شاعری

تھم تھم کے بارشیں اب جلوہ دکھا رہی ہیں

تھم تھم کے بارشیں اب جلوہ دکھا رہی ہیں اس پر تمہاری یادیں ہم کو ستا رہی ہیں دل کس طرح رہے گا آخر ہمارے بس میں ساون کی بھینی رت ہے پریاں بھی گا رہی ہیں بوندیں ہیں یا شجر پر شمعیں ہوئی ہیں روشن یہ ڈالیاں بھی دیکھو کیا مسکرا رہی ہیں دھرتی پہ سبز چادر اللہ نے بچھا دی آؤ بہاریں تم کو ...

مزید پڑھیے

چلو کے مل کے بدل دیتے ہیں سماجوں کو

چلو کے مل کے بدل دیتے ہیں سماجوں کو مٹا دیں سارے زمانے کے بد رواجوں کو فقط دلوں کو ملانے سے کچھ نہیں ہوتا بنے گی بات ملاؤگے جب مزاجوں کو سروں کی بھیڑ تو اکثر مچائے ہنگامہ سنوارو سوچ سے تم اپنے احتجاجوں کو سنا ہے ہنسنے سے چہرہ پہ نور آتا ہے کہاں سے پورا کریں اتنی احتجاجوں ...

مزید پڑھیے

لگا کے غوطہ سمندر میں تم گہر ڈھونڈو

لگا کے غوطہ سمندر میں تم گہر ڈھونڈو کمال جینے میں ہے جینے کے ہنر ڈھونڈو مقدروں سے ہی سب کچھ تو مل نہیں سکتا شجر لگاؤ تو محنت کے پھر ثمر ڈھونڈو اڑان بھرنے کے ہے واسطے فلک سارا ہیں بازوؤں میں جو پنہاں وہ بال و پر ڈھونڈو ہر ایک رات میں تو چاندنی نہیں کھلتی دہک رہا ہے کہیں تم میں ہی ...

مزید پڑھیے

قضا ہو سر پہ مگر زندگی کی باتیں ہوں

قضا ہو سر پہ مگر زندگی کی باتیں ہوں نہیں ہے عشق مگر عاشقی کی باتیں ہوں چراغ کی طرح جلتے رہو زمانے میں جہاں بھی جاؤ وہاں روشنی کی باتیں ہوں تم اپنے دل کو منور کرو محبت سے وہاں نہ بیٹھو جہاں تیرگی کی باتیں ہوں ہم اپنے سارے غموں کو بھلا کے بیٹھے ہیں ہمارے سامنے بس اب خوشی کی باتیں ...

مزید پڑھیے

پرواز کا تھا شوق مجھے آسمان تک

پرواز کا تھا شوق مجھے آسمان تک بجلی گری تو جل گئے کھیتوں کے دھان تک کچے گھروں کے گاؤں میں برسات رہ گئی پکی سڑک بنی بھی تو پکے مکان تک کیسے بتاؤں تم کو اولمپک میں کیا ہوا میری تو اپنی دوڑ ہے گھر سے دکان تک پروردگار میرے گناہوں کو بخش دے مجھ کو سنائی دیتی نہیں اب اذان تک بچے نے ...

مزید پڑھیے

مری سچائی ہر صورت تری مٹھی سے نکلے گی

مری سچائی ہر صورت تری مٹھی سے نکلے گی انگوٹھی گر کے دریا میں کسی مچھلی سے نکلے گی فقیروں کو تو اپنی شان و شوکت کیا دکھاتا ہے حکومت سارے عالم کی مری گٹھری سے نکلے گی میں تنہا ہی نہیں جو بے سبب سچ بول دیتے ہیں یہ بیماری غریبوں کی ہر اک بستی سے نکلے گی انہیں زخموں کو میرے درد کا ...

مزید پڑھیے

صداقت سادگی اوڑھے بلندی تھام لیتی ہے

صداقت سادگی اوڑھے بلندی تھام لیتی ہے شہنشہ کی رسائی کو فقیری تھام لیتی ہے الجھ کر رنگ و بو میں عشق کی معصوم سی بچی مٹھائی کی دکانوں میں جلیبی تھام لیتی ہے میں اس کے روبرو ہر بات اپنی بھول جاتا ہوں وہ کچھ کہنے جو آتی ہے سہیلی تھام لیتی ہے یہ کس کا دل دکھا کر اپنے گاؤں سے میں نکلا ...

مزید پڑھیے

فقیروں کا چلن یوں جسم کے اندر مہکتا ہے

فقیروں کا چلن یوں جسم کے اندر مہکتا ہے مری پگڑی بھی گر جائے تو میرا سر مہکتا ہے وہ اپنے ہاتھ میں اک پھول بھی لے کر نہیں آیا مگر جیسے کوئی گلشن مرے اندر مہکتا ہے مجھے دیکھے بنا اس کا کبھی چہرا نہیں کھلتا عجب خوشبو کا جھونکا ہے مجھے چھو کر مہکتا ہے پری کی داستانوں سے معطر ہے ادھر ...

مزید پڑھیے

دل کو قرار ملتا ہے اکثر چبھن کے بعد

دل کو قرار ملتا ہے اکثر چبھن کے بعد نیندیں سہانی آتی ہیں دن کی تھکن کے بعد بے کار سی جوانی ہے جس پر ستم نہ ہو شیریں ہوا شجر پہ ثمر بھی تپن کے بعد آنگن تھا جب تلک یہ نہ دل کو لبھا سکا یادیں وطن کی آئی ہیں ترک وطن کے بعد دامن بھگو کے بیٹھیں ہیں خوشیوں کی راہ میں اکثر بہار آتی ہے رت ...

مزید پڑھیے

وو کوئی سچ تھا یا جھوٹا کوئی فسانہ تھا

وو کوئی سچ تھا یا جھوٹا کوئی فسانہ تھا ہمیں ملا کیوں نہیں جس کو ہم نے چاہا تھا میں کیا کہوں کہ وہ قاتل تھا یا مسیحا تھا مگر اداؤں سے لگتا بڑا ہی پیارا تھا حسین آس کو ان قربتوں نے توڑ دیا سراب نکلا جسے دریا ہم نے سمجھا تھا مہک رہا ہے ابھی تک حنائی ہاتھوں سا ہتھیلی پہ جو مرا نام تم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 383 سے 4657