلگتی دھوپ میں اکثر دکھائی دیتا ہے مجھے وہ شخص تو پتھر دکھائی دیتا ہے سمجھ رہا تھا جسے اپنا غم گسار بہت اسی کے ہاتھ میں خنجر دکھائی دیتا ہے خدا ہی جانے کہ رہتا ہے اس میں آخر کون مہیب دشت میں اک گھر دکھائی دیتا ...

مزید پڑھیے

پھر صدائے محبت سنی ہے ابھی

پھر صدائے محبت سنی ہے ابھی زخم نو کی سعادت ملی ہے ابھی رابطہ دل کا دل سے ہے کافی مجھے نور ہی نور میں زندگی ہے ابھی وقت بدلا ہے ہم تم تو بدلے نہیں وہ ہی چاہت وہی بے بسی ہے ابھی یہ جبیں اور کسی در پہ جھکتی ہی کیوں اس میں تیری محبت جڑی ہے ابھی کچھ تمنا سے بڑھ کر بھی پایا مگر آرزو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3861 سے 4657