شاعری

دل نے پھر چاہا اجالے کا سمندر ہونا

دل نے پھر چاہا اجالے کا سمندر ہونا پھر اماوس کو ملا میرا مقدر ہونا دوستو میں تو نہ مانوں گا وہ ہے خشک مزاج اس نے آنکھوں کو سکھایا ہے مری تر ہونا آج سنتے ہیں وہ مائل بہ کرم آئے گا اے مری روح مرے جسم کے اندر ہونا میرے ہونٹوں پہ جمی پیاس گواہی دے گی میں نے قطرہ کو سکھایا تھا سمندر ...

مزید پڑھیے

دھوپ ہوتے ہوئے بادل نہیں مانگا کرتے

دھوپ ہوتے ہوئے بادل نہیں مانگا کرتے ہم سے پاگل ترا آنچل نہیں مانگا کرتے ہم بزرگوں کی روایت سے جڑے ہیں بھائی نیکیاں کر کے کبھی پھل نہیں مانگا کرتے چھین لو ورنہ نہ کچھ ہوگا ندامت کے سوا پیاس کے راج میں چھاگل نہیں مانگا کرتے

مزید پڑھیے

کوئی وعدا نہ دیں گے دان میں کیا

کوئی وعدا نہ دیں گے دان میں کیا جھوٹ تک اب نہیں زبان میں کیا میری حالت پہ آنکھ میں آنسو درد در آیا کچھ چٹان میں کیا کیوں جھجھکتا ہے بات کہنے میں جھوٹ ہے کچھ ترے بیان میں کیا سچ عدالت میں کیوں نہیں بولے کانٹے اگ آئے تھے زبان میں کیا رات دن سنتا ہوں تری آہٹ نقص پیدا ہوا ہے کان ...

مزید پڑھیے

ظلم کو تیرے یہ طاقت نہیں ملنے والی

ظلم کو تیرے یہ طاقت نہیں ملنے والی دیکھ تجھ کو مری بیعت نہیں ملنے والی لوگ کردار کی جانب بھی نظر رکھتے ہیں صرف دستار سے عزت نہیں ملنے والی شہر تلوار سے تم جیت گئے ہو لیکن یوں دلوں کی تو حکومت نہیں ملنے والی راستے میں اسے دیکھا ہے کئی روز کے بعد آج تو رونے کو فرصت نہیں ملنے ...

مزید پڑھیے

ریشم ریشم تتلی دیکھوں خواب نگر کی وادی میں

ریشم ریشم تتلی دیکھوں خواب نگر کی وادی میں کس کی خوشبو پھیل رہی ہے دل کی ویراں بستی میں ست رنگی سپنوں میں چہرہ ست رنگی ہو جائے ہے اندر دھنش کا رنگ ملا ہے تمرے نام کی ہلدی میں یوں تو بابلی کے پنگھٹ پر سکھیوں کے سنگ بیٹھی ہوں لیکن من کی گوری چپکے چپکے اترے پانی میں ہاتھوں کی ...

مزید پڑھیے

تھکن کی تلخیوں کو ارمغاں انمول دیتی ہے

تھکن کی تلخیوں کو ارمغاں انمول دیتی ہے تری بولی مری چائے میں چینی گھول دیتی ہے نہ جانے منتظر کس کی ہے اک نادان سی لڑکی کوئی آہٹ جو سنتی ہے دریچہ کھول دیتی ہے کہاں کانٹے بچھے ہوں گے کدھر سے آئیں گے پتھر مری ماں خواب میں آ کر مجھے سب بول دیتی ہے کہیں پر بیٹھ کر سنسان رستہ شام تک ...

مزید پڑھیے

اسے تو خواب کسی اور کے سہانے لگے

اسے تو خواب کسی اور کے سہانے لگے ہمارے دل سے نکلتے جسے زمانے لگے ہمارے دل میں نئے خوف سر اٹھانے لگے پرندے جب بھی کہیں گھونسلے بنانے لگے جنہیں پناہ دی ہم نے وہی بچا کے نظر ہمارے گھر میں نئے راستے بنانے لگے ہماری کم نگہی پہ وہ خود بھی حیراں تھا ہم اپنا جان کے جس کو گلے لگانے ...

مزید پڑھیے

جدا بھی مجھ سے ہوا وہ تو پیار میرا رہا

جدا بھی مجھ سے ہوا وہ تو پیار میرا رہا بس اس پہ ایک یہی اختیار میرا رہا جو دشمنوں سے ملا تھا تو کیا غرض مجھ کو تمام عمر تو وہ شخص یار میرا رہا وفا پرست جو دو چار ہیں زمانے میں مرا نصیب کہ ان میں شمار میرا رہا گرا جو کٹ کے بدن سے تو جھک گئے سب لوگ بغیر تاج کے سر تاجدار میرا رہا گزر ...

مزید پڑھیے

اس جہاں میں بھی کہیں اپنا سہارا کوئی ہے

اس جہاں میں بھی کہیں اپنا سہارا کوئی ہے آسمانوں میں بھی لگتا ہے ہمارا کوئی ہے یوں تو کہنے کو سبھی سے ہیں مراسم اپنے مان لیں کیسے کہ ان سب میں ہمارا کوئی ہے شوق سے جان پہ سہہ لیں جو ہمیں ہو معلوم فیصلہ ہے یہ اب اس کا کہ اشارا کوئی ہے کاٹ لیتا ہے شب و روز تو وہ بھی آخر جس کی منزل ہے ...

مزید پڑھیے

کہاں رہی ہے محبت کی آس شہروں میں

کہاں رہی ہے محبت کی آس شہروں میں بدل لئے ہیں سبھی نے لباس شہروں میں سگان تشنہ ہر اک رہ گزر پہ بیٹھے ہیں رہا نہیں ہے اب انساں کا پاس شہروں میں مسیحی خوں ہو کہ شیعہ ہو احمدی سنی لہو کی بڑھتی ہی جاتی ہے پیاس شہروں میں لہو کے آخری قطرے بھی بے جزا ٹھہرے کہاں سے آئیں گے اب حق شناس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 384 سے 4657