شاعری

اب کوئی اور مصیبت تو نہ پالی جائے

اب کوئی اور مصیبت تو نہ پالی جائے اس کی یادوں سے بھی اب جان چھڑا لی جائے وہ بھی میرے لیے کچھ سوچتا ہے سوچتا ہوں کیسے دل سے مرے یہ خام خیالی جائے زیست بے ربط ہے پر ہے تو خدا کی نعمت جس طرح سے بھی یہ نبھتی ہے نبھا لی جائے ایسے بھی دوست ہیں کچھ جن کا یہی مقصد ہے وار کیا ان کی کوئی بات ...

مزید پڑھیے

کیا آسماں سے ربط یقیں محو خواب ہے

کیا آسماں سے ربط یقیں محو خواب ہے سوئی ہوئی ہے خاک زمیں محو خواب ہے ہے نیند میں اطاعت و عرفاں کا سلسلہ سجدوں کے ساتھ ساتھ جبیں محو خواب ہے سوئے ہوئے تو سوئے ہیں دیکھو مگر یہاں جو جاگتا ہے وہ بھی کہیں محو خواب ہے یہ شہر گہری نیند میں جاتا نہیں کبھی ہر شخص اپنے اپنے تئیں محو خواب ...

مزید پڑھیے

عشق سے میں ڈر چکا تھا ڈر چکا تو تم ملے

عشق سے میں ڈر چکا تھا ڈر چکا تو تم ملے دل تو کب کا مر چکا تھا مر چکا تو تم ملے جب میں تنہا گھٹ رہا تھا تب کہاں تھی زندگی دل بھی غم سے بھر چکا تھا بھر چکا تو تم ملے بے قراری پھر محبت پھر سے دھوکہ اب نہیں فیصلہ میں کر چکا تھا کر چکا تو تم ملے میں تو سمجھا سب سے بڑھ کر مطلبی تھا میں ...

مزید پڑھیے

آ کر عروج کیسے گرا ہے زوال پر

آ کر عروج کیسے گرا ہے زوال پر حیران ہو رہا ہوں ستاروں کی چال پر اک اشک بھی ڈھلک کے دکھائے اب آنکھ سے میں صبر کر چکا ہوں تمہارے خیال پر آ آ کے اس میں مچھلیاں ہوتی رہیں فرار ہنستی ہے جل پری بھی مچھیروں کے جال پر مایوس ہو کے دیکھنا کیا آسمان کو اڑنے کا شوق ہے تو مری جاں نکال ...

مزید پڑھیے

کیا خبر اپنے ٹھکانے کی طرف لوٹ آئے

کیا خبر اپنے ٹھکانے کی طرف لوٹ آئے خود بہ خود تیر نشانے کی طرف لوٹ آئے سنگ لوٹ آئے پہاڑوں کی طرف آخر کار آئنے آئنہ خانے کی طرف لوٹ آئے جب کھلا ان پہ کہ نقشہ مرے صندوق میں ہے اور کچھ سانپ خزانے کی طرف لوٹ آئے رات بدمست رہے ثابت و سیار کے ساتھ صبح ہوتے ہی زمانے کی طرف لوٹ آئے گارا ...

مزید پڑھیے

کون اتھا میں اترے میری کس پہ کھلے ہنگام مرا

کون اتھا میں اترے میری کس پہ کھلے ہنگام مرا اشک سے کیسے بھانپ سکو گے خون میں ہے کہرام مرا کوئی تو ساعت گزرے جس میں دو تہذیبیں وصل کریں کھینچ لوں میں زنار بدن پر باندھ لے تو احرام مرا بچ کے کہاں جاؤ گے آخر تم اتنے چالاک نہیں دشت کے چپے چپے پر تو بچھا ہوا ہے دام مرا ہرے بھرے انسان ...

مزید پڑھیے

میں نے وہ نظم لکھی ہے کہ خدا جانتا ہے

میں نے وہ نظم لکھی ہے کہ خدا جانتا ہے اس کا ہر لفظ خدائی کا پتا جانتا ہے میری آنکھوں میں یہ تصویر ذرا غور سے دیکھ مجھ کو اس شخص سے ملنا ہے بتا جانتا ہے میں بھی زنجیر نہیں ہوتا کسی وحشت سے وہ بھی تنہائی سے بچنے کی دعا جانتا ہے دن تو میں پھر بھی کسی ڈھب سے بتا لیتا ہوں رات جو مجھ پہ ...

مزید پڑھیے

عشق کیا ہے بے بسی ہے بے بسی کی بات کر

عشق کیا ہے بے بسی ہے بے بسی کی بات کر یہ بھی کوئی زندگی ہے زندگی کی بات کر کرب سے ٹوٹا نہیں میں درد سے مرتا نہیں مجھ پہ طاری بے حسی ہے بے حسی کی بات کر وقت سے لڑتا ہوا تقدیر سے الجھا ہوا میں نہیں ہوں سرکشی ہے سرکشی کی بات کر تو خدا جس کو بنانے پر بضد ہے نا سمجھ وہ فقط اک آدمی ہے ...

مزید پڑھیے

آج شب معراج ہوگی اس لیے تزئین ہے

آج شب معراج ہوگی اس لیے تزئین ہے وہ قدم اٹھے ہیں جن کو آسماں قالین ہے ماں نے پڑھ کر پھونک دی تھی مجھ پہ بچپن میں کبھی میرے دل پر نقش اب تک سورۂ یٰسین ہے اشک کے بوسے کی لذت کیا بتاؤں میں تمہیں کیا بتاؤں میں تمہیں یہ کس قدر نمکین ہے اس کو درویشی سمجھنے والوں پر حیران ہوں ہاتھ میں ...

مزید پڑھیے

جو کہا تھا تمہیں سنا بھی تھا

جو کہا تھا تمہیں سنا بھی تھا آزمانا نہیں کہا بھی تھا میرا ملنا نہیں ہوا لیکن میں تو اپنی طرف گیا بھی تھا عشق ہوتا ہے مانتا ہوں میں مجھ کو اک بار یہ ہوا بھی تھا یہ سزا جو بھگت رہے ہو تم کیا حقیقت میں کچھ کیا بھی تھا میرے مرنے کا کیا ہوا مطلب اس کا مطلب کہ میں جیا بھی تھا تم تو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3827 سے 4657