شاعری

وہ دور قریب آ رہا ہے (ردیف .. ی)

وہ دور قریب آ رہا ہے جب داد ہنر نہ مل سکے گی اس شب کا نزول ہو رہا ہے جس شب کی سحر نہ مل سکے گی پوچھو گے ہر اک سے ہم کہاں ہیں اور اپنی خبر نہ مل سکے گی آساں بھی نہ ہوگا گھر میں رہنا توفیق سفر نہ مل سکے گی خنجر سی زباں کا زخم کھا کے مرہم سی نظر نہ مل سکے گی اس راہ سفر میں سایۂ ...

مزید پڑھیے

کیا وقت پڑا ہے ترے آشفتہ سروں پر

کیا وقت پڑا ہے ترے آشفتہ سروں پر اب دشت میں ملتے نہیں ملتے ہیں گھروں پر پہچان لو اس خاک رہ حرص و ہوا کو قدموں سے یہ اٹھتی ہے تو گرتی ہے سروں پر خود اپنے ہی اندر سے ابھرتا ہے وہ موسم جو رنگ بچھا دیتا ہے تتلی کے پروں پر سوغات سمجھتے تھے جسے دشت وفا کی وہ خاک بھی سجتی نہیں اب اپنے ...

مزید پڑھیے

سوچتے اور جاگتے سانسوں کا اک دریا ہوں میں

سوچتے اور جاگتے سانسوں کا اک دریا ہوں میں اپنے گم گشتہ کناروں کے لیے بہتا ہوں میں بیش قیمت ہوں مری قیمت لگا سکتا ہے کون تیرے کوچے میں بکوں تو پھر بہت سستا ہوں میں خواب جو دیکھے تھے میں نے وہ بھی اب دھندلا گئے اب تو تم آ جاؤ صاحب اب بہت تنہا ہوں میں جل گیا سارا بدن ان موسموں کی آگ ...

مزید پڑھیے

کیا بات نرالی ہے مجھ میں کس فن میں آخر یکتا ہوں

کیا بات نرالی ہے مجھ میں کس فن میں آخر یکتا ہوں کیوں میرے لیے تم کڑھتے ہو میں ایسا کون انوکھا ہوں وہ لمحہ یاد کرو جب تم اس قلب سرا میں آئے تھے اس روز سے اپنا حال ہے یہ کبھی ہنستا ہوں کبھی روتا ہوں کچھ بھولی بسری یادوں کا البیلا شہر بسایا ہے کوئی وقت ملے تو آ نکلو یہیں ملتا ہوں ...

مزید پڑھیے

دل کی مسرتیں نئی جاں کا ملال ہے نیا

دل کی مسرتیں نئی جاں کا ملال ہے نیا میری غزل میں آج پھر ایک سوال ہے نیا اب جو کھلے ہیں دل میں پھول ان کی بہار ہے نئی اب جو لگی ہے دل میں آگ اس کا جلال ہے نیا اس کے لیے بھی غمزۂ ناز و ادا کا وقت ہے اپنے لیے بھی موسم ہجر و وصال ہے نیا اس میں بھی خود نمائی کے رنگ بہت ہیں ان دنوں اپنے ...

مزید پڑھیے

دل تو برساتا ہے ہر روز ہی غم کے ساون

دل تو برساتا ہے ہر روز ہی غم کے ساون پھر بھی بجھتے نہیں یادوں کے سلگتے ایندھن زندگی خوابوں کی چلمن میں یوں اٹھلاتی ہے جیسے سکھیوں میں گھری ہو کوئی شرمیلی دلہن اب تو ہر روز ہی اک آنچ نئی اٹھتی ہے یہ مرا جسم نہ بن جائے دہکتا مدفن اس سے پہلے کہ صبا آنکھ مچولی کھیلے بند کر دو در ...

مزید پڑھیے

سسکتے پھولوں کا کوئی بھی درد مند نہیں

سسکتے پھولوں کا کوئی بھی درد مند نہیں مہک سے پیار ہے معصومیت پسند نہیں چلو تو ہم بھی سمندر کوئی تلاش کریں سنا ہے ریت کی دیوار کچھ بلند نہیں لہکتی شاخ لہو میں نہ کیوں نہا اٹھے صبا کے پاس سجاوٹ کی وہ کمند نہیں جو سن سکو تو مجھے دھڑکنوں کی لے پہ سنو میں ایک ساز ہوں آواز کا سمند ...

مزید پڑھیے

ابھرا جو چاند اونگھتی پرچھائیاں ملیں

ابھرا جو چاند اونگھتی پرچھائیاں ملیں ہر روشنی کی گود میں تنہائیاں ملیں شہر وفا میں ہم جو چلے آئے دفعتاً ہر ہر قدم پہ درد کی شہنائیاں ملیں غنچے ہنسے تو حسن کا کوسوں پتہ نہ تھا روٹھی ہوئی کچھ ایسی بھی رعنائیاں ملیں ذہن خلش سے دیکھا جو ایوان خواب کو خواہش کو پوجتی ہوئی ...

مزید پڑھیے

وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا اب اس کا حال بتائیں کیا

وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا اب اس کا حال بتائیں کیا کوئی مہر نہیں کوئی قہر نہیں پھر سچا شعر سنائیں کیا اک ہجر جو ہم کو لاحق ہے تا دیر اسے دہرائیں کیا وہ زہر جو دل میں اتار لیا پھر اس کے ناز اٹھائیں کیا پھر آنکھیں لہو سے خالی ہیں یہ شمعیں بجھانے والی ہیں ہم خود بھی کسی کے سوالی ہیں اس ...

مزید پڑھیے

ہم بھی بدل گئے تری طرز ادا کے ساتھ ساتھ

ہم بھی بدل گئے تری طرز ادا کے ساتھ ساتھ رنگ حنا کے ساتھ ساتھ شوخئ پا کے ساتھ ساتھ نکہت زلف لے اڑی مثل خیال چل پڑی چلتا ہے کون دیکھیے آج حنا کے ساتھ ساتھ اتنی جفا طرازیاں اتنی ستم شعاریاں تم بھی چلے ہو کچھ قدم اہل وفا کے ساتھ ساتھ وحشت درد ہجر نے ہم کو جگا جگا دیا نیند کبھی جو آ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3860 سے 4657