اس نگاہ ناز نے یوں رات بھر تجسیم کی
اس نگاہ ناز نے یوں رات بھر تجسیم کی سب چراغوں میں برابر روشنی تقسیم کی رات پیچھے پڑ گئی تھی خوف کے سائے لیے خواب سے آگے نکل کر وقت میں ترمیم کی آئنہ ہو جائے گا یہ دشت مجھ پر ایک دن گرہیں کھلتی جا رہی ہیں احسن تقویم کی دونوں ہی آ کر الف کی روشنی میں ضم ہوئیں اک تجلی لام کی اور اک ...