شاعری

مری مشکل اگر آساں بنا دیتے تو اچھا تھا

مری مشکل اگر آساں بنا دیتے تو اچھا تھا لبوں سے لب دم آخر ملا دیتے تو اچھا تھا میں جی سکتا تھا بس تیری ذرا سی اک عنایت سے مرے ہاتھوں میں ہاتھ اپنا تھما دیتے تو اچھا تھا مری بیتاب دھڑکن کو بھی آ جاتا قرار آخر مرے خوابوں کی دنیا کو سجا دیتے تو اچھا تھا تمہاری بے رخی پر دل مرا بے چین ...

مزید پڑھیے

کوئی نہیں ہمارا پرسان حال اب کے

کوئی نہیں ہمارا پرسان حال اب کے پہلے سے بھی شکستہ آیا ہے سال اب کے ہمت تو آ گئی تھی دکھ جھیلنے کی لیکن آیا ہے غم ہی چل کے اک اور چال اب کے کی ہے بہت عبادت فرقت میں آنسوؤں نے یزداں تو کر لے ان کا کچھ تو خیال اب کے باتوں کی نغمگی سب آہوں میں ڈھل گئی ہے پھیلا اداسیوں کا کیسا یہ جال اب ...

مزید پڑھیے

جیون بھر کی آس ہے تو

جیون بھر کی آس ہے تو جینے کا احساس ہے تو تن سے ہے تو دور مگر من کے پھر بھی پاس ہے تو شاید تو ہے ایک سراب لیکن میری پیاس ہے تو تجھ ہی سے ہو جیسے بقاء ایسا اک احساس ہے تو بزم ہو یا تنہائی ہو ہر جا دل کو راس ہے تو

مزید پڑھیے

ان گنت عذاب ہیں رتجگوں کے درمیاں

ان گنت عذاب ہیں رتجگوں کے درمیاں درد بے حساب ہیں رتجگوں کے درمیاں بن چکا ہے دل سوال اب کسی کے ہجر میں اس پہ لا جواب ہیں رتجگوں کے درمیاں اشک روک روک اب شل ہوئے ہیں حوصلے ہر سمے عتاب ہیں رتجگوں کے درمیاں کاش وہ ملے کہیں تو بتاؤں میں اسے کس قدر سراب ہیں رتجگوں کے درمیاں سو چراغ ...

مزید پڑھیے

وجود عشق کا کوئی سرا ملا نہیں ملا

وجود عشق کا کوئی سرا ملا نہیں ملا خودی ملی نہیں ملی خدا ملا نہیں ملا تمام شہر میں ملے گلے ہزار رات سے مگر کہیں کسی جگہ دیا ملا نہیں ملا تمہیں ہماری روح کے نشاں ملے نہیں ملے ہمیں تمہارے جسم کا پتا ملا نہیں ملا یہ عہد رد کا عہد تھا سو رسم مسترد ہوئی مسیح وقت دار پر کھڑا ملا نہیں ...

مزید پڑھیے

خاموشی کے در پردہ محسوس کیا

خاموشی کے در پردہ محسوس کیا تیری آنکھوں کو اپنا جاسوس کیا ہم پر تو اک عشق کی آفت اتری تھی دیوار و در کو کس نے منحوس کیا چوکھٹ پر بیٹھا ہے کس خاموشی سے دروازے کو دستک نے مانوس کیا تیرے ہجر کا چاقو یوں تو کاری تھا لیکن زخموں نے کتنا مایوس کیا تو نے خط میں پھول بنا کر بھیجا ...

مزید پڑھیے

وہ زندگی سے کیا گیا دھواں اڑا کے رکھ دیا

وہ زندگی سے کیا گیا دھواں اڑا کے رکھ دیا مکاں کے اک ستون نے مکاں گرا کے رکھ دیا وہ راہ سے چلا گیا تو راہ موڑ بن گئی مرے سفر نے راستہ کہاں چھپا کے رکھ دیا کسی دیے کی طرز سے گزر رہی ہے زندگی یہاں جلا کے رکھ دیا وہاں بجھا کے رکھ دیا وجود کی بساط پر بڑی عجیب مات تھی یقیں لٹا کے اٹھ گئے ...

مزید پڑھیے

پندار شب غم کا دربار سلامت ہے

پندار شب غم کا دربار سلامت ہے پر شمع فروزاں کا انکار سلامت ہے آئین زباں بندی زنداں پہ نہیں لاگو زنجیر سلامت ہے جھنکار سلامت ہے تم پا بہ شکستہ بھی افراز سری دیکھو دستور سلامت ہے دستار سلامت ہے نشہ نہیں پیمانہ آنکھیں نہیں دل دیکھو مقدار سلامت ہے معیار سلامت ہے اب جو بھی نہیں ...

مزید پڑھیے

اس قدر ٹوٹ کر ملا ہے کوئی

اس قدر ٹوٹ کر ملا ہے کوئی جیسے مجھ سے بچھڑ رہا ہے کوئی میرے آنگن میں کیسی خوشبو ہے جیسے اٹھ کر ابھی گیا ہے کوئی آج بھی چاہتوں کی آنکھوں سے قطرہ قطرہ ٹپک رہا ہے کوئی جسم بیدار ہو رہا ہے مرا میری بانہوں میں سو رہا ہے کوئی سانس ساحل کو چھوتے رہتے ہیں میرے سینے میں ڈوبتا ہے کوئی

مزید پڑھیے

شہر وحشت کو خواب گر تو ملے

شہر وحشت کو خواب گر تو ملے آئنے سے مری نظر تو ملے گھر میں سایہ تو ٹھیک ہیں لیکن دھوپ دیوار کے ادھر تو ملے میں کہیں اور دے تو دوں دستک پر مجھے اور کوئی در تو ملے وہ میرے دن کی بھی ضرورت ہے ورنہ اک شخص رات بھر تو ملے دیکھنے والا کیا کرے آخر ڈوبنے والا ہاتھ بھر تو ملے

مزید پڑھیے
صفحہ 3862 سے 4657