گماں کے تن پہ یقیں کا لباس رہنے دو
گماں کے تن پہ یقیں کا لباس رہنے دو کہ میرے ہاتھ میں خالی گلاس رہنے دو زمانہ گزرا ہے خوشیوں کا ساتھ چھوڑے ہوئے مرے مزاج کو اب غم شناس رہنے دو عمل کی رت میں پنپتی ہیں ٹہنیاں حق کی ملاؤ سچ سے نگاہیں قیاس رہنے دو وہ خواب کو بھی حقیقت سمجھ کے جیتے ہیں اسی میں خوش ہیں تو یہ التباس ...